سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 10 از 11

یعنی عروہ بن زید طائی کو آٹھ ہزار سپاہ کے ساتھ رَے کے علاقے بھیجا جائے۔ جب عروہ بمع لشکر وہاں پہنچے تو َیلم ان کے مقابلہ کے لیے جمع ہوئے اور اہلِ رَے نے ان کی مدد کی۔ لیکن اللہ رب العزت نے اہلِ اسلام کو کامیاب کیا۔ اور اس معرکہ سے دَیلم اور اہل رَے کی قوت بالکل نیست و نابود ہو گئی۔

علامہ بلاذریؒ لکھتے ہیں کہ فرحان بن زیبندی نامی سردار کا ایک مضبوط قلعہ تھا وہ بھی اسلامی لشکر سے ٹکرایا لیکن شکست کھا کر صلح کر لی کہ وہ جزیہ اور خراج ادا کرے گا۔ اور اس سردار ابن زیبندی نے اہلِ رَے و قوسس کی طرف سے پانچ لاکھ درہم کی رقم اس غرض سے پیش کی کہ ان میں سے نہ کسی کو قتل کیا جائے اور نہ گرفتار کیا جائے۔ اور نہ ہی ان کا کوئی آتش کدہ منہدم کیا جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی درخواست بھی قبول کرلی۔ اس کے بعد سیدنا عمرؓ نے عمارؓ کو معزول کر کے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا والی تعینات کر دیا تو مغیرہؓ نے اپنی طرف سے کثیر بن شہاب حارثی کو رَے کا گورنر مقرر کر کے بھیجا۔

جب کثیر بن شہاب رَے کے علاقہ پہنچے تو انہوں نے وہاں کے لوگوں کو باغی پایا جب اہلِ رَے کی حالت بہتر نظر نہ آئی اور اطاعت کے لیے تیار نہ ہوئے تو پھر مجبوراً مقابلہ کرنا پڑا خوب لڑائی ہوئی آخر اہلِ رَے مقہور و مجبور ہو کر اطاعت پر مائل ہوئے اور جزیہ و خراج کا معاہدہ بھی کر لیا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ کثیر بن شہاب جو رَے اور قَزوَین کا والی تھا اور پُر عزم سردار تھا۔ (بلاذری)

اہل رَے نے جب 25 ہجری میں بغاوت کا علم دوبارہ بلند کیا اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ دوسری مرتبہ کوفہ کے والی منتخب ہوئے تو اس نے رَے پر لشکر کشی کی اور وہاں کے باغیوں اور سرکشوں کو مقہور کر کے لے گئے المرام اینکہ اہل رَے ہمیشہ باغی لوگ تھے اور ہر دور میں یہ مفتوح و مقہور رہے کیونکہ وہ اپنے غلط حرکات سے باز نہ رہتے۔

امیر المؤمنین سیدنا عمرؓ کی شہادت کے بعد اہلِ رَے نے پھر علم بغاوت بلند کر دیا۔ جو یہ ان کی آخری بغاوت و سرکشی تھی۔ امیر المؤمنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے عامل کوفہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو حکم جاری کیا کہ وہ قرظہ بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ جو جلیل القدر اصحاب الرسول میں سے تھے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان کا انتخاب اس لیے مناسب سمجھا کہ وہ عہد خلافتِ فاروقی میں بھی رَے کی ایک لڑائی میں شرکت فرما چکے تھے۔ 

المختصر یہ کہ سیدنا قرظہ رضی اللہ عنہ نے متعلقہ مقام پر پہنچ کر باغیوں اور سرکشوں کو خوب مارا یہاں تک کہ ان کی بغاوت اور خود سری کا جذبہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ اور مکمل طور پر مطیع و فرماں بردار ہو گئے۔

(فتوح البلدان بلاذری، طبری وغیرہ)

فتح آرمینیہ:

آرمینیہ، جو بحیرہ خَزَر کے مغرب میں ایک ملک ہے جس کے شمال میں بحیرہ اسود، جنوب میں آذر بائیجان اور مغرب میں بلادِ روم ہے۔ (معجم البلدان)

ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابی لکھتے ہیں کہ عثمان غنیؓ کے عہدِ خلافت میں پہلی مرتبہ اسلامی فوجوں نے آرمینیہ کا رخ کیا، چنانچہ اسلامی لشکر حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اس کی طرف روانہ ہوا جو آٹھ ہزار مجاہدین پر مشتمل تھا، اس لشکر نے آرمینیہ کے متعدد مقامات کو فتح کر لیا۔ چنانچہ حبیب بن مسلمہ فہری نے امیر المومنین عثمانؓ سے مدد طلب کی تو سیدنا عثمان غنیؓ نے سلمان بن ربیعہ باہلیؓ کی قیادت میں کوفہ سے تقریباً چھ ہزار مجاہدین کو روانہ کیا۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی لشکر کی قیادت سلمان بن ربیعہ باہلی رضی اللہ عنہ کو سونپی گئی۔ کیونکہ آرمینیہ کا امیر سیدنا عثمان غنیؓ نے انہی کو مقرر فرمایا تھا۔

(بحوالہ الفتوح/ابن اعثم) 

سلمان بن ربیعہؓ آرمینیہ میں گھس گئے پھر خزر کے علاقے میں دراندازی کی اور ہر جگہ فتح و نصرت نے آپ کے قدم چومے البتہ شاہِ خزر کے ساتھ عظیم معرکہ پیش آ گیا جس میں دشمن کی تعداد تین لاکھ اور اسلامی فوج صرف دس ہزار تھی، اس معرکہ میں سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے تمام ساتھیوں نے جام شہادت نوش کیا۔ امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حبیب بن مسلمہ کو لکھاکہ وہ آرمینیہ کی طرف دوبارہ متوجہ ہوں، چنانچہ وہ اپنا لشکر لے کر روانہ ہوئے اور یکے بعد دیگرے مختلف مواقع فتح کرتے ہوئے آگے بڑھے، وہاں مسلمانوں کو ثابت قدمی حاصل ہوئی اور وہاں کے لوگوں سے بعض معاہدے بھی کیے۔

(بحوالہ الولایۃ علی البلدان)

پھر عثمان غنیؓ نے مناسب سمجھا کہ انہیں الجزیرہ کی سرحدوں پر روانہ کریں کیونکہ آپ کو وہاں کا اچھا تجربہ تھا اور آپ کو اس پر قدرت حاصل تھی، اور آپ کی جگہ آرمینیہ پر حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا جو پہلے آذربائیجان کے گورنر تھے۔ اس طرح آرمینیہ بھی خلافتِ عثمانی کے زیر اقتدار آ گیا اور مفتوح ہوا۔

(کتاب سیدنا عثمان غنی بن عفانؓ)

فتح قبرص:

صفحہ 10 از 11