تعارف لفظ اہل بیت رضی اللہ عنہم - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تعارف لفظ اہل بیت رضی اللہ عنہم

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 4
حدیث میں بھی آل کا لفظ حضورﷺ کے رشتہ داروں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ بچپن میں کھجور کے ڈھیر کے پاس کھیل رہے تھے، کھیلتے کھیلتے ان میں سے کسی نے ایک کھجور اپنے منہ میں ڈال لی۔ آپ کی نگاہ پڑی تو منہ سے کھجور نکلوادی اور فرمایا
 اما علمت ان آل محمد لا یاکلون الصدقۃ (کیا تمہیں پتہ نہیں کہ آل محمد صدقہ کا مال نہیں کھاتے)۔
آل بمعنی اصحاب و متبعین:
قولہ تعالیٰ: 
وَ اِذۡ نَجَّیۡنٰکُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَسُوۡمُوۡنَکُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ (سورۃالبقرہ: آیت 49)
ترجمہ: اور وہ (وقت یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے نجات دی جو تمہیں بڑا عذاب دیتے تھے۔  
یہاں آل سے مراد فرعون کی پولیس اور حفاظتی دستے ہیں، جو اسرائیلیوں کو پکڑ پکڑ کر سزا دیتے تھے جنہیں اللہ نے بعد میں ہلاک کردیا،ارشاد فرمایا: 
وَ اِذۡ فَرَقۡنَا بِکُمُ الۡبَحۡرَ فَاَنۡجَیۡنٰکُمۡ وَ اَغۡرَقۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ وَ اَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ
(سورۃ البقرہ: آیت50)
ترجمہ: اور (یاد کرو) جب ہم نے تمہاری خاطر سمندر کو پھاڑ ڈالا تھا چنانچہ تم سب کو بچا لیا تھا اور فرعون کے لوگوں کو (سمندر میں) غرق کر ڈالا تھا اور تم یہ سارا نظام دیکھ رہے تھے۔ 
 سمندر میں جو لوگ غرق ہوئے تھے، وہ فرعون کا لشکر تھا، ارشاد باری تعالیٰ ہے:  
فَاَتۡبَعَهُمۡ فِرۡعَوۡنُ بِجُنُوۡدِهٖ فَغَشِيَهُمۡ مِّنَ الۡيَمِّ مَا غَشِيَهُمۡ
(سورۃ 20 طٰهٰ: آیت 78)
ترجمہ: چنانچہ فرعون نے اپنے لشکروں سمیت ان کا پیچھا کیا تو سمندر کی جس (خوفناک) چیز نے انہیں ڈھانپا، وہ انہیں ڈھانپ کر ہی رہی۔
اسی طرح جب ملک فرعون میں عذاب آیا تو وہ بھی تمام قوم پر آیا جو فرعون کی پرستش کرتے تھے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: 
وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ 
(سورۃ الأعراف:آیت130)
ترجمہ: ہم نے نافرمانیوں کے سبب فرعون کی قوم کو قحط سالی میں پکڑا۔
اس جگہ بھی آل فرعون سے مراد فرعون کی قوم ہے جو اللہ کی طرف سے عذاب کا شکار ہوئی۔
اسی طرح ایک آیت میں فرعونیوں کے لیے سخت عذاب کی پیشین گوئی کی گئی، ارشاد ہوا: 
اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ
(سورۃ غافر:آیت 46)
ترجمہ: آگ ہے جس کے سامنے انہیں صبح و شام پیش کیا جاتا ہے اور جس دن قیامت آجائے گی (اس دن حکم ہوگا کہ) فرعون کے لوگوں کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آل سے مراد خاندان ہی نہیں بلکہ متبعین بھی ہیں۔ قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر آل فرعون کا لفظ آیا ہے،ان میں کسی جگہ بھی آل سے مراد صرف فرعون کے خاندان والے نہیں ہیں، بلکہ وہ سب مراد ہیں جو حضرت موسیٰؑ کے مقابلہ میں فرعون کے طرف دار تھے۔
یہ لفظ حدیث میں ازواج مطہراتؓ کے لیے بھی استعمال ہوا ہے،
صحیح بخاری میں ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ما امسی عند آل محمد صاع بر ولا صاع حب وان عندہ لتسع نسوۃ
(صحیح بخاری، کتاب البیوع، باب شراء النبی بالنسیئۃ) 
کوئی شام آل محمدﷺ پر ایسی نہیں گزرتی تھی جب ان کے پاس ایک صاع گیہوں یا کوئی دوسرا اناج ہو جبکہ آپﷺ کی نو بیویاں تھیں۔
صحیح مسلم میں روایت ہے کہ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں:
انا کنا ال محمد لنمکث شہرا ما نستوقد بنار ان ہو الا التمر والماء
(صحیح مسلم، کتاب الزہد والرقاق، باب مابین النفختین) 
ہم آل محمدﷺ کے گھروں میں ایک ایک مہینہ گزر جاتا تھا چولہا نہیں جلتا تھا،ہم صرف کھجور اور پانی پر گزارا کرتے تھے۔
معلوم ہوا کہ لفظ آل اقرباء و ازواج رسولﷺ اور اصحاب و متبعین سب کے لیے استعمال ہوتا ہے، صرف رشتہ داروں کے لیے نہیں ۔
لفظ اہل اور آل میں فرق:
 کسی شخص کے اہلبیت وہ ہوتے ہیں جو اس کے قریبی اور رشتہ دار ہوں،خواہ وہ اس کے متبع ہوں یا نہ ہوں اور آل وہ کہلاتے ہیں جو کسی کے متبع ہوں خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں۔ دوسری بات یہ کہ آل عام لوگوں کی اولاد کے لیے استعمال نہیں ہوتا، یہ صرف شاہانِ مملکت اور عظیم شخصیات کی اولاد اور ان کی نسل یا ان کے اصحاب و متبعین کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
درودِ ابراہیمی میں آل کے معنی:
نماز میں پڑھے جانے والے درود میں آل محمّدﷺ وآل ابراہیم علیہ السلام کا مطلب اور اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے یہ جان لینا مناسب ہے کہ غیر نبی پر درود بھیجنا جائز ہے یا نہیں؟
درود علیٰ غیر النبی:
صحیح بخاری میں امام بخاریؒ نے ترجمۃ الباب قائم کیا:
ھل یصلی علیٰ غیر النبی (کیا غیرنبی پر درود بھیجا جاسکتا ہے؟) 
اور پھر اس کے تحت درج ذیل حدیث لائے ہیں 
عن ابن ابی اوفٰی قال کان اذا اتی رجل النبیﷺ بصدقۃ قال اللّٰہم صل علیہ فاتاہ ابی بصدقۃ فقال اللّٰہم صل علیٰ آل ابی اوفیٰ 
(صحیح بخاری، کتاب الدعوات، باب ھل یصلی علیٰ غیر النبی)
سیدنا ابن ابی اوفیٰؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ کے پاس جو کوئی صدقہ لے کر آتا تو آپﷺ فرماتے، اے اللہ اس پر صلاۃ (رحمت) نازل فرما اسی دوران میرے والد ابو اوفیٰ بھی صدقہ لے کر حاضر ہوئے تو آپﷺ نے فرمایا اے اللہ آل ابی اوفیٰ پر صلاۃ (رحمت) نازل فرما اسی طرح امام ابو داؤدؒ نے ترجمۃ الباب قائم کیا: 
الصلاۃ علیٰ غیر النبی۔
اس باب کے تحت امام ابو داؤدؒ یہ حدیث لائے ہیں:  
عن جابر بن عبد اللّٰہ ان امرأۃ قالت للنبی صل علیّ و علی زوجی فقال النبی وعلی زوجک
 (ابوداؤد، کتاب الصلاۃ، (باب تفریع ابواب الوتر) باب الصلاۃ علیٰ غیر النبی) 
ایک عورت نے کہا کہ میرے اور میرے شوہر کے لیے دعاء رحمت فرمائیں۔آپﷺ نے فرمایا: اللہ تم پر اور تمہارے خاوند پر رحمت نازل فرمائے۔
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں حضورﷺ کے سواء دوسروں پر بھی درود بھیجنا جائز ہے؛ لیکن مستقلاً اور علیحدہ طور پر درود علیٰ غیر النبی کے سلسلہ میں اہلِ علم کی رائے یہ ہے کہ یہ درست نہیں۔ 
یہ رائے امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور احناف سے منقول ہے۔
ان کی دلیل یہ ہے کہ سیدنا ابنِ عباسؓ نے فرمایا: 
ما اعلم الصلاۃ ینبغی علی احد من احد الا علیٰ النبی (فتح الباری، شرح صحیح بخاری، کتاب الدعوات، باب ھل یصلی علی غیرالنبی)
صفحہ 3 از 4