سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 5 از 11

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جن حالات میں عہدہ خلافت اٹھایا اگرچہ وہ مشکل ترین حالات تھے لیکن اس کے باوجود آپ کی فراست، سیاسی شعور اور حکمت عملیوں کی بدولت اسلام کو خوب تقویت ملی۔ اسلام پھیلا، اسلامی تعلیمات سے زمانہ روشن ہوا۔ آپ نے خلیفہ بننے کے بعد سب سے پہلے لوگوں کو نماز عصر پڑھائی۔ آپ نے فوجیوں کے وظائف میں سو سو درہم کے اضافے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ طرابلس، قبرص اور آرمینیہ میں فوجی مراکز قائم کیے۔ چونکہ اس وقت فوجی سواریاں اونٹ اور گھوڑے ہوا کرتے تھے اس لیے فوجی سواریوں کے لیے چراہ گاہیں بنائیں۔ مدینہ کے قریب ربذہ کے مقام پر دس میل لمبی دس میل چوڑی چراگاہ قائم کی، مدینہ سے بیس میل دور مقام نقیع پر، اسی طرح مقام ضربہ پر چھ چھ میل لمبی چوڑی چراہ گاہیں بنوائیں، ہر چراہ گاہ کے قریب چشمے بنوائے اور چراہ گاہ کے منتظمین کے لیے مکانات تعمیر کرائے۔ آپ کے زمانہ خلافت میں اونٹوں اور گھوڑوں کی کثرت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف ضربہ کی چراہ گاہ میں چالیس ہزار اونٹ پرورش پاتے تھے۔ اسلامی بحری بیڑے کی بنیاد حضرت معاویہؓ کے اصرار پر سیدنا عثمانؓ نے رکھی۔ ملکی نظم و نسق کو مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر استوار کیا، رائے عامہ کا تہہ دل سے احترام فرمایا کرتے تھے، اداروں کو خود مختار بنایا اور محکموں کو الگ الگ تقسیم فرمایا سول، فوجی، عدالتی، مالی اور مذہبی محکمے جدا جدا تھے۔ امام طبری نے تاریخ میں لکھا ہے کہ سیدنا عثمانؓ کی وفات کے وقت شام کے گورنر (Governor) امیر معاویہؓ تھے ،عبداللہ بن قیس انفزاری بحریہ کے انچارج (Admiral) تھے،حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ عدالت عالیہ کے قاضی (Chief Justice) تھے احتسابی عمل کسی بھی کامیاب حکومت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس عمل کے تحت کئی عمال اور سرکاری افسروں کو معزول بھی فرمایا۔ لوگوں کو خود کفیل بنانے کے لیے انتظامات کیے۔ البدایہ والنہایہ میں ابن سعد رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ محمد بن ہلال اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ جب میرا بیٹا ہلال پیدا ہوا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے میرے پاس پچاس درہم اور کپڑے بھیجے اور ساتھ ہی یہ بھی کہلا بھیجا کہ یہ تیرے بیٹے کا وظیفہ اور کپڑا ہے جب یہ ایک سال کا ہو جائے گا تو اس کا وظیفہ بڑھا کر سو درہم کر دیں گے۔ امام ابن کثیرؒ نے البدایہ والنہایہ میں حضرت حسن بصریؒ سے روایت ہے لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی عیب گوئی کرتے تھے مگر میں نے دیکھا کہ سیدنا عثمانؓ روزانہ لوگوں میں مال تقسیم فرماتے، عطیات عطا فرماتے، کھانے پینے کی اشیاء تقسیم فرماتے، یہاں تک کہ گھی اور شہد بھی تقسیم کیا جاتا۔ اس کے علاؤہ امن و خوشحالی کے عوام سے قرب و ربط، مظلوم کی نصرت و حمایت، فوجی چھاونیوں اور اسلامی مکاتب و تعلیم گاہوں کا جال، تعمیر مساجد اور مسجد نبوی کی توسیع، تعلیم القرآن کو عام کرنا، خون و خرابہ سے دار الخلافت کو بچائے رکھنا وغیرہ۔

ایک خواب: 

شہادت سے قبل آپ کو خواب آیا جس کا تذکرہ آپ نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے بھی کیا اور اپنی اہلیہ محترمہ حضرت نائلہ سے بھی کیا۔ البدایہ والنہایہ میں ہے کہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا آپ کو سلام کیا۔ آپ نے فرمایا کہ رات میں نے حضورﷺ کو خواب میں دیکھا آپﷺ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہیں محصور (قید) کر دیا گیا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ آپﷺ نے پوچھا کیا تمہیں ان لوگوں نے پیاسا رکھا ہوا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ آپﷺ نے ایک ڈول لٹکایا جس میں پانی تھا میں نے پیٹ بھر کر وہ پانی پیا۔ اس کی ٹھنڈک اب بھی اپنے سینے میں پاتا ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اگر توچاہے تو دشمنوں پر تجھے فتح نصیب ہو اور اگر تو چاہے تو ہمارے ساتھ افطار کر لے۔ میں نے آپﷺ کے ساتھ افطار کرنا پسند کیا۔ عبداللہ بن سلام کہتے ہیں کہ اسی دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا۔

طبقات ابن سعد اور مستدرک علی الصحیحین میں حضرت نائلہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن مجھ سے فرمایا میں نے خواب میں نبی کریمﷺ اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا ہے وہ سب کہہ رہے تھے کہ آج شام تم ہمارے ساتھ روزہ افطار کرو۔

سیدنا عثمانؓ کے گھر کا محاصرہ:

باغیوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور یہ محاصرہ چالیس دن تک رہا ان دنوں میں آپ مسجد بھی نہیں جا سکے۔ اس دوران بہت سارے جانثاروں نے آپ سے اجازت طلب کی۔ تاریخ دمشق میں ہے کہ سیدنا حسن حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تلوار لٹکائے آپ سے اجازت مانگنے آئے۔ طبقات ابن سعد میں ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تلوار لٹکائے حاضر ہوئے اور اجازت چاہی۔ آپ نے فرمایا اپنی تلواریں پھینک دو میں تمہارے ہاتھوں کسی کا خون ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔

مسند احمد اور تاریخ دمشق میں ہے کہ سیدنا عثمانؓ کی خدمت میں حضرت مغیرہ بن شعبہؓ حاضر ہوئے اور عرض کی کہ امیر المؤمنین! آپ عوام کے امام ہیں آپ مشکل حالات میں ہیں اس لیے میری رائے یہ ہے کہ آپ تین باتوں میں سے کسی بات کو اختیار فرما لیں۔

صفحہ 5 از 11