سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی محبت میں وضع کردہ روایات - دفاعِ…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی محبت میں وضع کردہ روایات

  مولانا ثناء اللہ شجاع آبادی

صفحہ 3 از 4

قال کنت عنہ النی صلی اللہ علیہ وسلم فرای علیا مقبلا فقال یا انس ھذا حجتی علٰی امتی یوم القیامة

ترجمہ: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ ؐ  نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو  آتے ہوئے دیکھا اور فرمایا اے انس رضی اللہ عنہ میری امت پر یہ شخص اللہ کی طرف سے قیامت کے دن حجت ہوگا۔ 

حافظ ذہبی اس کی اس روایت کو بھی باطل ٹھہراتے ہیں۔ (میزان الاعتدال 6/442) 

 9۔۔۔۔مطر بن میمون کی ایک اور کارروائی بھی دیکھیں:

عن انس قال کنت جالس مع النبیؐ اذا قبل علی فقال من ھذا قلت ھذا علی بن ابی طالب فقال:  یا انس انا و ھذا حجة اللہ علی خلقہ (اخرجہ ابن عدی الکامل)

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ علی رضی اللہ تعالی عنہ اس طرف آ نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انس یہ کون ہے میں نے کہا یا رسول اللہ علی بن ابی طالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انس میں اور یہ دونوں اللہ کی مخلوق پر اللہ کی حجت ہیں۔ 

10 ۔ مطر ابن میمون کی ایک اور واردات یہ بھی ہے:

عن انس مرفوعا علی اخی وصاحبی وابن عمی وخیر من اترک بعدی یقضی دینی وینجز موعدی میزان الاعتدال (جلد،6 صفحہ ،446)

ترجمہ: انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا علی میرا بھائی ہے، میرا صحابی ہے، میرے چچا کا بیٹا ہے اور جو بھی میرے بعد رہیں گے ان میں خیر الناس ہے، میرے قرض یہی اتارے گا اور میرے عہد یہی پورا کرے گا۔ 

11۔۔۔۔ اوَّلکم ورودًا علی الحوض اوَّلُکم اسلاماً علی ابن ابی طالب (رواہ ابن عدی الکامل)

ترجمہ:  "تم میں سے سب سے پہلے حوضِ کوثر پر وہ وارد ہو گا جو تم میں سب سے پہلے اسلام لایا اور وہ علی ابن ابی طالب ہے۔"

       اس روایت میں عبدالرحمن ابن قیس الزعفرانی صاحبِ سازش ہے

حافظ ذہبی لکھتے ہیں:

کذبہ ابن مھدی وابو زرعة و قال البخاری ذھب حدیثہ وقال احمد لم یکن بشئی واخرجہ الحاکم حدیثا منکراً

(میزان الاعتدال ج 4  ص 309) 

عبدالرحمان بن مھدی اور ابو زرعہ کہتے ہیں کہ وہ جھوٹا تھا اس کی حدیث قبول کے لائق نہیں۔ اور امام بخاری ؒ نے کہا ہے اس کی حدیث قبول کے لائق نہیں، امام احمد کہتے ہیں وہ کوئی شے نہ تھا، حاکم نے اس سے ایک منکر حدیث مستدرک میں لی ہے"۔ 

حاکم نے اسے سہل انگاری سے اسے صحیح کہ دیا۔ اس پر امام ذہبی نے اس کا تعاقب کیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں:

لیس بصیحح قال ابو زرعة عبدالرحمان بن قیس کذاب

یہ روایت صحیح نہیں ہے اس کا راوی عبدالرحمان بن قیس کذاب ہے(مستدرک) 

12۔ وصیی و موضع سری وخلیفتی فی اھلی خیر من اخلف بعدی علی

  میرا وصی، میرا رازدان، میرا خلیفہ  مرے اہل میں جن لوگوں کو میں پیچھے چھوڑ رہا ہوں ان میں سب سے بہتر علیؓ ہے۔

قاضی شوکانی اس روایت پر لکھتے ہیں: "ساتھ ہی اس ایک روایت پر بھی نظر کر لیں، یہ موضوع نہیں مگر ضعیف ضرور ہے".

عبدالرحمن عن سعد ابن ابی وقاص قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من کنت مولاہ فعلی مولاہ۔ (سنن ابن ماجہ: ص 12) 

"عبدالرحمن حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت کرتا ہے وہ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ نے جو مجھے دوست رکھے، علی بھی اس کے دوست ہوں۔" 

یہ روایت موسی بن مسلم الحزامی طحان المعروف موسی صغیر نے عبدالرحمان ابن سابط سے رویت کی ہے اور عبدالرحمان ابن سابط اسے سعد ابن ابی وقاص سے روایت کرتا ہے۔ امام یحیی بن معین سے پوچھا گیا عبدالرحمان ابن سابط کا سماع سعد ابن ابی وقاصؓ سے ثابت ہے انہوں نے کہا، نہیں۔

روی عن عمرو بن سعد بن ابی وقاص و العباس بن عبدالمطلب و عباس ابن ابی ربیعہ و معاذ بن جبل و ابی ثعلبہ الخشنی و قیل لم یدرک واحداً منھم (تھذیب التھذیب 180/6)

ترجمہ: 'لاس عبدالرحمان ابن سابط نے حضرت عمرو سے، حضرت سعد سے، حضرت عباس سے حضرت عباس بن ربیعہ سے، حضرت معاز بن جبل ؓ سے، حضرت ابی ثعلبہ سے روایت کی ہے، اور کہا گیا ہے کہ اس نے ان میں سے کسی کو نہیں پایا"۔

امام ترمذی نے اس روایت کو اس سند سے بیان کیا ہے 

محمد بن جعفر  اخبرنا شعبة عن سلمة بن کھیل قال سمعت ابا الطفیل یحدث عن ابی سریحة او زید بن ارقم (ترمذی: 213/2)

اس سند میں سلمہ بن کہیل (121ھ) ہے، یہ صاحب کون ہے، شعبہ نے اسے میمون بن ابی عبداللہ عن زید بن ارقم سے بھی روایت کیا ہے۔ یہ میمون ابن ابی عبداللہ کون ہے اسے بھی جان لیجیے۔

یہ بصرہ کا رہنے والا بنی کندہ میں سے ہے۔ اس نے حدیث کن کن سے روایت کی سن لیجیے حافظ ابن حجر رح لکھتے ہیں:

روی عن براء ابن عاذب و زید ابن ارقم و ابن عباس  و عبداللہ بن بریدة۔

اس کے آگے علاوہ کن لوگوں نے اس سے یہ روایت لی ہے: 

وعنہ ابناہ محمد وعبدالرحمان وقتادة وخالد الخداء وعوف الاعرابی و  شعبة (تہذیب: 393/10) 

اب میمون ابی عبداللہ کا حال سن لیجیے:

کان یحیی لایحدث عنہ قال الاثرم ممن احمد احادیث مناکیر وقال اسحاق بن منصور عن یحیی بن معین لا شئ وقال ابو داود نکلم فیہ (تہذیب: 157/4)

اس قسم کے راویوں سے یہ حدیث کسی پایہ کو نہیں پہنچتی۔ 

یعقوب بن شیبہ کہتے ہیں ثبت علٰی تشیعہ (وہ اپنی شیعیت پر پکا رہا) قال ابو داود کا ن سلمة یتشیع۔

اور جتنی بھی سندیں جمع کرتے جائیں یہ حدیث من کنت مولاہ فھذا علی مولا کسی سند سے بھی درجہ صحت کو نہیں پہنچتی گو عقیدت کے جوش میں بعض لوگوں نے اس کے متواتر ہونے کا دعوی کیا ہے، بلکہ اس کی سندیں جتنی بڑھتی جائیں گی اس کا ضعف اور نمایاں ہوتا جائے گا۔

 جلیل القدر محدث حافظ جمال الدین زیلعی (762ھ) نے اس قاعدہ قد لا یزید الحدیث کثرة الطرق الاضعفا کی مثال میں اس حدیث (من کنت مولاہ) کو بھی پیش کیا ہے۔

محدث زیلعی لکھتے ہیں:

و کم من حدیث  کثرت رواتہ تعددت طرقہ وھو حدیث ضعیف کحدیث الطیر و حدیث الحاجم والمحجوم وحدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ بل قد لا یزید کثرة الطرق الا ضعفا وانما یرجح بکثرة الرواة اذاکانت الرواة محتجا بھم من الطرفین (نصب الرایہ، طبع جدید: 473/1، طبع قدیم: صفحہ، 360)

صفحہ 3 از 4