بنات اربعہ شیعہ کتب کی روشنی میں - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

بنات اربعہ شیعہ کتب کی روشنی میں

  محمد ذوالقرنین الحنفی

صفحہ 2 از 3

نہج البلاغہ میں سیدنا علیؓ کے ایک خطبہ سے بھی رسولﷺ کی ایک سے زیادہ بیٹیاں ہونے کا اشارہ ملتا ہے، قصہ کچھ یوں ہے کہ:

جب لوگوں نے سیدنا علیؓ کو سیدنا عثمانؓ سے بات چیت کرنے کے لئے کہا تو سیدنا علیؓ نے سیدنا عثمانؓ سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اور تم ( سیدنا عثمانؓ) تو رسولﷺ سے خاندانی قرابت کی بناء پر اُن دونوں(سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ) سے قریب تر بھی ہو،اور ان (رسولﷺ) کی ایک طرح کی دامادی بھی تمہیں حاصل ہے کہ جو سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کو حاصل نہ تھی۔

(نہج البلاغہ،خطبہ نمبر 162)

اس خطبہ سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ تو رسولﷺ کی بیٹیاں سیدنا عثمانؓ کے نکاح میں تھیں کیونکہ سیدنا علیؓ نے سیدنا عثمانؓ کو فرمایا کہ آپ کو نبیﷺ کی دامادی بھی حاصل ہے جو سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کو حاصل نہیں تھی۔

شیعہ زاکر نمعة اللہ الجزائری بھی اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ نبیﷺ کی چار بیٹیاں تھیں، لکھتا ہے:

نبیﷺ نے سیدہ خدیجہؓ سے شادی کی تو ان سے سیدنا عبداللہؓ پیدا ہوئے جو کہ طیب و طاہر ہیں اور ان سے سیدنا قاسمؓ پیدا ہوئے اور چار بیٹیاں پیدا ہوئیں سیدہ زینبؓ، سیدہ رقیہؓ، سیدہ اُمِ کلثومؓ اور سیدہ فاطمہؓ، سیدہ زینبؓ کا نکاح زمانہ جاہلیت میں سیدنا ابو العاصؓ سے ہوا اور سیدہ رقیہؓ کا نکاح عتبہ بن ابو لہب سے ہوا اور رخصتی سے قبل طلاق ہو گئی تو پھر سیدہ رقیہؓ اور سیدہ اُمِ کلثومؓ کی شادی سیدنا عثمان بن عفانؓ سے ہوئی۔

(انوارالنعمانیہ، جلد1، صحفہ 340)

اس کے ساتھ ساتھ شیعہ زاکر عباس قمی بھی یہی لکھتا ہے کہ:

قرب الاسناد میں سیدنا جعفر صادقؒ سے وارد ہوا ہے(وہ سیدنا باقرؒ سے نقل کرتے ہیں) کہ نبیﷺ کو سیدہ خدیجہؓ سے سیدنا قاسمؓ، سیدنا طاہرؓ، سیدہ فاطمہؓ، سیدہ اُمِ کلثومؓ، سیدہ رقیہؓ اور سیدہ زینبؓ پیدا ہوئیں، سیدہ فاطمہؓ سے سیدنا علیؓ نے نکاح کیا، سیّدنا ابو العاصؓ نے سیدہ زینبؓ سے نکاح کیا اور سیدہ اُمِ کلثومؓ سے سیدنا عثمان بن عفانؓ نے نکاح کیا لیکن وہ رخصتی سے قبل وفات پا گئیں تو رسولﷺ نے سیدہ رقیہؓ کی شادی بھی سیدنا عثمانؓ سے کر دی۔

(منتھیٰ الامال،جلد1،صحفہ151)

شیعہ مٶرخین نے بھی اس بات کا اقرار کیا ہے کہ نبیﷺ کی چار بیٹیاں تھیں۔

شیعہ مٶرخین میں سب سے زیادہ مشہور احمد بن ابو یعقوب ہے وہ اپنی کتاب تاریخی یعقوبی میں نبیﷺ کے سیدہ خدیجہؓ سے نکاح کے باب میں لکھتا ہے کہ:

نبیﷺ نے تیس سال کی عمر میں سیدہ خدیجہؓ سے نکاح کیا، اور بعثت سے قبل ان سے سیدنا قاسمؓ، سیدہ رقیہؓ، سیّدہ زینبؓ اورسیدہ اُمِ کلثومؓ پیدا ہوئیں اور بعثت کے بعد سیدنا عبداللہؓ پیدا ہوئے اور وہی طیب و طاہر ہیں کیونکہ وہ بعد میں پیدا ہوئے اورسیدہ فاطمہؓ پیدا ہوئیں۔

(تاریخ یعقوبی،جلد2،صحفہ نمبر 15)

اس کے ساتھ مشہور شیعہ مٶرخ محمد ہاشم خراسانی نے بھی نبیﷺ کی چار بیٹیاں ہونے کا اعتراف کیا ہے، لکھتا ہے:

(نبیﷺ کی اولاد کے باب میں الکافی کے حوالے سے لکھتا ہے کہ)سیدہ خدیجہؓ سے نبیﷺ کو چار بیٹیاں تھیں، سیدنا قاسمؓ، اور سیدہ زینبؓ، سیدہ رقیہؓ اور سیدہ اُمِ کلثومؓ بعثت سے قبل پیدا ہوئے اور سیدنا طاہرؓ و سیدہ فاطمہؓ بعثت کے بعد پیدا ہوئے، اور مناقب ابنِ اشہر آشوب کے حوالے سے بھی یہی لکھتا ہے کہ نبیﷺ کی چار بیٹیاں تھیں،(پھر لکھتا ہے) سیدنا ابراہیمؓ، سیدہ ماریہؓ قبطیہ سے تھے، اور نبیﷺ کی تمام اولاد سوائے سیدہ فاطمہؓ کے نبیﷺ کی وفات سے قبل فوت ہوگئی۔

(منتخب التواریخ فارسی،جلد1،صحفہ 23)

شیعہ زاکر عبداللہ المامقانی جو کہ علم الرجال میں شیعہ میں بہت بڑا مقام رکھتا ہے وہ اپنی کتاب تنقیح المقال میں نبیﷺ کی اولاد و ازواج کے باب میں لکھتا ہے:

نبیﷺ نے سیدہ خدیجہؓ سے شادی کی اور ان کو سیدہ خدیجہؓ سے بعثت سے قبل سیدنا قاسمؓ، سیدہ رقیہؓ، سیدہ زینبؓ اور سیدہ اُمِ کلثومؓ پیدا ہوئیں ، اور بعثت کے بعد نبیﷺ کی اولاد سیدنا ابراہیمؓ (یہ ماریہؓ قبطیہ سے)، سیدنا طاہرؓ(عبداللہ)اور سیدہ فاطمہؓ پیدا ہوئیں۔

(تنقیح المقال،جلد1،صحفہ 186،187)

شیعہ ایک بے بنیاد اعتراض اور کرتے ہیں کہ اگر نبیﷺ کی کوئی اور بیٹی بھی تھی تو نبیﷺ نے کبھی اس کی فضیلیت کیوں بیان نہیں کی ؟

جبکہ یہ اعتراض بھی باطل اور جھوٹ ہے شیعہ کتب میں ہی اس اعتراض کا جواب موجود ہے۔

شیعہ زاکر شیخ صدوق ہی نقل کرتا ہے کہ:

نبیﷺ نے ایک دن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا! اے لوگو کیا میں تم کو ایسے اشخاص کے بارے میں نہ بتاؤں جو لوگوں میں اپنے ماموں اور خالہ کے اعتبار سے سب سے بہترین ہیں؟ تو لوگوں نے کہا بتائیں یا رسول اللہﷺ، تو رسولﷺ نے فرمایا، وہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ ہیں اور ان کے ماموں سیدنا قاسمؓ بن رسول اللہﷺ اور ان کی خالہ سیدہ زینبؓ بنتِ رسول اللہﷺ ہیں، پھر ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ ہم قیامت کے دن ایسے اکھٹے ہوں گے پھر فرمایا اے اللہ تو جانتا ہے کہ ان کے ماموں اور ان کی خالہ جنت میں ہیں اور تو جانتا ہے جو ان سے محبت کرے وہ جنت میں ہے اور جو ان سے بغض رکھے وہ جہنم میں ہے۔

(الامالی الصدوق،صحفہ 315 تا 318)

یہاں پر نبیﷺ نے لوگوں میں سب سے بہترین ماموں اور سب سے بہترین خالہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ سیدنا قاسمؓ بن رسول اللہﷺ اور سیدہ زینبؓ بنتِ رسول اللہﷺ ہیں، اور جو ان سے محبت کرے گا وہ جنت میں جائے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ جہنم میں جائے گا جبکہ شیعہ تو سِرے سے ہی خالہ کے انکاری ہیں تو ان کا کیا حشر ہو گا وہ یہ خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔

اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبیﷺ کی دیگر بیٹیوں کی فضیلت بھی شیعہ کتب میں موجود ہے اور باقی بیٹیاں بھی نبیﷺ کی ہی اولاد تھیں کیونکہ نبیﷺ نے زینب بنتِ رسول اللہﷺ فرمایا۔

ان تمام دلائل سے روزِ روشن کی طرح یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شیعہ کتب اور شیعہ علماء کے مطابق بھی نبیﷺ کی چار بیٹیاں تھیں نہ کہ ایک اور باقی سب بیٹیاں بھی نبیﷺ سے پیدا ہوئیں تھیں، نہ کہ سیدہ خدیجہؓ کی بہن سے نہ ہی سیدہ خدیجہؓ کے سابقہ شوہر سے۔

صفحہ 2 از 3