تعارف لفظ اہل بیت رضی اللہ عنہم - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تعارف لفظ اہل بیت رضی اللہ عنہم

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 4
 رسول اللہﷺ کی ذات مبارک کے سواء کسی پر بھی تنہا درود پڑھنا درست نہیں۔
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ غیر نبی پر درود بھیجنے کو جائز اس لیے نہیں سمجھتے تھے کہ ان کے زمانہ میں شیعہ صرف اپنے ائمہ کے نام پر ہی درود پڑھنے لگے تھے، ان کے ساتھ وہ حضورﷺ کو بھی شریک نہیں کرتے تھے جو ایک طرح کا غلو تھا۔
(جلاء الافہام لابن قیم، باب السادس، فصل: وھل یصلی علیٰ آلہ منفردین)
انہی وجوہات کے پیشِ نظر حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے ملکی سطح پر اس فعل کو ممنوع قرار دیا۔ آپؒ نے اپنے عمال کو لکھا اما بعد،
فان ناسا من الناس قد التمسوا الدنیا بعمل الآخرۃ وان من القصاص قد احدثوا فی الصلوۃ علی خلفائہم وامرائہم عدل صلاتہم علی النبی فاذا جائک کتابی فمرہم ان تکون صلاتہم علی النبیین ودعائہم للمسلمین عامۃ (جلاء الافہام لابن قیم، باب السادس، فصل:وھل یصلی علی آلہ منفردین) 
کہ میں نے سنا ہے کہ کچھ لوگ اعمال آخرت کے ذریعہ دنیا حاصل کرتے ہیں،ان میں سے بعض واعظین نے یہ نیا طریقہ ایجاد کیا ہے کہ وہ نبی پر درود بھیجنے کے بجائے اپنے خلفاء اور امراء کے لیے صلاۃ کا لفظ استعمال کرنے لگے ہیں، میرا یہ خط پہنچنے کے بعد ان لوگوں کو اس فعل سے روک دو اور انہیں حکم دو کہ وہ صلاۃ کو انبیاء علیہم السلام کے لیے محفوظ رکھیں اور عام مسلمانوں کے لیے دعا۔
خلاصہ یہ کہ اب چونکہ یہ اہلِ اسلام کا شعار بن چکا ہے کہ وہ صلاۃ و سلام کو انبیاء کے لیے خاص کرتے ہیں، اس لیے جمہور امت کا یہ فیصلہ ہے کہ نبیﷺ کے سواء کسی کے لیے درود بھیجنا جائز نہیں
آل محمدﷺ کے معنیٰ:
آل محمدﷺ سے مراد صرف آپﷺ کے خاندان والے ہی نہیں، بلکہ اس میں وہ سب لوگ آجاتے ہیں جو آپﷺ کے پیرو کار ہوں اور آپﷺ کے طریقے پر چلیں خواہ وہ آپﷺ کے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں ۔
امام نوویؒ لکھتے ہیں:
واختلف العلماء فی آل النبی علی اقوال اظہرہا وھو الاختیار الازہری وغیرہ من المحققین انہم جمیع الامۃ والثانی بنوہاشم وبنو المطلب والثالث اہل بیتہ وذریتہ (صحیح مسلم شرح نووی، باب الصلاۃ علی النبی)
 علماء نے آل نبیﷺ کے معنوں میں اختلاف کیا ہے۔ اس سلسلہ میں کئی اقوال وارد ہیں،ان میں راجح قول وہ ہے جسے ازہری اور دوسرے محققین نے اختیار کیا ہے کہ آل سے مراد تمام امت ہے۔
اسی قول (راجح) کو امام مالکؒ، حافظ ابن عبدالبرؒ، احناف اور امام ابنِ تیمیہؒ وغیرہ نے بھی اختیار کیا ہے۔ 
صحابی رسولﷺ سیدنا جابر بن عبداللہؓ ان اولین لوگوں میں سے ہیں جن سے یہ قول منقول ہے۔ چنانچہ امام بیہقیؒ اور سفیان ثوریؒ نے سیدنا جابرؓ سے یہی قول نقل کیا ہے۔
امام شافعیؒ کے بعض اصحاب نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے۔
(تفصیل کے لیے دیکھیے جلاء الافہام لابن قیم، باب السادس، فصل: وھل یصلی علی آلہ منفردین)۔ 
اسی طرح عرب اسکالر شیخ ابنِ عثیمینؒ نے فرمایا:
 اذا ذکر الآل وحدہ فالمراد جمیع اتباعہ علی دینہ (مجموع فتاویٰ فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمینؒ، باب صلاۃ التطوع،156، سعودی عرب، 1999) 
جب لفظ آل تنہاء مذکور ہو تو اس سے مراد جملہ متبعین دین ہیں۔
درودِ ابراہیمی میں آل محمدﷺ سے اگر صرف بنو ہاشم و بنو مطلب مراد لیے جائیں جو نسباً آل محمد ﷺ ہیں،تو اس میں نیک و بد اور مؤمن و کافر سب شامل ہو جائیں گے۔ دوسری طرف آل ابراہیم میں مغضوب و ضالین بھی شریک ہو جائیں گے جو نسباً آل ابراہیم ہیں، حالانکہ قرآن میں فرمایا گیا: 
اِنَّ اَوۡلَى النَّاسِ بِاِبۡرٰهِيۡمَ لَـلَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ وَهٰذَا النَّبِىُّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَاللّٰهُ وَلِىُّ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ 
(سورۃ آل عمران: آیت 68)
ترجمہ: ابراہیم کے ساتھ تعلق کے سب سے زیادہ حق دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی، نیز یہ نبی (آخر الزماںﷺ اور وہ لوگ ہیں جو (ان پر) ایمان لائے ہیں، اور اللہ مومنوں کا کار ساز ہے۔ 
لہٰذا آل ابراہیمؑ وآل محمدﷺ میں صرف وہ لوگ شامل ہیں جو متبعِ شریعت ہیں،نہ کہ وہ جو دین میں غلو کرتے ہیں اور آیات الٰہیہ میں تحریف کرتے ہیں، بلکہ آل میں صرف متبع رسولﷺ شامل ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اس پر جسے اللہ نے اتارا اور اپنے گزرے ہوئے بھائیوں کے لیے یہ دعا کرتے ہیں:
رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا
(سورۃ الحشر:آیت10)
ترجمہ: اے ہمارے پروردگار ! ہماری بھی مغفرت فرمایئے، اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کوئی بغض نہ رکھیے۔

صفحہ 4 از 4