سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 11

(جامع ترمذی: جلد، 2 صفحہ، 689 مناقب عثمان بن عفان)

قوت اجتہاد و استنباط:

اپنے دور خلافت میں بہت سے اجتہاد فرمائے جن سے آپ کی شان فقاہت معلوم ہوتی ہے۔ چند ایک کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔

جمع قرآن:

جب آپ خلیفہ بنے تو اسلام عرب سے نکل کر روم و ایران کے دور دراز علاقوں میں پھیل چکا تھا۔ قرآن مجید سات لغتوں پر نازل ہوا تھا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سات لغات پر تلاوت فرماتے تھے۔ قراءتوں کا یہ اختلاف دور دراز کے علاقوں میں بھی پھیل گیا جب تک لوگ اس حقیقت سے واقف تھے کہ قرآن کا نزول سات لغات پر ہوا ہے اس وقت تک اختلاف سے کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی تھی لیکن جب یہ اختلاف ان دور دراز کے ممالک میں پہنچا جن میں یہ بات پوری طرح سے مشہور نہیں ہوئی تھی کہ قرآن سات لغات پر نازل ہوا ہے تو اس وقت جھگڑے پیدا ہونے لگے۔ بعض لوگ اپنی قراءت کو صحیح اور دوسری کو غلط کہنے لگے تو اس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے امت کو لغت قریش پر جمع فرمایا۔ یہ آپ کی اجتہادی شان کا عظیم کارنامہ ہے۔

جمعہ کی اذان ثانی:

آنحضرتﷺ، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے دور میں جمعہ کے لیے ایک اذان دی جاتی تھی۔ جب حضرت عثمانؓ کا دور خلافت آیا اور مسلمانوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا تو آپ کے حکم سے اذان ثانی شروع ہوئی اور آج تک جاری ہے۔ حضرت سائب بن یزیدؓ اس اذان کے متعلق فرماتے ہیں

فثبت الامر علی ذالک

(صحیح بخاری: جلد، 1 صفحہ، 125 کتاب الجمعۃ باب التأذین عندالخطبۃ)

یعنی اذان کا یہ طریقہ مستقل طور پر رائج ہو گیا۔

دیت کی ادائیگی میں مال دینا:

آنحضرتﷺ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے عہد سے دیت میں اونٹ لینے کا طریقہ چلا آ رہا تھا۔ آپؓ نے دیت میں ان کی قیمت دینی بھی جائز قرار دی کیونکہ یہاں اونٹوں میں سوائے مال کے اور کوئی جہت نہیں پائی جاتی۔ قاضی القضاۃ امام ابو یوسفؒ نے بھی اپنے دور میں یہی فتویٰ دیا۔

امت کے متعلق آپؓ کا نقطہ نظر:

آپؓ کا نظریہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو قرآن و سنت کے نام پر آزاد نہیں رہنا چاہیے بلکہ اپنے اسلاف کی پیروی کرنی چاہیے۔ اسی وجہ سے جب آپ خلیفہ مقرر ہوئے تو حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آپؓ سے عہد لیا کہ آپؓ شیخین کریمینؓ کی سیرت پر چلیں گے۔ آپؓ نے اس کو قبول کر لیا۔ آپؓ مجتہد ہونے کے باوجود حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ کی پیروی کرتے تھے مثلاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور مبارک میں پورا مہینہ بیس رکعت تراویح پڑھی جاتی تھی، آپ نے انہی کی اتباع میں اسی پر دوام فرمایا۔

عن السائب بن یزید قال کانوا یقومون علی عہد عمر بن الخطاب فی شہر رمضان بعشرین رکعۃ قال وکانوا یقرءون بالمئین وکانوا یتوکئون علی عصیھم فی عہد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ من شدۃ القیام

(سنن الکبری للبیہقی: جلد، 2 صفحہ، 496 باب ماروی فی عدد رکعات القیام فی شہر رمضان)

ترجمہ: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بیس رکعات تراویح پڑھتے تھے اورحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لمبے قیام کی وجہ سے سہارا لے کر کھڑے ہوتے تھے۔

آپؓ کا فرمان یہ تھا کہ مسلمانوں کو جب بھی عروج ملا ہے وہ اسلاف کے نقش قدم پر چلنے سے ملا ہے آپؓ کا فرمان ہے

إنما بلغتم ما بلغتم بالاقتداء والاتباع فلا تلفتنكم الدنيا عن أمركم

(تاریخ طبری: جلد، 5 صفحہ، 45)

ترجمہ: تم جس مقام پر پہنچے ہو وہ پہلوں کی تقلید سے پہنچے ہو خیال کرنا دنیا کہیں تمہیں حکم الٰہی سے دوسری طرف نہ پھیر دے۔

صلح حدیبیہ اور بیعت رضوان:

صفحہ 2 از 11