سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 11 از 11

قبرص اس جزیرہ کا پرانا نام ہے جو شام سے تقریباً ساٹھ میل کے فاصلے پر بحیرہ روم کے قریب میں ہے جو اب Cyprus سائپرس کے نام سے معروف ہے۔ یہ یورپ اور روم کی طرف سے مصر اور شام کی فتح کا دروازہ ہے۔ مصر و شام کی حفاظت اس وقت تک ممکن نہ تھی جب تک ناکہ بندی مسلمانوں کے قبضہ میں نہ ہو۔ اس لیے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے خلافتِ فاروقی میں اس پر فوج کشی کی اجازت طلب کی تھی مگر سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بحری جنگ کے خلاف تھے۔ اس کے بعد 28 ہجری میں امیر معاویہؓ نے امیر المومنین سیدنا عثمانؓ سے باصرار قبرص پر لشکر کشی کی اجازت طلب کی اور اطمینان دلایا کہ بحری جنگ جس قدر خطرناک سمجھا جاتا ہے اس قدر خوفناک نہیں ہے۔ اس بارے میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا کہ تمہارا بیان درست و صحیح ہے تو حملہ میں کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن اس مہم میں اسی کو شریک کیا جائے جو اس مہم میں خوشی سے شامل و شریک ہونا چاہتے ہوں۔ چنانچہ سیدنا امیر معاویہؓ نے بحری بیڑا تیار کرایا اور عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ کی زیر قیادت قبرص پر پہلا بحری حملہ کیا گیا۔ قبرص کے باشندے لڑائی میں ماہر و قابل نہ تھے جس کے باعث سات ہزار دینار سالانہ ادا کرنے اور بحری جنگوں میں رومی بیڑوں کی نقل و حرکت کی اطلاع بہم پہنچانے کی شرط پر صلح کر لی۔ امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے قبرص کو اپنی حفاظت میں لے لیا۔ یہ صلح کئی سال تک قائم رہی لیکن 33 ہجری میں اہلِ قبرص نے رومیوں کو امداد دی اور معاہدہ صلح توڑ دیا تو امیر معاویہؓ نے قبرص پر حملہ کر کے اسے فتح کر لیا اور وہاں با قاعدہ طور پر مسلمان فوج اور بحری بیڑہ متعین کر دیا اور اسی زمانہ میں قیصر روم نے پھر مصر پر حملہ کیا لیکن مسلمان مجاہدین کے بحری بیڑے نے بر وقت امداد کر کے رومیوں کے حملے کو پسپا کر دیا اور اسکندریہ کے علاقے میں کوئی کامیابی حاصل نہ ہونے دی۔

(تاریخ طبری و الکامل ابن اثیر)

تکمیل فتح ایران:

خلیفہ ثانی امیر المؤمنین عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں ایران کا اکثر حصہ فتح ہو چکا تھا۔ مگر بعض علاقے مکمل طور پر مطیع نہیں ہوئے تھے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلیفہ ہونے کے کچھ دنوں بعد فارس میں بغاوت شروع ہونے لگی تو عبد اللہ بن عامر جو ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی جگہ بصرہ کے گورنر مقرر کیے گئے تھے، وہ فوراً فارس پہنچے اور اس علاقہ کو پوری طرح اپنے کنٹرول میں کر لیا۔ اس عرصہ میں سعد بن العاص حاکم کوفہ نے طبرستان کو دوبارہ فتح کرنے کے بعد نیشا پور کا محاصرہ کر لیا۔ ایک ماہ بعد وہاں کا حاکم اطاعت قبول کرنے پر مجبور ہو گیا۔ ایران کا بد قسمت بادشاہ یزدگرد جس کے دل میں ایران واپس لینے کی تڑپ آخری دم تک رہی وہ 31 ہجری میں ایک چکی والوں کے ہاتھوں قتل ہوا اور دیگر باغی لوگ دب گئے۔ اس طرح ایران کی فتح مکمل ہوئی۔ 

حاصلِ کلام:

خلافتِ عثمانی میں اسکندریہ، افریقہ، آرمینیہ، قبرص اور ایران و رَے کے علاؤہ اور بھی کئی فتوحات ہوئیں۔ یہ جمیع فتوحات عثمانی اس حقیقت کی آئینہ دار ہیں کہ ان کے دور میں اہلِ اسلام اسی جرأت و بہادری، ایمان و ایقان، اخلاص و وفا، شوقِ شہادت اور ان اوصاف و اخلاق کے حامل رہے جن سے فاروقی خلافت میں متصف ہوئے اور وہ آغازِ اسلام سے ان کا طرہ امتیاز رہا۔ اگرچہ خلافت عثمانی کے اواخر میں امت مسلمہ اندرونی انتشار و خلفشار کا شکار ہو گئی تھی تاہم ان کی قوت ایمانی اور مومنانہ جرأت میں کوئی فرق نہ آیا۔ اور وہ فاروقی دور کی طرح ملکوں پر ملک فتح کرتے چلے گئے۔


صفحہ 11 از 11