سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 11

6 ہجری میں رسول پاکﷺ نے خواب میں دیکھا کہ آپ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہمراہ مکہ معظمہ تشریف لے گئے اور کعبۃ اللہ کا طواف کیا اس کے بعد کسی نے سر کے بال منڈوائے اور کسی نے کتروائے۔ آپ نے یہ خواب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سنایا سب نہایت خوش ہوئے۔ اس کے بعد آپﷺ نے اسی سال ذی القعدہ کے مہینے میں عمرہ کے ارادہ سے مکہ معظمہ کا سفر شروع کیا، صحیح روایات کی بنیاد پر آپ کے ہمراہ جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعداد 1400 اور 1500 کے درمیان ہے۔ مقام ذوالحلیفہ پہنچ کر سب نے احرام باندھا، پھر آگے حدیبیہ تک پہنچے، کفار مکہ نے مزاحمت کی کہ ہم مکہ نہیں آنے دیں گے۔ نبی پاکﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مشورے سے اپنا سفیر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بنا کر بھیجا کہ آپ جا کر مکہ والوں کو سمجھائیں کہ ہم لڑنے کی نیت سے نہیں آئے بلکہ کعبہ کا طواف کر کے واپس چلے جائیں گے۔ سیدنا عثمانؓ مکہ پہنچے اور ان کو یہ بات سمجھانے کی بھرپور کوشش کی لیکن کفار مکہ نے ضد کی وجہ سے اسے قبول کرنے سے صاف صاف انکار کر دیا ۔جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ مکہ جانے لگے تو کسی صحابی نے یہ بات کہہ دی کہ عثمان کی قسمت اچھی ہے وہ مکہ جا کر کعبہ کا طواف کریں گے مگر ہمیں کفار اجازت دیں یا نہ دیں۔ یہ بات رسول اللہﷺ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا عثمانؓ کے متعلق ہمیں یہ وہم بھی نہیں کہ وہ ہمارے بغیر کعبہ کا طواف کر لیں گے۔ ادھر دوسری طرف جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مکہ پہنچے تو سردار مکہ ابوسفیان نے کہا عثمان اگر تم چاہو تو میں تمہیں طواف کی اجازت دے سکتا ہوں لیکن اتنی بات یقینی ہے کہ تمہارے نبی کو طواف کی اجازت نہیں دیں گے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ابوسفیان کو جواب دیا رسول اللہﷺ کے بغیر میں ہرگز طواف نہیں کروں گا۔آپ کے اس جواب پر ابوسفیان نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور آپ کے ہمراہ دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو قید کر دیا۔ کسی نے یہ غلط خبر اڑا دی کہ کفار مکہ نے سیدنا عثمانؓ اور ان کے ہمراہ دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو شہید کر دیا ہے۔ اس خبر سے رسول اللہﷺ کو شدید صدمہ پہنچا، آپ اٹھے اور میدان حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے تشریف لے گئے۔ آپﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بلایا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا بدلہ لینے کے لیے موت کی بیعت کی۔ جب آپ بیعت لے رہے تھے تو آپﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دیا۔ اسی بیعت کو بیعتِ رضوان کہتے ہیں۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ شہادت عثمان والی خبر سچی نہ تھی۔ آپﷺ نے حکم دیا کہ کفار کے کچھ لوگوں کو قید کر لو، مسلمانوں نے کفار کے چند لوگوں کو قید کر لیا۔ تب کافروں نے مجبور ہو کر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو رہا کیا اور اس کے بدلے اپنے لوگوں کو رہا کروایا۔

مکارمِ اخلاق:

قَسّام اَزل نے آپ کے خمیر میں اخلاقِ عالیہ، صفات حمیدہ، عادات شریفہ اور خصائل کریمہ کوٹ کوٹ کر بھر دیے تھے۔ چنانچہ تاریخ الخلفاء میں بحوالہ ابنِ عساکر سیدنا ابو ہریرہؓ کی روایت موجود ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے عثمانؓ خلق کے اعتبار سے مجھ سے زیادہ مشابہ ہے۔ صحیح بخاری باب ہجرۃ الحبشہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان موجود ہے میں حضور اکرمﷺ کی صحبت سے مستفید ہوا، اور آپﷺ کے ہاتھ پر بیعت بھی ہوا۔ اللہ کی قسم! نہ تو میں نے آپﷺ کی نافرمانی کی نہ ہی خیانت کی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی، اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا خدا کی قسم! نہ تو میں نے ان کی حکم عدولی کی اور نہ ہی ان کی خیانت کی، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا، اللہ کی قسم! نہ میں نے کبھی ان کی نافرمانی کی نہ کسی تعمیل حکم سے جی چُرایا اور نہ ہی ان سے فریب کیا۔ مشکوٰۃ المصابیح میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا میری امت میں سب سے زیادہ باحیاء عثمان ہیں۔ اس کے ساتھ دوسری روایت کو ملایا جائے جس میں ہے کہ حیا ایمان کا شعبہ ہے۔ اس شعبہ ایمانی میں سیدنا عثمانؓ کو امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ انکساری و تواضع کا یہ عالم ہے کہ تین براعظموں کے فاتح ہیں لیکن جب ایک غلام نے آپ کی دعوت کی تو آپؓ اسے خوشی خوشی قبول فرما لیا چنانچہ صحیح بخاری باب اجابۃ الحاکم الدعوۃ میں روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ کے ایک غلام کی دعوت کو قبول فرمایا زہد و تقویٰ کی بلندی ملاحظہ فرمائیے- تاریخ الخلفاء میں بحوالہ ابن عساکر ابو ثور تمیمی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی گانا نہیں سنا اور نہ ہی کبھی لہو لعب کی تمنا کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت تاریخ الخلفاء میں بحوالہ ابن عساکر بسند صحیح موجود ہے کہ سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے زمانہ جاہلیت میں بھی شراب نہیں پی۔ صلہ رحمی میں بھی آپ کا مقام بہت بلند ہے الاصابہ میں سیدنا علیؓ اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان موجود ہے کہ سیدنا عثمانؓ سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے تھے۔

عبادت:

صفحہ 3 از 11