سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 11

سیدنا عثمانؓ کو اہم العبادات نماز سے بہت رغبت تھی کیونکہ اس میں کلام الٰہی کی تلاوت بھی ہوتی ہے اور بندگی کی انتہاء بھی۔ چنانچہ آپ پنجگانہ فرائض کے علاؤہ نوافل بھی کثرت کے ساتھ پڑھا کرتے اور خصوصاً تہجد کا معمول تھا آپ ایک رکعت میں مکمل قرآن کریم ختم فرما لیا کرتے تھے۔ حلیۃ الاولیاء میں محمد بن سیرینؒ سے روایت ہے کہ شہادت والی رات بھی آپ نے اپنے معمول کے مطابق ایک رکعت میں مکمل قرآن کریم تلاوت کیا۔ الاصابہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی دادی سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ روزے بھی بکثرت رکھا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ جس دن آپ کو شہید کیا گیا آپ اس دن بھی روزے سے تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کثرت سے صدقہ و خیرات فرمایا کرتے تھے۔ تاریخ طبری میں آپؓ ہی سے روایت ہے کہ جس وقت میں خلیفہ بنایا گیا اس وقت میں عرب میں سب سے زیادہ اونٹوں اور بکریوں کا مالک تھا اور آج میرے پاس سوائے ان دو اونٹوں کے کچھ بھی نہیں جو میں نے حج کے لیے رکھے ہوئے ہیں۔ آپ نے مسلسل دس حج ادا فرمائے، آپ مناسک حج کے بہت بڑے عالم تھے، امہات المؤمنین کو بھی آپ نے حج کرایا، موطا امام مالکؒ میں ہے کہ آپ نے سیدنا حسینؓ کو بھی حج کرایا۔ اس موقع پر آپ لوگوں سے عمال کی شکایات دریافت فرماتے اور ان کا ازالہ فرماتے۔ البدایہ والنہایہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا اپنا بیان موجود ہے کہ میں ہر جمعہ ایک غلام آزاد کرتا تھا اگر کسی جمعہ آزاد نہ کر پاتا تو اگلے جمعہ کو دو غلام آزاد کرتا۔

خشیت الہٰی:

جامع الترمذی اور مسند احمد میں روایت ہے کہ حضرت عثمانؓ جب کسی قبر کے قریب سے گزرتے تو بہت روتے۔ یہاں تک کہ آپکی داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر بتر ہو جاتی۔ ان سے پوچھا گیا کہ جنت و دوزخ کا ذکر آئے تو آپ اس قدر نہیں روتے قبر کو دیکھ کر بہت روتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ آپؓ نے جواب میں فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے جو اس میں کامیاب ہو گیا اس کے لیے اگلی منزلیں بھی آسان ہوں گی اور جو اس میں ناکام ہو گیا اس کے لیے اگلی منزلیں بھی مشکل ہوں گی۔

شیخینؓ کے دور خلافت میں سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اپنے دور خلافت میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے امور خلافت میں مشورہ لیتے اور اکثر اوقات آپ کے مشوروں کے مطابق فیصلے فرمایا کرتے تھے۔ اس حوالے سے کتب حدیث و تاریخ میں بکثرت واقعات موجود ہیں۔

پہلا خطبہ:

تاریخ طبری میں ہے کہ سیدنا عثمانؓ جب خلیفہ بنے تو آپ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا لوگو! مجھ پر خلافت کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے اور میں نے اسے قبول کیا۔ میں پہلے لوگوں کی پیروی میں امور خلافت انجام دوں گا ان سے ہٹ کر نہیں قرآن و سنت پر عمل کرنے کے بعد تم سب کے میرے اوپر تین بنیادی حقوق ہیں۔ اجماعی امور میں پہلے پیشواؤں کی اتباع کرنا۔ غیر اجماعی امور میں اہلِ خیر کے طریقے کو اپنانا اور یہ کہ میں تم میں سے کسی پر کسی طرح کی کوئی زیادتی نہ کروں۔ اور تم خود بھی ایسے کام نہ کرنا جن سے تم سزا کے مستحق بن جاؤ۔ دنیا کی بے ثباتی کو ہر وقت ملحوظ رکھو اور اس کے دھوکے سے بچو۔

خلافتِ عثمانی کے نمایاں کارنامے:

صفحہ 4 از 11