تعارف لفظ اہل بیت رضی اللہ عنہم - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تعارف لفظ اہل بیت رضی اللہ عنہم

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 4
الغرض اہلبیت میں حضورﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ کا داخل ہونا یقینی ہے بلکہ آیت کا خطاب ہی ان سے ہے لیکن چونکہ اولاد و داماد بھی اہلبیت (گھر والوں) میں شمار ہوتے ہیں۔ اس لیے روایات، مثلاً آپﷺ کا سیدہ فاطمہؓ، سیدنا علیؓ، سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ کو ایک چادر میں لے کر اللّٰہم ھؤلاء اھل بیتی وغیرہ فرمانا اور سیدہ فاطمہؓ کے مکان کے قریب سے گزرتے ہوئے:الصلاۃ اھل البیت! اور یرید اللّٰہ لیذھب عنکم الرجس الخ سے خطاب کرنا اگر سنداً اور درایۃً درست ہے تو وہ اسی حقیقت کو ظاہر کرنے کے لیے تھا کہ یہ حضرات بھی اس لقب کے مستحق اور فضیلت تطہیر کے اہل ہیں۔ وگرنہ 5 یا 6 ھجری کے اوائل میں جس وقت حضورﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، سیدنا علی رضہ اللہ عنہ اور سیدنا حسن و سیدنا حسین رضی اللہ عنھم کو ایک چادر میں لے کر یہ فرمایا تھا کہ یہ میرے اہلبیت ہیں، حضورﷺ اپنی بیمار بیٹی سیدہ زینبؓ جن کا گھر بار سب کچھ اجڑ چکا تھا اپنے بچوں کے ساتھ آپﷺ کے گھر پناہ لیے ہوئے تھی، حضورﷺ ان کو اپنی چادر میں لینا کیسے بھول سکتے تھے،سیدہ فاطمہؓ کے سواء حضورﷺ کی تمام بیٹیوں میں ایک وہی حیات تھیں ، بقیہ دونوں بیٹیوں سیدہ رقیہؓ اور سیدہ اُمِ کلثومؓ کا انتقال ہو چکا تھا۔
دوسرا یہ کہ واقعۂ کساء سے متعلق تمام روایات اکٹھی کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ایک بار کا نہیں بلکہ کئی بار کا ہے۔ اور آیت تطہیر ایک بار نہیں، کئی بار نازل ہوئی۔اس لیے کہ یہ واقعہ کہیں ام المؤمنین سیدہ اُمِ سلمہؓ کے گھر کا بتایا جاتا ہے، کہیں سیدہ فاطمہؓ کے گھر کا اور کہیں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر کا، اس لیے کہ یہ واقعہ سیدہ عائشہؓ سے بھی مروی ہے۔ ان روایات میں آپس میں اتنا اضطراب ہے کہ ان سے کسی نتیجہ پر پہنچنا دشوار ہی نہیں۔ بلکہ نا ممکن ہے، مزید یہ کہ ان تمام روایات کے رواۃ یا تو مجروح ہیں یا ان پر کلام ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ امام بخاریؒ اس سلسلہ میں بالکل خاموش ہیں باوجود اس کے کہ انہوں نے اپنی صحیح میں اس کے متعلق کئی ابواب قائم کیے ہیں ۔
ان روایات کو اگر قابلِ قبول مان لیا جائے تب بھی ان سے حصر کے معنیٰ نہیں نکلتے بلکہ امام قرطبیؒ فرماتے ہیں: 
فذھب الکلبی ومن وافقہ فصیرھا لھم خاصۃً 
(تفسیر قرطبی، سورۃ الاحزاب، آیت:33)کلبی(رافضی)
اور سبائی ٹولہ ہی اس بات کا مدعی ہے کہ یہ آیت تطہیر پنج تن کے بارے میں نازل ہوئی)۔
ابنِ عاشور فرماتے ہیں کہ یہ وہم (پنجتن کا) تابعین کے زمانہ کا دین ہے جو قرآن کریم سے متصادم ہے جہاں تک حدیث کساء کی بات ہے کہ اس میں ایسا ایک لفظ بھی نہیں جس سے حصر کے معنی نکلتے ہوں ( کہ آیت تطہیر سے صرف پنجتن مراد ہوں) صیغہ ھؤلاء اھل بیتی کلام الٰہی ان ھؤلاء ضیفی (سورۃ الحجر:68) کے مانند ہے، جس کے معنی یہ نہیں کہ ان کے سواء اس میں کوئی دوسرا شامل نہیں، بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے اہلبیت (پنجتن) کے معنی کو حدیث کساء سے غصب کیا ہے اور قرآن کریم کو پیچھے چھوڑ دیا۔ جس میں ازواجِ نبیﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے۔ 
(تفسیر التحریر والتنویر، تالیف: محمد طاہر بن عاشور، سورۃ الاحزاب،آیت:33)
واضح رہے کہ حضورﷺ جس طرح سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ سے محبت کرتے تھے انھیں کندہوں پر بٹھاتے تھے اسی طرح سیدہ زینبؓ کی بیٹی سیدہ امامہؓ اور بیٹے سیدنا علیؓ سے بھی محبت کرتے تھے۔ آپﷺ سیدہ امامہؓ کو گود میں لے کر نماز پڑھتے تھے۔ اسی طرح سیدنا علیؓ بن زینب کو فتح مکہ کے دن اپنی سواری پر اپنے ساتھ بٹھانے کا اعزاز بخشا تھا، مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت اپنے نبیﷺ کے سب سے بڑے نواسے اور نواسی کو جانتی تک نہیں۔حتیٰ کہ اکثر علمائے کرام بھی اپنے خطبات میں ان کا تذکرہ نہیں کرتے۔اہلبیت میں صرف سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ کو شامل ماننا اور حضورﷺ کے دوسرے نواسے اور نواسیوں کو اس سے خارج کرنا ان کے ساتھ غایت درجہ نا انصافی کی بات ہے۔
آل محمدﷺ عربوں میں کسی شخص کے آل سے مراد وہ سب لوگ سمجھے جاتے ہیں جو اس کے ساتھی، مددگار اور متبع ہوں خواہ وہ اس کے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں۔ قرآن کریم میں بھی یہ لفظ انہی سب معنوں میں استعمال ہوا ہے جیسے: آل بمعنی قرابت دار
مثال اول: 
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَكَذٰلِكَ يَجۡتَبِيۡكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِ وَيُتِمُّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكَ وَعَلٰٓى اٰلِ يَعۡقُوۡبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰٓى اَبَوَيۡكَ مِنۡ قَبۡلُ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡحٰقَ‌ 
(سورۃ يوسف:آیت 6)
ترجمہ: اور اسی طرح تمہارا پروردگار تمہیں (نبوت کے لیے) منتخب کرے گا،اور تمہیں تمام باتوں کا صحیح مطلب نکالنا سکھائے گا (جس میں خوابوں کی تعبیر کا علم بھی داخل ہے) اور تم پر اور یعقوب کی اولاد پر اپنی نعمت اسی طرح پوری کرے گا جیسے اس نے اس سے پہلے تمہارے ماں باپ پر اور ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی۔
اس جگہ آلِ یعقوب سے مراد حضرت یوسفؑ کے بھائی اور ان کی اولاد ہیں جن کی نسل سے اللہ نے سینکڑوں انبیاء علیہم السلام مبعوث فرمائے۔
مثال دوم:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰۤى اٰدَمَ وَنُوۡحًا وَّاٰلَ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاٰلَ عِمۡرٰنَ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَۙ
(سورۃ آل عمران:آیت 33)
ترجمہ:اللہ نے آدم، نوح، ابراہیم کے خاندان، اور عمران کے خاندان کو چن کر تمام جہانوں پر فضیلت دی تھی۔
اللہ رب العزت نے خود اس آیت میں آل سے نسل اور ذریت کو مراد لیا ہے۔
مثال سوم: 
ارشاد باری تعالیٰ ہے:  
اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ‌ؕ نَّجَّيۡنٰهُمۡ بِسَحَرٍ
(سورۃ القمر:آیت 34)
ترجمہ: ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا، سوائے لوط کے گھر والوں کے جنہیں ہم نے سحری کے وقت بچا لیا تھا۔
یہاں آل سے مراد حضرت لوط علیہ السلام کی اولاد (بیٹیاں) ہے کیونکہ ان کی قوم میں سوائے ان کی دو بیٹیوں کے کوئی ایمان نہیں لایا تھا حتٰی کہ ان کی بیوی بھی نہیں جسے اللہ نے عذاب میں ہلاک کر دیا۔
صفحہ 2 از 4