کلمہ طیبہ (شیعہ کتب سے 25 دلائل اور اسکینز) - دفاعِ اہلِ…

کلمہ طیبہ (شیعہ کتب سے 25 دلائل اور اسکینز)

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 3

بسند معتبر از حضرت موسیٰ بن جعفر منقول است کہ یہودی رسول اللہﷺ چند دینار مے طلبید ،روزی آمد و مطالبہ آں نمود ،حضرت فرمود کہ اے یہودی ندارم کہ بدہم ،یہودی گفت از تو جدانمی شوم تابدہی فرمودکہ پس مے نشینم درینجا با تود آنحضرت بآں یہودی درآں موضع نشست تا نماز ظہر وعصر و مغرب وعشاء وبامداد را در آں موضع کردواصحاب آنحضرت یہودی را تہدیدو عیدمے نمودند پس آنحضرت متوجہ ایشاں شدد فرمود کہ چہ کار دار ید با وگفتند یا رسول اللہ یہودی تراجس کردہ است ونمی گذار د کہ بجائے روی حضرت فرمود کہ حق تعالیٰ مرا مبعوث نگردانیدہ است کہ ستم کنم برکسی کہ درامان ست باغیر اوچوں روز بلند شد ،یہودی گفت اشْهَدُ انْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّهُ وَاَنَّ مُحَمَّدً عَبْدُہُ وَرَسُولَهُ

(حیات القلوب: جلد 2 صفحہ 120)

سند معتبر کے ساتھ موسیٰ بن جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ ایک یہودی حضورﷺ کے پاس چند دینار طلب کرنے کے لیے آیا اور مطالبہ کیا حضورﷺ نے فرمایا میرے پاس نہیں ہیں یہودی نے کہا جب تک نہ لوں گا جدا نہ ہوں گا آپﷺ نے فرمایا بیٹھ جاؤ آنحضرتﷺ ابھی اس کے ساتھ بیٹھ گئے حتیٰ کہ ظہر، عصر، مغرب عشاء اور صبح وہاں رہ گئے حضورﷺ کے اصحاب نے اس یہودی پر ناراضگی کا اظہار کیا پس حضورﷺ نے فرمایا کیا بات ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ یہودی نے آپ کو بند کردیا ہے اور چھوڑتا ہی نہیں آپﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے ظلم کرنے کے لیے نہیں بھیجا یہودی نے حضورﷺ کے اخلاقِ عالیہ کو دیکھ کر کلمہ اہل سنت والا پڑھ لیا۔

اشْهَدُ انْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّهُ وَاَنَّ مُحَمَّدً عَبْدُہُ وَرَسُولَهُ

فائدہ: یہودی نے اسلام کا اظہار کیا اور یہی اہلِ سنت والا کلمہ پڑھا خدانخواستہ اگر حضورﷺ کے دربار اقدس میں یہودی کا یہ کلمہ مقبول نہ ہوتا تو حضورﷺ اس کو مسلمان قرار نہ دیتے اور اگر یہ کلمہ ناقص ہوتا تو ضرور حضورﷺ اس کے کلمے کی تکمیل فرما دیتے کیونکہ یہ کبھی ہو ہی نہیں سکتا کہ سرورِ کائناتﷺ کے سامنے ایک شخص شریعت کے خلاف کلمہ پڑھے اور حضورﷺ اس کی تصحیح نہ فرمائیں۔

چودہویں شہادت:

بسند معتبر از ابنِ عباس منقول است کہ چہل مرد از یہود ان در مدینہ بیروں آمدند و گفتند می رویم نزد ایں دروغ گو کہ می گوید کہ من بہترین پیغمبر انم تادروغ اورا ظاہر گردا نیم چوں بخدمت آنحضرتﷺ آمدند حضورﷺ فرمود کہ من تورایت رامیان خود وشما حکم مے کنم گفتند ماراضی ایم بتوریت یہوداں گفتند کہ آدمؑ از تو بہتر است برائے آنکہ حق تعالیٰ اور ابدست قدرت خود آفریدو ازروح خوددر و دمید۔ حضورﷺ فرمود ،کہ آدمؑ پدر من است وحق تعالیٰ بمن دادہ است بہتر ازاں با اودادہ یہوداں گفتند آں چیست؟فرمود کہ منادی روز ے پنج مرتبہ ندامے کند کہ اشْهَدُ انْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّهُ وَاَنَّ مُحَمَّدً رَسُولُ اللہ

(حیات القلوب: جلد 2 صفحہ 34)

سند معتبر کے ساتھ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ چالیس یہودی مدینہ میں آئے اور کہا ہم اس دروغ گو کے پاس جاتے ہیں جو یہ کہتا ہے کہ میں پیغمبر ہوں تا کہ اس کے جھوٹ کو ظاہر کریں۔جب حضورﷺ کی خدمت میں آئے حضورﷺ نے فرمایا کہ میں توریت تمہارے اور پنے درمیان رکھتا ہوں انہوں نے کہا ہم راضی ہیں یہودیوں نے کہا کہ آدم علیہ السلام آپﷺ سے بہتر تھا، اس لیے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو اپنے قدرت کے ہاتھ سے پیدا کیا تھا اور اس میں اپنا روح پھونکا تھا، حضورﷺ نے فرمایا حضرت آدم علیہ السلام میرا باپ ہے لیکن خدا نے جو کچھ مجھے دیا ہے ،وہ اس سے افضل ہے۔ یہودیوں نے کہا وہ کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا منادی ایک روز میں پانچ دفعہ ندا کرتا ہے اشْهَدُ انْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّهُ وَاَنَّ مُحَمَّدً رَسُولُ اللہ یعنی اہلِ سنت والا کلمہ۔

پندرہویں شہادت:

و درمیان دو دیدہ اش نوشتہ است کہ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ

براق کے دو آنکھوں کے درمیان اہلِ سنت والا کلمہ لکھا ہے۔

(حیات القلوب: جلد سوم صفحہ341)

سولہویں شہادت:

پس کسے بلند نمے کند صدا بکلأہ اخلاص وشہادۃ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مگر آنکہ بلند مے کند بآں صدا بشہادت مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ در اذان واقامت ونماز عید ہا و جمعہ ہا و اوقات حج و دوہر خطبہ۔

(حیات القلوب: جلد 2 صفحہ141)

پس جو بھی اخلاص کے ساتھ کلمہ شہادت لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ آواز سے بلند کرتا ہے وہی شہادت مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ کی دیتا ہے اذان و اقامت و نماز عید اور نماز جمعہ اور اوقاتِ حج میں۔

سترہویں شہادت:

چوں مرا آفریدی نظر کردم بسوئے عرش تو دیدم کہ درآن نوشتہ بود لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ

(حیات القلوب: جلد 2 صفحہ 145)

جب آپ نے مجھے پیدا کیا تو میں نے عرش کی طرف دیکھا کہ وہاں اہلِ سنت والا کلمہ لکھا ہوا تھا۔ 

اٹھارہویں شہادت:

چوں آنرا رہا کرد دویدو مے گفت اشْهَدُ اَنْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّهُ وَاَنَّ مُحَمَّدً رَسُولُ اللہ

(حیات القلوب: جلد 2 صفحہ 226)

حب حضورﷺ نے ہرنی کو رہا کردیا ہرنی دوڑی اور اہلِ سنت والا کلمہ پڑھا۔

انیسویں شہادت:

زید بن ثابت گفت واللہ من آہو رادر بیا بان دیدم کہ تسبیح وذکر لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ می گفتند کہ نام صاحب آہو آہیب بن سماع بود

(حیات القلوب: جلد 2 صفحہ226)

سیدنا زید بن ثابتؓ کہتے ہیں خدا کی قسم میں نے ہرنوں کو دیکھا کہ بیابان میں تسبیح و ذکر لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُﷲ کا کر رہے تھے۔ 

بیسویں شہادت:

چون داخل خانہ خدیجہؓ شد از شعاع خورشید جمالش خانہ خدیجہؓ منور شد خدیجہؓ گفت یامحمد ایں نور چیست کہ در تو مشاہدہ مے کنم فرمود کہ ایں نور پیغمبری است بگو لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ۔

(حیات القلوب: جلد2 صفحہ227)

جب حضورﷺ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو رسولﷺ کے حسن و جمال کے جلوے سے سیدہ خدیجہؓ کا گھر منور ہوگیا عرض کرنے لگی اے محمد! ایہ نور کیسا ہے جو کہ میں مشاہدہ کررہی ہوں؟ فرمایا یہ نور پیغمبری ہے کہہ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ

صفحہ 2 از 3