تعارف لفظ اہل بیت رضی اللہ عنہم - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تعارف لفظ اہل بیت رضی اللہ عنہم

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 4

تعارف لفظ اہلِ بیتؓ

سوشل میڈیا پر عوام الناس کی کثیر تعداد لفظ اہلِ بیتؓ سے نا واقف ہے شیعہ حضرات اھل بیت سے مراد صرف سیدنا علیؓ، سیدہ فاطمہؓ، سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ لیتے ہیں اور اہلِ سنّت ازواج و اولاد یعنی خاندانِ رسولﷺ سب کو اھلبیت میں شمار کرتے ہیں آئیے قرآن و حدیث کی روشنی میں لفظ اہل بیت کی تحقیق کرتے ہیں:
لفظ اہلبیت عربی زبان میں ٹھیک انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے جن میں ہم گھر والوں کا لفظ بولتے ہیں اور اس کے مفہوم میں آدمی کی بیوی اور بچے دونوں شامل ہوتے ہیں۔بیوی کو مستثنیٰ کر کے اہلِ خانہ یا گھر والوں کا لفظ کوئی نہیں بولتا۔انہی معنوں میں یہ لفظ قرآن کریم میں بھی استعمال ہوا ہے لہٰذا جمہور اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ آپﷺ کی تمام ازواج مطہراتؓ و اولادؓ اہلبیت ہیں۔اس کے برعکس شیعوں کے نزدیک اہلبیت میں صرف پنج تن یعنی حضورﷺ، حضرت علیؓ، سیدہ فاطمہؓ ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ ہی شامل ہیں اس میں کوئی چھٹا تن داخل نہیں یہاں تک کہ آپﷺ کے چچا سیدنا عباسؓ اور آپﷺ کی محبوب بیوی سیدہ خدیجہؓ کو بھی اہلبیت میں داخل نہیں کرتے۔
اس کی دلیل یہ بیان کی جاتی ہے کہ آیت: 
اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا 
(سورۃ الأحزاب:آیت 33) 
میں مذکر صیغوں سے خطاب ہے، اگر اہلبیت سے حضورﷺ کی ازواج مراد ہوتیں تو آیت کے الفاظ عَنۡكُمُ وَيُطَهِّرَكُمۡ کے بجائے عنکن، ویطھرکن ہوتے۔
آیت کی تشریح میں علامہ شبیر احمد عثمانیؒ فرماتے ہیں جو انسان ذرا بھی عربی سے واقفیت رکھتا ہے وہ آیت پڑھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس میں ازواجِ مطہراتؓ شامل نہیں، بلکہ اگر کسی عام آدمی کو ان آیات کا ترجمہ پڑھنے کے لیے کہا جائے تو اس کی بھی سمجھ میں آجائے گا کہ یہاں اہلبیت سے مراد ازواجِ مطہراتؓ ہیں کیونکہ نظمِ قرآن میں تدبر کرنے والے کو ایک لمحہ کے لیے اس میں شک وشبہ نہیں ہو سکتا کہ یہاں اہلبیت کے مدلول میں ازواجِ مطہراتؓ یقیناً داخل نہیں کیونکہ آیت ہٰذا سے پہلے اور بعد میں تمام تر خطابات انہی سے ہوئے ہیں۔ 
ما قبل آیت:
وَقَرۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ
(سورۃ الأحزاب: آیت، 33)
 اور اس کے بعد:
 وَاذۡکُرۡنَ مَایُتۡلٰی فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ
(سورۃ الأحزاب: آیت، 34) 
میں انہی کی طرف نسبت کی گئی ہے ان دونوں کے درمیان ہے اس درمیانی جزء کے بارے میں یہ کہنا کہ چونکہ اہلبیت کو صیغہ مذکر سے بیان کیا گیا ہے اس لیے وہ اہلبیت میں شامل نہیں، یہ بات وہی کہہ سکتا ہے جسے عربی زبان و ادب سے کوئی واسطہ نہ ہو (ترجمہ شیخ الہند، تفسیر از مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، سورۃ الاحزاب: آیت، 33)
قرآن کریم میں یہ لفظ اسی صیغہ میں سورۃ هود میں بھی آیا ہے، چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی حضرت سارہ کو خطاب کرتے ہوئے ملائکہ نے کہا: 
قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ‌ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ‌ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ‏ 
(سورۃ هود: آیت، 73)
ترجمہ: فرشتوں نے کہا! کیا آپ اللہ کے حکم پر تعجب کر رہی ہیں؟آپ جیسے مقدس گھرانے پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہی برکتیں ہیں، بیشک وہ ہر تعریف کا مستحق، بڑی شان والا ہے۔
اس جگہ اہلبیت سے مراد زوجہ ابراہیم خلیل اللہ ہی ہیں۔ شیعہ مفسرین طبرسی(مجمع البیان) اور کاشانی (منہاج السالکین) نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کے واقعہ میں اہلبیت سے مراد حضرت سارہ ہیں،جو حضرت ابراہیمؑ کی چچازاد بہن تھیں۔ (اگرچہ انہوں نے اس کی بے بنیاد تاویل کی ہے)۔
 اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں بھی قرآن کریم میں ضمیر مذکر کا استعمال ہوا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: 
فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَلَ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ اٰنَسَ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا‌ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّىۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا‌ لَّعَلِّىۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ
(سورۃ القصص:آیت 29)
ترجمہ: پھر جب موسیٰ نے وہ مدت پوری کرلی، اور اپنی اہلیہ کو لے کر چلے تو انہوں نے کوہِ طور کی طرف سے ایک آگ دیکھی۔انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا ٹھہرو! میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید میں وہاں سے تمہارے پاس کوئی خبر لے آؤں، یا آگ کا کوئی انگارہ اٹھا لاؤں تاکہ تم گرمائش حاصل کرسکو۔
اس آیت میں دو جگہ اہل کا لفظ آیا ہے اور دونوں ہی جگہ تمام شیعہ بلا کسی تاویل کے متفق ہیں کہ اہل سے مراد حضرت موسیٰؑ کی زوجہ ہیں جو حضرت شعیبؑ کی بیٹی تھیں۔ 
(دیکھیے:تفسیر مجمع البیان، جلد 7 صفحہ 346، سورۃ الاحزاب:33، للطبرسی (ابوالفضل بن الحسن)
طبرسی چھٹی صدی ہجری کا فاضل ترین شیعہ علماء میں سے ہے اس کی تفسیر کئی جلدوں میں شائع ہے۔ اس کے علاوہ قمی (ابوالحسن علی بن ابراہیم) بھی تیسری صدی ہجری کا شیعہ علماء میں ممتاز سمجھا جاتا ہے اور ابتدائی شیعہ مفسرین کا امام ہے)۔ ان سب کے نزدیک اس جگہ حضرت موسیٰؑ کی زوجہ مراد ہیں۔ اس جگہ انہوں نے صیغہ مذکر مؤنث کی کوئی بحث نہیں کی۔
جہاں تک ان تمام مذکورہ مقامات میں ازواج کو صیغہ مذکر میں مخاطب کرنے کی بات ہے تو اس کی وجہ یہ ہے (قد اجمع اہل اللسان العربی علی تغلیب الذکور علی الاناث فی الجموع ونحوہا) عرب میں جب ایک سے زیادہ لوگوں کو خطاب کیا جاتا ہے جس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہوں تو وہاں صیغہ مذکر لایا جاتا ہے۔ اس قاعدہ کے تحت حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ اور سردار انبیاءﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ کے لیے ضمیر مذکر لائی گئی ہے۔
صفحہ 1 از 4