سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 7 از 11

مؤرخ اسلام اکبر شاہ خاں نجیب آبادی لکھتے ہیں عبد اللہ بن سعدؓ نے امیر المؤمنین عثمان غنیؓ سے اجازت طلب کی کہ شمالی افریقہ پر چڑھائی ہونی چاہیے۔ اِس زمانہ میں افریقہ ایک براعظم کا نام ہے مگر اُس زمانہ میں افریقہ نام کی ایک ریاست بھی تھی، جو طرابلس اور طنجہ کے درمیانی علاقہ پر پھیلی ہوئی تھی، لیکن اس زمانہ میں افریقہ ان ملکوں کے مجموعہ پر بھی بولا جاتا تھا جو آج کل براعظم افریقہ کے شمالی حصہ میں واقع ہیں۔ یعنی طرابلس، الجیریا، تیونس، مراکو وغیرہ۔ امیر المؤمنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن سعدؓ کو افریقہ پر فوج کشی کی اجازت دے دی۔ انہوں نے 10 ہزار فوج کے ساتھ مصر سے خروج کر کے علاقہ برقہ میں سرحدی رئیسوں کو مغلوب کیا۔ ان سرداروں اور رئیسوں کو اپنے زمانہ حکومت میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بھی چڑھائی کر کے جزیہ کی ادائیگی کے لیے مجبور کر چکے تھے اور بعد میں وہ موقع پا کر خود مختار ہو گئے۔ اس لیے اس بار انہوں نے جزیہ ادا کرنے اور اپنے آپ کو محکوم تسلیم کرنے میں زیادہ چوں چرا نہیں کی۔ اس کے بعد جب عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ ملک کے درمیانی حصے اور طرابلس کی طرف بڑھنے لگے تو سیدنا عثمان غنیؓ نے مدینہ منورہ سے ایک فوج مرتب کر کے ان کی مدد کے لیے روانہ کی۔ اس فوج میں عبد اللہ بن عمرؓ، عبد اللہ بن عباسؓ، عبد اللہ بن زبیرؓ، عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ، حسین بن علیؓ، ابن جعفرؓ، وغیرہم شامل تھے۔ یہ فوج مصر سے ہوتی ہوئی برقہ میں پہنچی تو وہاں عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح نے استقبال کر کے ان سے ملاقات کی اب سب مل کر طرابلس کی طرف بڑھے۔ رومیوں نے طرابلس سے نکل کر مقابلہ کیا مگر شکست کھا کر بھاگے۔ مسلمانوں کا طرابلس پر قبضہ ہو گیا۔ قبضہ مکمل ہونے کے بعد خاص ریاست افریقہ کی طرف لشکر اسلام بڑھا۔ افریقہ کا بادشاہ جرجیر نامی قیصر کا ماتحت اور خراج گزار تھا اس کو جب اسلامی لشکر کے آنے کی اطلاع ملی تو اس نے ایک لاکھ بیس ہزار فوج جمع کر کے ایک شبانہ روز کی مسافت پر آگے بڑھ کر مقابلہ کیا۔ دونوں لشکر ایک دوسرے کے مقابل پہنچ گئے تو عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے عیسائی لشکر کو دعوت اسلام دی جرجیر نے اس دعوت کا صاف انکار کر دیا اور جب جزیہ ادا کرنے کے لیے کہا گیا تو اس کا بھی انکار کر دیا۔ پھر مسلمانوں نے صف آرائی کر کے لڑائی شروع کر دی۔ خوب لڑائی ہوئی اتنے میں مسلمانوں کی نصرت و مدد کے لیے ایک تازہ دم فوج پہنچی اور لشکر اسلام سے نعرہ تکبیر بلند ہوا۔

(تاریخ اسلام جلد اوّل)

غرضیکہ دوری کے باعث لشکر اسلام کے پہنچنے کی اطلاع مدینہ منورہ میں جلدی نہیں پہنچ سکی تھی۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تک ابھی کوئی خبر نہیں پہنچ سکی تھی اور دن بھی زیادہ گزر گئے تھے تو انہوں نے عبد الرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہ کو بمع فوجی دستہ افریقہ روانہ کیا۔ جب یہ لشکر اپنی منزل کو پہنچا تو مجاہدین اسلام نے دیکھ کر نعرہ تکبیر بلند کیا۔ جرجیر نے یہ نعرہ سن کر پوچھا کہ یہ نعرہ تکبیر کیوں بلند ہوا ہے؟ جب اسے یہ معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی مدد کے لیے فوج کا ایک دستہ پہنچا ہے جس کی وجہ سے یہ نعرہ بلند ہوا۔ یہ سن کر جرجیر بے حد متفکر اور پریشان ہوا۔ پھر اگلے دن جب لڑائی ہوئی تو عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے میدان جہاد میں امیر عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کو موجود نہیں پایا۔ اور ان کی عدم موجودگی سے متعلق پوچھا، جس کو علامہ ابن اثیرؒ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں

فَلَمْ يَرَ ابْنَ أَبِي سَرْحٍ مَعَهُمْ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقِيلَ إِنَّهُ سَمِعَ مُنَادِيَ جُرْجِيرَ يَقُولُ: مَنْ قَتَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعْدٍ فَلَهُ مِائَةُ أَلْفِ دِينَارٍ وَأُزَوِّجُهُ ابْنَتِي، وَهُوَ يَخَافُ، فَحَضَرَ عِنْدَهُ وَقَالَ لَهُ: تَأْمُرُ مُنَادِيًا يُنَادِي: مَنْ أَتَانِي بِرَأْسِ جُرْجِيرَ نَفَّلْتُهُ مِائَةَ أَلْفٍ وَزَوَّجْتُهُ ابْنَتَهُ وَاسْتَعْمَلْتُهُ عَلَى بِلَادِهِ. فَفَعَلَ ذَلِكَ، فَصَارَ جُرْجِيرُ يَخَافُ أَشَدَّ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ۔(الکامل فی التاریخ لابن اثیر)

ترجمہ: یعنی جب ابن الزبیر کو امیر عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نظر نہ آئے تو دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ جرجیر نے اعلان عام کرایا کہ جو عبد اللہ بن سعدؓ کو قتل کرے گا اسے ایک لاکھ دینار بطور انعام دیا جائے گا اور جرجیر اپنی بیٹی کی شادی بھی اس کے ساتھ کر دے گا۔ اس لیے امیر عبد اللہ نہیں آئے یہ سن کر عبد اللہ بن زبیرؓ امیر عبد اللہ کے پاس ان کے خیمہ میں پہنچے اور ان سے کہا آپ بھی اپنے مجاہدین اسلام میں اعلان کرا دیں کہ جو بھی جرجیر کا سر کاٹ کر لائے گا اسے مال غنیمت سے ایک لاکھ دینار انعام کے طور پر دیا جائے گا۔ اور جرجیر کی بیٹی سے اس مجاہد کا نکاح کر دیا جائے گا اور اسے جرجیر کے ملک کا حاکم بنا دیا جائے گا۔ چنانچہ عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بات پر عمل کرتے ہوئے اعلان عام کرا دیا اور اسی روز سے جرجیر امیر عبد اللہ سے زیادہ خوف زدہ رہنے لگا اور اپنے لیے شدید خطرہ محسوس کرنے لگا۔

صفحہ 7 از 11