سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی محبت میں وضع کردہ روایات - دفاعِ…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی محبت میں وضع کردہ روایات

  مولانا ثناء اللہ شجاع آبادی

صفحہ 2 از 4

ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 

وعامة احادیثہ موضوعة و کان قلیل الحیاء فی دعاویہ علی قوم لم یلحقھم و فی وضع مثل ھذا الاحادیث الرکیکہ وفیہ مالا یشبہ کلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و عندہ عن یحیی بن بکیر احادیث مستقیمة ولکن یشوبھا بتلک الاباطیل”

اور اس کی روایات زیادہ تر موضوع ہوتی ہیں، جن لوگوں سے اس کی ملاقات تک نہ تھی ان سے روایت کرنے میں اور اس قسم کی کمزور احادیث وضع کرنے میں اور وہ روایات لانے میں جو کلام نبوت سے ہرگز دکھائی نہ دیتییں،  یہ شخص کم حیا کرتا تھا اس کے پاس یحییٰ بن بکیر سے درست احادیث بھی موجود تھیں لیکن ان میں بھی وہ اس طرح کے جھوٹ ملا دیتا تھا"۔  (لسان المیزان جد، 2 صفحہ، 109) 

2۔  نور کے بعد ایک مٹی سے پیدا ہونے کی روایت بھی ملاحظہ کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (معاذ اللہ) فرمایا:

خلقت انا و ہارون و عمران و یحییٰ بن زکریا و علی بن ابی طالب من طینة واحدة

" میں، حضرت ہارون، حضرت عمران، حضرت یحیی بن زکریا اور حضرت علی بن ابی طالب ایک ہی مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں.

رافضی عقیدہ: پنجتن ایک ہی مٹی سے بنے اور مٹی نے نور کا نام پایا

ہمارے لٹریچر میں یہ آفت محمد بن خلف المروزی سے آئی ہے۔

علامہ ذہبی لکھتے ہیں : ہذا موضوع (میزان الاعتدال جلد 6 صفحہ 135) موضوعات ابن الجوزی جلد 1 صفحہ 229، حافظ ابن حجر اسے ان الفاظ میں لکھتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ موضوع ہے۔

خلقت انا و ہارون و یحیی و علی مین طینة واحدة ھذا موضوع۔۔۔ و قال الدار قطنی متروک۔

"میں اور ہارون اور حضرت یحییٰ اور حضرت علی ایک ہی مٹی سے پیدا کیے گئے۔  یہاں حضرت عمران کو نکال دیا گیا ہے۔ ایسا کیوں؟؟؟  دروغ گورا حافظ نباشد (جھوٹ بولنے والے کا کوئی حافظہ نہیں ہوتا)

(لسان المیزان جلد 5 صفحہ 157)

3۔ من لم یقل علی خیر الناس فقد کفر۔۔۔

ترجمہ: جو شخص یہ نہ کہے کہ علی رضی اللہ عنہ تمام لوگوں سے اچھے ہیں وہ کفر کر چکا

یہ آفت محمد بن کثیر سے آئی ہے۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں یہ شیعہ تھا۔ (میزان الاعتدال جلد 6 صفحہ 310)۔ قاضی نور اللہ شوستری کہتا ہے شیعی بودن اہل کوفہ حاجت باقامت دلیل ندارد (اہل کوفہ کے شیعہ ہونے کیلئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں)

امام بخاری کہتے ہیں کوفی منکرالحدیث تھا اور امام علی ابن مدینی (333ھ) کہتے ہیں:کتبنا عنہ عجائب وخططت علی حدیثہ وکذبہ یحیی بن معین

ترجمہ: ہم نے اس سے عجیب عجیب روایات لکھیں اور اس کی روایات کو نشان زد کرتے رہے اسے یحییٰ بن معین نے جھوٹا ٹھہرایا ہے۔ (لسان المیزان جلد 3 صفحہ 352) 

4۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بارے میں کہا: "میں صدیق اکبر ہوں" (معاذاللہ) کیا آپ ایسی بات کہہ سکتے تھے؟ ہرگز نہیں۔ اپنے آپ کو بڑا کہنا اللہ والوں کی عادت نہیں ہے۔ بہرحال روایت یہ ہے:

انا عبداللہ واخو رسول اللہ وانا الصدیق الاکبر لایقولھا بعدی الا کاذب صلیت قبل الناس سبع سنین

ترجمہ: میں اللہ کا بندہ ہوں، میں رسول اللہ کا بھائی ہوں، میں صدیق اکبر ہوں، میرے بعد جو شخص بھی اپنے آپ کو صدیق اکبر کہے وہ جھوٹا ہوگا، میں دوسرے لوگوں سے سات سال پہلے اسلام لایا

?اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ آپ کے اسلام لانے کے بعد سات سال تک کوئی مسلمان نہ ہوا، سات سال صرف آپ اکیلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت رہے۔

سوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بوالعجبیست

اس کے دو راوی قابل نظر ہیں:

عباد بن عبداللہ الاسدی الکوفی اور زید بن وہاب الجہنی ابو سلیمان الکوفی

 5۔۔ عن زازان عن سلمان قال رائت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرب فخذ علی ابن ابی طالب وصدرہ و سمعتہ یقول محبک محبی و محبی محب اللہ و مبغضک مبغضی و مبغضی مبغض اللہ. (لسان المیزان 109/2)

ترجمہ: حضرت سلمان کہتے ہیں میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ران اور سینے پر ایک ضرب سی لگائی اور میں نے آپ کو انہیں یہ کہتے ہوئے سنا: تیرا محب میرا محب ہے اور میرا محب اللہ کا محب ہے اور تجھ سے بغض رکھنے والا مجھ سے بغض رکھنے والا ہے اور مجھ سے بغض رکھنے والا اللہ سے بغض رکھنے والا ہے

  • احادیث میں یہ آفت عمرو بن خالد سے آئی ہے۔
  • امام احمد کہتے ہیں یہ کذاب ہے۔
  • یحیی بن معین بھی کہتے ہیں کہ یہ کذاب ہے۔
  • ابو حاتم کہتے ہیں متروک الحدیث اور زاہب الحدیث ہے
  • اسحاق بن راھویہ اور ابو ذرعہ کہتے ہیں کان یضع الحدیث ۔۔۔ قال وکیع کان جارنا فطہرنا منہ علی کذب فانتقل۔۔۔ و رماہ ابن العراقی بالکذب

ترجمہ: وہ احادیث وضع کرتا تھا۔۔۔ وکیع کہتے ہیں وہ ہمارے پڑوس میں رہتا تھا پھر ہم اس کے کذب کو پا گئے تو وہاں سے چلا گیا، ابن العراقی نے اس کے کذاب ہونے کی نشاندہی کی ہے۔ (تہذیب: 37/8) 

 6۔۔۔عن انس مرفوعا ان اخی ووزیری وخلیفتی فی اھلی و خیر من اترک من بعدی علی۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں حضور صلی اللہ وسلم نے فرمایا: میرا بھائی، میرا وزیر، اور میرا میرے گھر میں جانشین اور میرے بعد سب سے بہتر آدمی علیؓ ہے.

اس نے خلیفتی فی اھلی کہہ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو صرف حضور صلی اللہ وسلم کے گھروں تک جانشین رکھا اور آپ سے امت کے خلافت کبریٰ کی یکسر نفی کر دی۔

احادیث میں یہ آفت مطر بن میمون اسکاف سے آئی ہے۔ علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ یہ روایت موضوع ہے

(میزان الاعتدال جلد 6 صفحہ 446)

امام بخاری ابو حاتم اور امام نسائی کہتے ہیں یہ شخص منکر حدیث تھا۔ ابنِ جوزی نے اس روایت کو موضوعات میں لکھا ہے۔ 

 7۔۔۔عن انس قال رسول اللہ ؐ النظر الی وجہ علی عبادہ

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ: علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے (المستدرک 3/141،142)

راوی حدیث یہاں یہ واضح نہیں کر سکا کہ یہ عبادت کس کی ہو گی؟ اللہ تعالی کی یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی۔

یہ روایت مطر ابن میمون کی خدمات کا نتیجہ فکر ہے

حافظ  ذہبی رحمہ اللہ اس حدیث اور سابقہ حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں:

(قلت کلاھما موضوعان) میں کہتا ہوں کہ یہ دونوں حدیثیں من گھڑت ہیں۔" (میزان الاعتدال: 6/442) 

8۔ مطر بن میمون نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے یہ روایت بھی گھڑی ہے:

صفحہ 2 از 4