روزہ افطار کرنے کا وقت اور سُنی شیعہ اختلاف - دفاعِ اہلِ…

روزہ افطار کرنے کا وقت اور سُنی شیعہ اختلاف

  محمد ذوالقرنین

صفحہ 2 از 2

اب ہم یہ ثابت کریں گے کہ شیعہ کُتب میں بھی یہ بات موجود ہے کہ سورج غروب ہوتے ہی افطاری کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔

شیعہ اپنے اس دعوے پر کہ اہلِ سنت کی افطاری کا وقت صحیح نہیں اور اہلِ سنت کا روزہ صحیح نہیں ہوتا پر جو دلیل پیش کرتے ہیں وہ سورة البقرة کی آیت نمبر 187 ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے!

ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيۡلِ‌ۚ 

(سورۃ البقرة آیت نمبر 187)

کہ رات تک روزہ پورا کرو۔

اس آیت کو پیش کر کے شیعہ کہتے ہیں کہ اللہ نے روزہ رات کو افطار کرنے کا حکم دیا ہے نہ کہ شام کو اور اس رات سے شیعہ یہ مُراد لیتے ہیں کہ آسمان پر پوری طرح اندھیرا چھا جائے جو کہ شیعوں کے مطابق غروبِ آفتاب سے 20 سے 25 منٹ بعد کا وقت بنتا ہے۔

پہلی بات ہم بتاتے چلیں کہ اللہ نے قُرآن میں صرف دو الفاظ استعمال کیے ہیں "لیل والنہار" رات اور دن اللہ نے کہیں بھی قرآن میں "شام" کا لفظ استعمال نہیں کیا جس کی بنیاد پر شیعہ یہ کہہ سکیں کہ اللہ نے شام کے وقت افطاری کرنے کا کیوں نہیں کہا۔

اب قرآن میں یہ لفظ "لیل" رات سے مُراد کون سا وقت ہے یہ ہم شیعہ زاکرین سے ہی جانتے ہیں۔

معتبر شیعہ مفسر طبرسی "لیل" کے بارے میں لکھتا ہے کہ!

سورج غروب ہونے سے لے کر اگلی طلوع فجر تک کا وقت "لیل" رات ہے۔

(مجمع البیان فی تفسیر القرآن جلد 1 صحفہ 146)۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شیعہ علماء کے نزدیک جب سورج غروب ہو جائے تبھی "لیل" یعنی رات شروع ہو جاتی ہے۔

شیعوں کا ایک اور معتبر ذاکر مُلاباقر مجلسی لکھتا ہے!

سورج غروب ہونے سے لے کر طلوع فجر تک کا وقت اللیل رات ہے۔

(بحارُ الانوار جلد 80 صحفہ 76)۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مُلاباقر مجلسی کے نزدیک بھی رات تبھی شروع ہو جاتی ہے جب سورج غروب ہو جائے

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ نے قرآن میں بھی سورج غروب ہونے تب روزہ رکھنے کا حکم دیا کہ جب سورج غروب ہو جائے تو افطار کر لیا جائے۔

ایک اور شیعہ مفسر حسین بخش لکھتا ہے!

لیل سے مُراد غروب شمس کا یقین ہے علماء نے اس کی علامت مشرق کی سُرخی کا دور ہونا بیان فرمایا ہے اگر مشرق کی سُرخی پوری طرح زائل نہ ہوئی ہو اور غروب شمس کا یقین ہو تو افطار جائز ہے۔

(تفسیر انوارِ نجف جلد 2 صحفہ 238)۔

اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ شیعہ علماء کے نزدیک بھی جب سورج غروب ہو جائے تب رات شروع ہو جاتی ہے اور افطار کا وقت شروع ہو جاتا ہے شیعہ مفسر مزید کہتا ہے کہ اگر مشرق کی سُرخی ختم نہ بھی ہوئی ہو اور سورج غروب ہو جانے کا یقین ہو تب بھی افطار جائز ہے۔

یہی شیعہ مفسر مزید ایک مسئلہ بیان کرتا ہے! نماز مغرب کے بعد افطار کرنا بہتر ہے لیکن اگر نفس افطار کی طرف زیادہ متوجہ ہو یا کچھ آدمی اس کے افطار کے منتظر ہوں تو نماز سے پہلے افطار کرنا بہتر ہے۔

(تفسیر انوارِ نجف جلد 2 صحفہ 238)۔

اس سے بھی یہ بات مزید واضح ہو جاتی ہے ہے کہ شیعوں کے نزدیک بھی سورج غروب ہوتے ہی فوراً افطار کر لینا جائز ہے۔

اب شیعہ کتاب سے نبیﷺ کا فرمان ملاحظہ فرمائیں کہ شیعہ کتب میں نبیﷺ سے افطاری کا کیا وقت منقول ہے۔

شیعہ ذاکر عاملی نقل کرتا ہے!

سیدنا محمد باقرؒ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا جب سورج کا گولہ چھپ جائے (یعنی غروب ہو جائے) تو روزہ دار افطار کر سکتا ہے“۔

(وسائل الشیعة (عربی) جلد 4 صحفہ 179)۔

(وسائل الشیعة (اردو) جلد 3 صحفہ 123)۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شیعہ کتاب میں بھی نبیﷺ سے افطاری کا جو وقت منقول ہے وہ یہی ہے کہ جب سورج غروب ہو جائے نہ کہ غروب کے 20 منٹ بعد۔

اب مُلاحظہ فرمائیں کہ سیدنا جعفر صادقؒ افطاری کے وقت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔

شیعہ ذاکر عاملی شیخ صدوق کے حوالے سے نقل کرتا ہے کہ! سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا جب سورج ڈوب جائے تو روزہ کھولنا جائز ہو جاتا ہے اور نماز پڑھنا واجب ہو جاتا ہے۔

(وسائل الشیعة (عربی) جلد 4 صحفہ 179)۔

(وسائل الشیعة (اردو) جلد 3 صحفہ 123)۔

اور یہ روایت شیعہ کے شیخ صدوق نے "من لا یحضر الفقیہ" جلد 1 صحفہ 155 پر نقل کی ہے۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ شیعہ کتب کے مطابق بھی "اللیل" یعنی رات سورج غروب ہونے کو کہتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہو گیا کہ شیعہ علماء کے نزدیک بھی افطاری کا وقت سورج غروب ہوتے ہی شروع ہو جاتا ہے اس لیے کسی شیعہ کا اس مسئلہ پر اہلِ سنت کے بارے میں یہ کہنا کہ اہلِ سنت کا افطاری کا وقت ہی ثابت نہیں اور اس وقت پر افطاری نہیں ہوتی بلکل باطل قول ہے کیونکہ ان کی کتب کے مطابق بھی سورج غروب ہونے پر افطاری کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور افطار کرنا جائز ہو جاتا ہے جبکہ ہمارے نزدیک سورج غروب ہوتے ہی افطاری کرنا سنت و افضل ہے۔

اس لیے اس مسئلہ پر بحث کرنے کی بجائے شیعہ کو حق کو تسلیم کرنا چاہیے۔



صفحہ 2 از 2