سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 6 از 11
  1.  آپ باہر نکلیں مقابلہ کریں آپ حق پر ہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
  2. آپ کے لیے پیچھے سے دروازہ کھول دیتے ہیں آپ یہاں سے مکہ مکرمہ تشریف لے جائیں وہاں کوئی شخص آپ کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنے کی ہمت نہیں کر سکے گا۔
  3. آپ ملک شام امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جائیں وہاں آپ کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ آپ نے ان باتوں کے جواب میں فرمایا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ میں رسول اللہﷺ کا خلیفہ ہو کر امت کو خون ریزی میں جھونک دوں، مکہ مکرمہ بھی نہیں جا سکتا کیونکہ میں نے حضورﷺ سے خود سنا ہے کہ جو قریشی حرم مکہ میں خون بہائے یا خون بہانے کا سبب بنے تو اس پر آدھی دنیا کے باشندوں کا عذاب ہو گا، جہاں تک شام جانے کا تعلق ہے تو یہ اس لیے نہیں ہو سکتا کہ میں دار الہجرت اور حضور کا پڑوس نہیں چھوڑ سکتا۔ محاصرے کےدوران آپ کا کھانا وغیرہ بند کر دیا باہر سے کوئی شخص اندر کوئی چیز نہیں بھیج سکتا تھا۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پانی پہنچانے کی کوشش کی لیکن دشمنوں نے مشکیزے میں تیر مارا اور سارا پانی ضائع ہو گیا۔ اسی طرح ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بھی کوشش کی، سِیَر اعلام النبلاء میں ہے کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے بھی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکیں۔

حسنین کریمینؓ کا حفاظتی دستہ:

تاریخ الخلفاء میں ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی حفاظت کے لیے جناب سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے دو صاحبزادے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو مامور فرمایا۔ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کے بچے بھی حسنین کریمین کے ساتھ پہرے پر تھے۔ جب آپ کی شہادت ہو گئی تو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں صاحبزادوں کو خوب ڈانٹا کہ تمہارے ہوتے ہوئے دشمن کیسے کامیاب ہو گیا؟

گھر کا دروازہ جلانا:

تاریخ طبری میں حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ باغیوں نے آپ کے گھر کا دروازہ بھی جلا دیا حالانکہ یہ وہ گھر تھا جہاں حاجت مند لوگ آتے حضرت عثمانؓ ان کو نوازتے تھے۔

شہادت:

عبداللہ ابنِ سباء یہودی جو شیعہ مذہب کا بانی تھا اس نے آپ کو خلافت سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا اور پھر آپ کے خلاف فتنہ و فساد کی آگ کو بھڑکانا شروع کیا مگر آخر وقت تک آپ حضورﷺ کی نصیحت پر جمے رہے اور صبر کرتے رہے

آخر کار 18 ذیالحج بروز جمعہ تقریباً نماز عصر کے وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا۔

بوقتِ شہادت دعا:

ریاض النضرہ میں حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت ہے کہ حضرت عثمانؓ خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے اور آپ کی زبان پر اللہ کے حضور یہ دعا جاری تھی۔ اللھم اجمع امۃ محمد

ترجمہ: اے اللہ امت محمدیہ کو باہمی اتفاق نصیب فرما۔

تکفین و تدفین:

آپؓ کے شہید ہونے کی اطلاع جب مدینہ طیبہ میں پھیلی، جو جہاں تھا وہیں ٹھہر گیا، کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ ظالم باغی اس حد تک جا سکتے ہیں۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ مسند احمد میں روایت ہے کہ چند باہمت نوجوان آئے اور انہوں نے آپ کا جنازہ پڑھا اور آپ کو شہادت والے خون آلود کپڑوں میں دفن کر دیا گیا۔

جنازہ میں ملائکہ کی حاضری:

معرفۃ الصحابہ میں سہم سے روایت ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا جنازہ لے کر ہم جا رہے تھے تو لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا کہ کہیں باغی لوگ آپ کی لاش مبارک کی بے حرمتی نہ کر دیں، اچانک فرشتوں کی آواز آئی کہ گھبراؤ نہیں ڈٹے رہو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا وصیت نامہ:

البدایہ والنہایہ میں امام ابن کثیرؒ نے لکھا ہے کہ علاء بن فضل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ باغیوں نے جب حضرت عثمانؓ کو شہید کر دیا تو ان کے وہاں سے فرار ہونے کے بعد ایک صندوق کو کھولا گیا وہاں پر ایک چھوٹے سے ورق پر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی وصیت درج تھی اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، جنت اور دوزخ حق ہیں۔ اور روز قیامت اللہ تعالیٰ لوگوں کو قبروں سے اٹھائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ میں اسی عقیدے پر زندہ رہا، اسی پر مرا اور قیامت کے دن اسی پر اٹھایا جاؤں گا۔

نوٹ:

یہی وہ باغی گروہ تھا جن میں سے کچھ باغی لوگ سیدنا علیؓ کے لشکر میں شامل ہوئے کچھ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل ہوئے اور ان بد بخت باغی سبائی ٹولے نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو شہید کیا۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بھی اسی باغی ٹولے نے شہید کیا رسولﷺ نے جس باغی گروہ کی طرف اشارہ فرمایا تھا وہ یہی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے قاتل ہیں۔

فتوحات عثمانی، فتح افریقہ:

صفحہ 6 از 11