سیرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 8

سیرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ

 نام مبارک: علیؓ

کنیت: ابوالحسن، ابوتراب۔

لقب: حیدر و مرتضیٰ۔

والد کا نام: ابو طالب۔

والدہ کانام: فاطمہ بنت اسد۔

سلسلہ نسب:

علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی القرشی ہاشمی۔

تاریخ پیدائش:

حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں صحیح قول کے مطابق آپ کی ولادت بعثت نبویﷺ سے دس برس قبل ہوئی۔

(الاصابۃ جلد، 2 صفحہ، 1294)

روافض نے بھی یہی لکھا پیدائش واقعہ فیل کے 30 سال بعد اور ہجرت سے 23 یا 25 سال پہلے مکہ مکرمہ میں ہوئی۔

(نورالابصار: صفحہ، 85)

قبول اسلام:

آپؓ کے والد جناب ابو طالب اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح خوشحال نہ تھے، مکہ کے مشہور قحط کی وجہ سے ان کی مالی حالت اور زیادہ کمزور ہو گئی تھی جبکہ آپ کثیر العیال تھے۔ حضور رحمت عالمﷺ سے آپ کی تکلیف نہ دیکھی گئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پرورش کی ذمہ داری اپنے ذمہ لے لی، اس طرح سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ آغوش رسالت میں پرورش پا کر شعور کی منزل کو پہنچے۔ بعثت کے ابتدائی ایام میں انہوں نے آپﷺ اور ام المؤمنین سیدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا کو نماز پڑھتے دیکھا تو حیرت سے دریافت کیا کہ آپ دونوں کیا کر رہے ہیں؟ رسول گرامیﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ اللہ کا دین ہے جس کو اللہ نے اپنے لیے پسند فرمایا ہے اور اسی کے لیے انبیائے کرامؑ کو مبعوث فرمایا ہے۔ میں تمہیں بھی خدائے وحدہ لاشریک کی طرف بلاتا ہوں جو تنہا معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔حضورﷺ کی صحبت اور تربیت کی برکتوں نے آپ کی فطرت سلیم کو پہلے ہی نِکھار دیا تھا چنانچہ ایک رات سوچنے کے بعد آپ نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ اسلام لانے سے پہلے آپ کا دامن عرب کی جاہلانہ رسومات اور بت پر ستی سے کبھی بھی داغدار نہ ہوا۔

ہجرت:

جب کفاران مکہ نے خفیہ طریقے سے حضور نبی رحمتﷺ کو قتل کرنے کا مکمل منصوبہ بنا لیا اور یہ معاملہ طے ہو گیا کہ آج رات ہر قبیلہ کا ایک نوجوان ننگی تلوار لے کر کا شانہ نبوت کا محاصرہ کرے گا اور پیغمبر اسلامﷺ پر اچانک حملہ کر کے ان کا کام تمام کر دے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے اپنے حبیبﷺ کو کفاروں کے مکر و فریب پر مطلع فرمایا۔حضور اکرمﷺ نے اس وقت سیدنا علیؓ کو بلایا اور ارشاد فرمایا کہ آج رات میرے بستر پر سو جانا اور میرے پاس جو مکہ والوں کی امانتیں ہیں انہیں واپس کر کے تم بھی مدینہ چلے آنا۔چنانچہ حضور اکرمﷺ اس رات حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہجرت کر گئے۔ اور حضرت علیؓ آپﷺ کے فرمان کے مطابق اُس رات جبکہ گھر کے چاروں طرف دشمنان اسلام ننگی تلواریں لیے پہرہ دے رہے تھے۔ آپ اطمینان کے ساتھ حضورﷺ کے بستر پر سوئے رہے اس کے بعد آپ تین دن تک اہلِ مکہ کی امانتوں کو واپس کرتے رہے پھر آپ بھی ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی:

سن 2 ہجری میں حضور نبی کریمﷺ نے اپنی سب سے چہیتی لخت جگر حضرت فاطمہؓ کا نکاح آپؓ کے ساتھ کر دیا اور بعد نکاح خیر و برکت کی دعا فر مائی۔ اور حافظ ابن حجرؒ نے الاصابہ میں تحریر فرمایا کہ نکاح ماہ رجب سن 1 ہجری میں ہوا اور رخصتی غزوہ بدر کے بعد سن 2 ہجری میں ہوئی۔ اس وقت حضرت سیدہ کی عمر مبارک 18 سال کی تھی۔ واللہ اعلم۔

(خلفائے راشدین: صفحہ، 432,433 معارف صحابہ: جلد اول، صفحہ، 349)

ازواج و اولاد سیدنا علی رضی اللہ عنہ:

1: حضرت فاطمہ بنت رسولﷺ

ان سے حضرت حسنؓ، حضرت حسینؓ، حضرت زینب الکبریٰؓ اور ام کلثومؓ پیدا ہوئیں۔

فائدہ: سیدہ ام کلثومؓ کا نکاح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ہوا۔

نوٹ: بعض روایات میں تیسرے صاحبزادے حضرت محسن رضی اللہ عنہ کا نام بھی ملتا ہے۔

دیگر ازواج اور اولاد:

حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہؓ کے علاؤہ مختلف اوقات میں کئی نکاح فرمائے اور ان سے اولادیں بھی ہوئیں۔

  1.  ام البنین بنت حذام، ان سے عباس، جعفر، عبداللہ اور عثمان
  1.  لیلیٰ بنت مسعود، ان سے عبیداللہ اور ابوبکر
  2.  اسماء بنت عمیس، ان سے محمد اصغر اور یحیٰ
  3. صہباء بنت ربیعہ، ان سے عمر اور رقیہ
  4. امامہ بنت ابی العاص، ان سے محمد اوسط
  5. خولہ بنت جعفر، ان سے محمد بن حنفیہ
  6.  سعید بنت عروہ، ان سے ام الحسن، رملۃ الکبریٰ اور ام کلثوم۔

نوٹ: یاد رہے کہ بیک وقت چار سے زائد نکاح نہیں فرمائے۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف کی حقیقت۔

جنگ جمل

جنگ جمل کا واقعہ نصف جمادی الاولیٰ یا عند البعض جمادی الثانی 36 ہجری میں پیش آیا تھا۔

شہادت سیدنا عثمانؓ کے بعد سیدنا علیؓ کو خلیفہ منتخب کیا گیا اور بیعت کی گئی تو اس میں سیدنا طلحہ بن عبیداللہؓ، سیدنا زبیر بن عوامؓ، دیگر اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہلِ مدینہ نے بھی بیعت کی۔

جب بیعت ہو چکی تو اس وقت حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور دیگر اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مطالبہ پیش کیا کہ آپ مسند خلافت پر تشریف فرما چکے ہیں اب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کے متعلق انتطام فرما دیں کیونکہ اگر ہم شہید مظلوم کا انتقام نہ لیں اور فسادیوں کا قلع قمع نہ کریں تو اللہ تعالیٰ کے عتاب و غضب کے مستحق ٹھہریں گے تو اس مطالبہ کے جواب میں سیدنا علیؓ نے یہ عذر پیش کیا کہ

ان ھولاء لہم مدد واعوان انہ لا یمکنہ ذلک یومہ ھذا

(البدایہ لابن کثیر: جلد، 7 صفحہ، 229 تحت ذکر بیعت خلافت علوی)

ان لوگوں کو مدد گار اور حمایتی میسر ہیں اس لیے یہ کام اس وقت نہیں ہوسکتا حالات کے سازگار ہونے کے بعد یہ ہو سکے گا۔

بہرحال اس جواب پر ان حضرات کو تشفی نہ ہوئی کیونکہ قاتلان حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر کے پناہ لی تھی۔

جیسا کہ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے تحریر کیا ہے

و قاتلان بجز آنکہ پناہی بحضرت مرتضیٰ بردند با او بیعت کنند علامے نیافشند وکیف ماکان عقد بیعت واقع

صفحہ 1 از 8