سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 8 از 11

عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے اکابرین جماعت اصحاب الرسول سے مشورہ کر کے اپنے تمام لشکر کو تیار رکھا، گھوڑوں اور دیگر سامان حرب کو تیار کیا تاکہ لڑائی کو حتمی شکل دی جائے۔ آخر کار خوب لڑائی ہوئی، ظہر تک گھمسان کی جنگ جاری رہی، جب اذان ظہر ہوئی تو رومیوں نے اپنے خیموں میں واپس ہونا چاہا لیکن عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان کو موقع نہ دیا۔ شدید لڑائی جاری رکھی حتیٰ کہ وہ تھک گئے، پھر دونوں فریق اپنے اپنے خیموں میں واپس ہوئے اور اپنے ہتھیار اتار کر آرام کرنے لگے، عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان تازہ مجاہدین کو جن کو خیموں میں رکھا تھا، ساتھ لیا اور اچانک رومیوں پر ٹوٹ پڑے اور ان کے اندر گھس کر یکدم ہلہ بول دیا۔ ان کو اسلحہ اٹھانے کا موقع تک نہیں مل سکا۔ اس ہلہ میں جرجیر کو مجاہد اسلام عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے قتل کیا۔ رومیوں کو شکست فاش ہوئی اور کثیر تعداد میں لوگ قتل ہوئے اور جرجیر کی بیٹی کو قید کر لیا گیا۔

امیر عبد اللہؓ نے شہر کا کنٹرول سنبھال لیا اور مال و متاع بھی قبضہ میں لے لیا۔ شہسوار کو تین ہزار دینار اور پیادہ کو ایک ہزار دینار غنیمت میں ملے۔ جیسا کہ علامہ ابن الاثیرؒ نے اپنی کتاب الکامل فی التاریخ میں بیان کیا ہے۔

وَلَمَّا فَتَحَ عَبْدُ اللَّهِ مَدِينَةَ سُبَيْطِلَةَ بَثَّ جُيُوشَهُ فِي الْبِلَادِ فَبَلَغَتْ قَفْصَةَ، فَسَبَوْا وَغَنِمُوا، وَسَيَّرَ عَسْكَرًا إِلَى حِصْنِ الْأَجَمِ، وَقَدِ احْتَمَى بِهِ أَهْلُ تِلْكَ الْبِلَادِ، فَحَصَرَهُ وَفَتَحَهُ بِالْأَمَانِ، فَصَالَحَهُ أَهْلُ إِفْرِيقِيَّةَ عَلَى أَلْفَيْ أَلْفٍ وَخَمْسِمِائَةِ أَلْفِ دِينَارٍ، وَنَفَّلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ابْنَةَ الْمَلِكِ، وَأَرْسَلَهُ إِلَى عُثْمَانَ بِالْبِشَارَةِ بِفَتْحِ إِفْرِيقِيَّةَ۔

جب عبد اللہ بن زبیرؓ نے شہر سبیطلہ کو فتح کر کے اپنی فوجوں کو ملک کے مختلف علاقوں میں بھیج دیا۔ دشمن فوج قبضے میں آ گئی جہاں انہیں قیدی اور مال غنیمت ہاتھ آئے۔ اجمر قلعہ پر آپؓ نے فوج کشی کی، جس کے باعث لوگ قلعہ میں محصور ہو گئے۔ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کا محاصرہ کر لیا اور اسے احسن انداز اور امان سے فتح کیا۔ افریقہ کے لوگوں نے آپ سے مصالحت کر لی۔ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو جرجیر کی بیٹی عطیہ میں ملی اور ان کو عبد اللہ بن سعد نے فتح کی بشارت دے کر سیدنا عثمان غنیؓ کے پاس روانہ کیا۔

(الکامل فی التاریخ لابن اثیر)

فتح اسکندریہ:

اسکندریہ مصر کی معروف بندرگاہ کا نام ہے۔ اس علاقہ کو سکندر اعظم نے آباد کیا تھا اور تمام مصر سکندر اعظم کے قبضہ میں تھا جب سکندری حکومت کا نظام کمزور ہوا تو بطالسہ برسرِ اقتدار آ گئے جو ایک طویل عرصہ تک رہے اس خاندان میں 12 بادشاہ ہوئے اور وہ بطلیموس کے لقب سے معروف ہوئے۔ مذکورہ 12 بادشاہوں کے بعد رومی قابض ہو گئے۔ جو ایک طویل عرصہ تک حکومت کرتے رہے پھر ایک وقت آیا کہ اسکندریہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا اور رومی محکوم ہو گئے جو رومیوں کو سخت ناگوار ہوا ، وہ دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش میں لگے رہے اور اہلِ اسکندریہ کو بھی بغاوت پر خوب اکساتے رہتے، انہیں اس بات کا یقین ہو چکا تھا کہ اگر رومیوں سے اسکندریہ ہاتھ سے بالکل نکل گیا تو ان کے استقرار و وجود کو خطرہ لازم ہو گا۔ رومیوں کا اشتعال دلانا اور ابھارنا اسکندریہ کے رومی لوگوں کی خواہشات نفس کے عین مطابق ثابت ہوا۔ اس طرح انہوں نے ان کی بغاوت کی دعوت قبول کر لی اور قسطنطین بن ہرقل کو خط بھیجا جس میں اہلِ اسلام کی قلت تعداد اور اسکندریہ میں رومیوں کی ذلت و رسوائی کا تذکرہ کیا۔ اس وقت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ مصر سے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو معزول کر کے ان کی جگہ عبد اللہ بن سعد ابی سرح رضی اللہ عنہ کو مقرر کر چکے تھے اسی دوران رومیوں کا کمانڈر انچیف منویل نے اسکندریہ کا رخ کیا تا کہ اس کو مسلمانوں سے واپس لے، اس کے ساتھ بہت بڑا لشکر 300 کشتیوں میں پورے جنگی ساز و سامان کے ساتھ اسکندریہ پہنچا۔ جب اہلِ مصر کو خبر ملی کہ رومی فوج اسکندریہ پہنچ چکی ہے تو انہوں نے امیر المؤمنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو لکھا اور ان سے مطالبہ کیا کہ عمرو بن العاصؓ کو واپس ان کی جگہ پر بحال کیا جائے تا کہ رومیوں کا مقابلہ کیا جا سکے، کیونکہ انہیں اس کا طویل تجربہ ہے اور رومیوں کے دلوں میں عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی ہیبت سمائی ہوئی ہے، اہلِ مصر کے اس مطالبہ کو قبول کرتے ہوئے سیدنا عثمان غنیؓ نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو مصر کی امارت پر بحال کر دیا۔

منویل کی فوج نے اسکندریہ میں خوب لوٹ مار مچائی اور اس کو زمین دوز کر کے اس کے ارد گرد بستیوں میں ظلم و ستم برپا کر دیا۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈھیل دے دی تا کہ جس قدر فساد کرنا چاہیں کر لیں، اور مصریوں کے سامنے مسلم حکمرانوں اور رومی حکمرانوں کے درمیان فرق بھی سمجھ آ جائے۔ ان کے دلوں میں رومیوں کے لیے غیض و غضب بھر جائے اور رومیوں کے لیے ذرا بھی محبت و شفقت ان کے دلوں میں باقی نہ رہے۔ منویل اسکندریہ سے اپنے لشکر کے ساتھ نکلا اور زیریں مصر کا رخ کیا۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے خاموشی اختیار کی۔ کوئی نقل و حرکت شروع نہ کی اور نہ کسی نے رومیوں کا مقابلہ کیا۔ سیدنا عمرو بن العاصؓ کے بعض ساتھیوں کو اس صورت حال پر تشویش لاحق ہوئی، لیکن عمرو کی رائے کچھ اور تھی، ان کی رائے تھی کہ رومی خود ان کا رخ کریں، کیونکہ بلا شبہ اس دوران میں رومی مصریوں کا مال لوٹیں گے اور ان کے حق میں حماقتوں کا ارتکاب کریں گے۔ جس کی وجہ سے مصریوں کے دلوں میں رومیوں کے خلاف بغض و عناد اور غیظ و غضب جنم لے گا اور ایسی صورت میں جب مسلمان رومیوں کے مقابلے کے لیے اٹھیں گے تو مصری خود رومیوں کے خلاف ان کا تعاؤن کریں گے، 

صفحہ 8 از 11