سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی محبت میں وضع کردہ روایات - دفاعِ…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی محبت میں وضع کردہ روایات

  مولانا ثناء اللہ شجاع آبادی

صفحہ 1 از 4

سیدنا علیؓ کی محبت میں وضع کردہ روایات

محبت کے پیمانے بیشتر چھلکتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ جب تک عقیدت پر بصیرت غالب نہ ہو محبت کا رشتہ سنبھلتا نہیں ہے "حبک الشئ یعمی ویعصم" تیرا کسی چیز کو محبت کرنا تجھے اندھا اور بہرا بنا دیتا ہے۔

جن لوگوں نے بغیر بصیرت کے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے محبت کی ان کے جوش محبت کو کہیں تسکین نہیں ہوتی تھی جب تک کہ وہ  نئی سے نئی بات گھڑ کر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں مبالغہ نہ کریں شاعر اپنے محبوب کے ذکر میں مبالغے کی ہر منزل کس دلیری سے پھاندتا ہے  یہ اہل ادب پر مخفی نہیں ہے۔ تاہم سچ ایسی حقیقت ہے کہ اس کی کرن کہیں نہ کہیں سے پھوٹ ہی پڑتی ہے اور جھوٹ برسرِ چوراہے  پھوٹتا ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت تو  سب نے کی اور یہ کیوں نہ ہو کہ مومن کا نشان ہے لیکن عربوں اور عجمیوں کی محبت کی جہت ہمیشہ سے مختلف رہی ہے۔ عربی ذہن والوں نے کمالات کی جھلک آپ کی صفات میں دیکھی اور عجمیوں نے اسے آپ کی ذات میں گمان کیا۔ صفات کمالات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور تربیت سے ابھرتے ہیں اور ذاتی وہ جو کسی مربی کے فیض کا نتیجہ نہیں ہوتے مثلاً یہ کہ آپ کس مٹی سے پیدا کیے گئے یا یہ کہ آپ پیدا ہی اسلام پر ہوئے، آپ کا اسلام لانا خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان نہ تھا، آپ کا علم لدنی تھا۔ حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی تعلیم نہ کی تھی وغیر ذالک۔

آج ہم چند ایسی باتوں کی نشاندہی کریں گے جو حضرت علی رضی اللہ کی عقیدت میں جوش محبت سے شیعی (روافض) زورِ خطابت سے کہی جاتی ہیں اور ان کے پیچھے کوئی روایتی ثقایت نہیں ہوتی۔

شیعہ کتب احادیث عام کتب حدیث  سے مختلف ہیں۔ عام مسلمانوں میں صحاحِ ستہ اور ان سے ملحق چند اور کتابیں ہیں جو شارحین حدیث کے ہاں اپنی جگہ سند سمجھی جاتی ہیں جیسے المصنف عبد الرزاق (210ھ)، المصنف لابن ابی شیبہ (234ھ)، موطا امام مالک (179ھ)، موطا امام محمد (189ھ)، مسند امام دارمی (255ھ)، مسند امام احمد (241ھ)، مسند ابی داود طیاسی (224ھ)، مسند ابی یعلی (307ھ)، مسند ابی عوانہ (316ھ)، شرح مشکل الآثار اور شرح معنی الاثار للطحاوی (321ھ)، سنن کبریٰ امام بیہقی (458ھ)، معجم طبرانی، مستدرک امام حاکم وغیرہا۔  جمہور اہل اسلام جو اسلام کا دوسرا علمی ماخذ سنت کو سمجھتے ہیں وہ سنت انہیں کتب حدیث سے کشید کرتے ہیں اور حدیث میں صحیح و ضعیف، ناسخ و منسوخ، خاص و عام کے تمام فاصلے قائم رکھتے ہیں۔ موضوع وہ  روایات ہیں جہاں ثبوت کے سارے پیمانے ٹوٹ جاتے ہیں اور جھوٹ افتراء کی صورت میں سامنے آ جاتا ہے۔

ان کے برعکس شیعہ کی کتب حدیث ان کے اصول اربعہ ہیں۔ ان کتابوں کے جمہور اہل اسلام کسی طرح ذمہ دار نہیں نہ وہ انہیں کسی درجہ میں مستند سمجھتے ہیں۔ ان کی کتاب مدتوں معرض خفا میں رہیں، یہ اپنے مصنفین تک متواتر نہیں پہنچتی لیکن اہل سنت کی کتابیں مصنفین سے لے کر اب تک پوری شہرت سے مروی ہوتی آرہی ہیں، گو ان میں بھی ہر درجہ کی احادیث روایات ہوئی لیکن ان کے وسیع علم رجال نے اس باب میں امت کی بہت رہنمائی کی ہے۔ 

اہلسنت اپنی ابتدائی تاریخ میں بہت روادار رہے ان کا ذہن کسی طور پر فرقہ وارانہ نہ تھا شیعہ ابتدا سے ہی اپنے آپ کو عام مسلمانوں سے کٹا یا ہٹا سمجھتے تھے اور ان میں سے بعض اپنے آپ کو اہل سنت میں ملا کر رکھتے تھے اور ایسا بھی بہت ہوا کہ بعض اہلسنت رواۃ ان کی روایات کردہ حدیثوں کو ان کے نام سے آگے بھی روایت کر دیتے تھے۔ ان کی ایسی روایات ہمارے ہاں بھی نچلے درجے کی کتب حدیث میں یا کتب تاریخ میں ملتی ہیں جنہیں یہ مؤلفین از راه تساہل یا بناء تغافل ذکر کر گئے۔ موضوع حدیث کو جانتے ہوئے آگے بیان کرنا شرعا حرام ہے اور ایسے شخص کے ایمان کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے جو جان بوجھ کر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء باندھے۔ ہاں اس کے موضوع ہونے کے اظہار سے اسے کوئی روایت کرے تو یہ بے شک پیغمبر پر افترا نہ ہوگا صرف ایک غیر دانشمندانہ تساہل ہوگا۔ جن حضرات سے یہ غیر دانستہ غلطی ہوئی ہم ان کے لئے اللہ رب العزت کے حضور معافی کی درخواست کے سوا اور کیا کر سکتے ہیں۔

اہل سنت کی بلند پایہ کتب حدیث میں جس طرح حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل و مناقب کے ابواب باندھے ہیں حضرت عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کے فضائل بھی اسی طرح ان میں مروی ہیں۔ ان میں فضائل صحابہؓ اور فضائل اہلبیتؓ دونوں کے ابواب موجود ہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت مذکور ہے تو حضرت سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا کی منقبت بھی ان میں مروی ہے۔

صحیح الاعتقاد وہی لوگ ہیں جو ان ہر دو میں مودت کا عقیدہ رکھتے ہیں اور ان میں سے کسی کی علیحدگی کا دم نہیں بھرتے۔

لیجیئے اب ہم چند موضوع روایات آپ کے سامنے رکھتے ہیں جو حضرت علیؓ کے بارے میں وضع کی گئیں: 

1. خلقت انا وعلی من نور وکنا علی یمین العرش ان یخلق آدم بالفی عام  میں اور علی ایک نور سے پیدا کیے گیے اور ہم آدم ؑ کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے عرش کے دائیں جانب ہم نشین تھے 

رافضی عقیدہ:

اس حدیث سے شیعہ رافضیوں نے یہ عقیدہ بنایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نور ہونے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان کا کوئی دخل نہیں ہے، حضرت علیؓ پہلے سے نوری ہیں۔ آپ نے تعلم وتزکیہ رسول اللہ ؐ سے نہیں پایا بلکہ پہلے سے برابر کے نور چلے آ رہے ہیں۔

دنیا علم میں یہ آفت ایک روای جعفر بن احمد بن علی المعروف بابن علی العلاء سے آئی ہے۔ ابن عدی کہتے ہیں کہ یہ حدیثیں گھڑتا تھا۔ 

کنا نتھمہ بوضعھا بل نتیقن ذلک کان رافضیا وذکرہ ابن یونس فقال کان رافضیا یضع الحدیث

ترجمہ: ہم اس پر وضع حدیث کا الزام رکھتے ہیں بلکہ  ہمیں اس کا پورا  یقین تھا کہ وہ شیعہ تھا اور ابنِ یونس نے بھی اس کو رافضی کہا ہے اور حدیث گھڑنے والا۔

دیکھا! اس نے ایک ہی حدیث ایسی گھڑی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضور ؐ کا مرید اور شاگرد ثابت کرنے کے بجائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بالمقابل برابر کا ایک دوسرا منبع نور قرار دیا۔ استغفراللہ العظیم

صفحہ 1 از 4