سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 9 از 11

چنانچہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اپنی اس سیاست کی تحدید کرتے ہوئے فرمایا! رومیوں کو چھوڑو، ان سے چھیڑ چھاڑ نہ کرو، یہاں تک کہ وہ خود میرے پاس آئیں اس طرح وہ خود آپس میں ذلت و خواری اٹھائیں۔ عمرو بن العاصؓ کا اندازہ صحیح ثابت ہوا۔ رومیوں نے دل کھول کر لوٹ مار اور فساد مچایا۔ مصری ان کی کارستانیوں سے چیخ اٹھے، اور اس انتظار میں لگ گئے جو انہیں ان مفسدین کے شر سے نجات دلائے۔ منویل نقیوس پہنچا۔

(نقیوس اسکندریہ و فسطاط کے درمیان ایک بستی ہے) سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اس سے مقابلہ کے لیے تیار ہوئے۔ اور اپنی فوج کو ترتیب دیا اور ان کے ساتھ اس سرکش دشمن کے مقابلہ کے لیے نکلے اور نقیوس قلعے کے پاس تیل کے ساحل پر دونوں فوجیں صف آراء ہوئیں، طرفین سے اپنی اپنی بہادری کا مظاہرہ کرایا گیا۔ دونوں فریق نے ڈٹ کر دشمن کا مقابلہ کیا۔ جس سے جنگ کی شدت اور اشتعال میں اضافہ ہوا۔ یہ صورت حال دیکھ کر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ دشمن کی صفوں میں گھس گئے اور اپنے گھوڑے کو ان کے گھوڑوں کے درمیان گھسا دیا، اپنی تلوار ان کی تلواروں کے درمیان لہرائی اور لوگوں کے سروں اور سرماؤں کی گردنوں کو کاٹتے چلے گئے ایک وقت آیا جب آپ کے گھوڑے کو تیر لگا اور وہ ڈھیر ہو گیا، اس وقت آپ زمین پر آ گئے اور پیادہ صفوں میں شامل ہو گئے۔ آپ کو اس حالت میں دیکھ کر مسلمان جنگ کے لیے شیروں کی طرح ٹوٹ پڑے، تلواروں کی جھنکار ان کو خوف زدہ نہ کر سکیں۔

مسلمانوں کے حملوں کے سامنے رومیوں کے عزائم پست ہو گئے اور ان کی قوتوں نے جواب دے دیا، رومیوں کی شکست دیکھ کر مصری نکل کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کے لیے ان راستوں کو درست کرنے لگے جس کو دشمن نے تباہ و برباد کر دیا تھا، ان پلوں کی تعمیر کرنے لگے جس کو انہوں نے توڑا تھا۔ اس دشمن پر مسلمانوں کی فتح دیکھ کر مصریوں نے اپنی خوشی کا اظہار کیا، جس نے ان کی عزتوں کو لوٹا تھا، ان کے مال و جائیداد کو برباد کیا تھا۔ جب عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اسکندریہ پہنچے تو اس کا محاصرہ کر لیا اور منجنیقیں نصب کر لیں اور گولہ باری بھی جاری رہی یہاں تک کہ اسکندریہ کے لوگوں کی ہمت پست ہو گئی۔ اس لڑائی میں منویل مارا گیا اور مسلمان اسکندریہ میں فاتحانہ طریقے سے داخل ہوتے ہوئے شہر کے وسط میں پہنچ گئے۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اس وقت جنگ سے رک جانے کا حکم دیا جب کہ مقابلے کے لیے ان کے سامنے کوئی باقی نہ رہا۔ غرض یہ کہ اسکندریہ فتح ہو گیا۔ 

(سیدنا عثمان بن عفان: شخصیت و کارنامے، تالیف ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابی) 

کتاب مذکور میں یہ بھی مؤلف نے لکھا ہے کہ اسکندریہ سے مشرق و جنوب پر مسلمانوں کا قبضہ تھا جب کہ مغرب کی طرف برقہ، زویلہ اور مغربی طرابلس کو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فتح کر کے جزیہ پر مصالحت کے عوض اس جہت کو مامون بنا لیا تھا۔ البتہ شمال میں رومی پڑتے تھے، لیکن اولاً وہ اس قدر شکست خوردہ ہو چکے تھے کہ دوبارہ اس طرف رخ کرنے کی ہمت نہیں کر سکتے تھے کیونکہ ان کا کوئی معین و مددگار یہاں باقی نہ رہا تھا اور مسلم فوجیں نہایت مستعدی اور اہتمام کے ساتھ سمندر کی نگرانی پر لگی ہوئی تھیں۔

فتوحاتِ عثمانیؓ:

جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروقؓ کی شہادت کے بعد مخالفین اسلام نے یہ سمجھنا شروع کر دیا تھا کہ اب مسلمان کمزور ہو چکے ہیں۔ کیونکہ سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ ایک حیرت انگیز مدبر و مفکر اور معاملہ فہم تھے۔ مزید یہ کہ ان کے دور میں جمیع مسلمان رشتہ وحدت میں منسلک تھے۔ انہوں نے وحدت عقیدہ، وحدت جنس و قوم اور وحدت زبان و بیان کے ذریعے تمام اہلِ اسلام کو مستحکم و مربوط اور متحد بنا دیا تھا۔ اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے خلافت و حکومت کے وہ آئین و قانون وضع کیے جو بعد میں ایک مثالی حکومت کی اساس قرار پائے۔ اس لحاظ سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اسلام کے سیاسی نظام کا بانی قرار دیا جا سکتا ہے۔

جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفۃ المسلمین منتخب ہوئے تو شرپسند عناصر نے آپ کے خلاف سازشیں اور بغاوتیں شروع کر دیں خصوصاً ایران کے اکثر علاقوں میں شدید مخالفت شروع ہوئی، اور خلیفہ ثالث کے بارے میں لوگوں کی عقول و اذہان میں یہ خیال پیدا کیا گیا کہ خلافتِ عثمانی فتنہ و فساد کا دور ثابت ہو گا۔

جو مخالفین کا ایک بڑا مغالطہ تھا۔ خلفاءِ اربعہ میں سب سے زیادہ طویل دورِ خلافت سیدنا عثمان غنیؓ کا دورِ مسعود ہے۔ امیر المؤمنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کا عرصہ تقریباً بارہ سال رہا ان کے دورِ خلافت میں کئی فتوحات ہوئیں اور مجاہدینِ اسلام اپنی جرأت و ہمت اور جذبے سے آگے بڑھتے گئے اور فتوحات کا دائرہ بھی وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔

امیر المؤمنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اگرچہ حلیم الطبع تھے لیکن ملکی معاملات میں سختی و احتساب اور سنجیدگی کو اپنا شعار بنایا۔ اطراف ملک کے حالات لوگوں سے دریافت کرتے اور ان کے حالات غور و فکر سے سماعت فرماتے ، تمام ملک میں اعلانِ عام تھا کہ جس شخص کو کسی عامل و گورنر سے کوئی شکایت ہو تو وہ حج کے موقعہ پر آ کر بیان کرے۔

فتح رَے:

پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ خلافت عثمانی کے سالِ اول میں ملک رَے فتح ہوا اور اسی کو امام سیوطی نے اپنی کتاب تاریخ الخلفاء میں بیان کیا ہے۔

معجم البلدان کی تلخیص میں لکھتے ہیں رَے طہران کے جنوب مشرق میں ایک اہم شہر ہے، جو امام فخر الدین رازیؒ، ابوبکر الرازیؒ اور دیگر متعدد حکماء و علماء کا مولد تھا۔ بعض نے لکھا ہے کہ یہ علاقہ دریائے جیحون کے ساحل پر بخارا کے سامنے واقع ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

علامہ بلاذریؒ نے فتح رَے سے متعلق کچھ طویل لکھا ہے جس کا خلاصہ اور مفہوم اس طرح ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدنا عمار بن یاسرؓ کو لکھا جو اس وقت کوفہ کے عامل تھے۔ يأمره أن يبعث عروة بن زيد الخيل الطائي إلى الرّيّ ودستبى في ثمانية آلاف، ففعل وسار عروة لذلك فجمعت له الديلم وأمدوا أهل الرّيّ۔

صفحہ 9 از 11