کیا حضرت امیر معاویہؓ کو حضورﷺ نے بد دعا دی؟ - ردِ رافضیت |…

کیا حضرت امیر معاویہؓ کو حضورﷺ نے بد دعا دی؟

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 5 از 6
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ : أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَام لَيْلَةً فَقَالَ : أَلَا تُصَلِّيَانِ ؟ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا ، فَانْصَرَفَ حِينَ قُلْنَا ذَلِكَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُوَلٍّ يَضْرِبُ فَخِذَهُ , وَهُوَ يَقُولُ : وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا .

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ان کے اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم لوگ ( تہجد کی ) نماز نہیں پڑھو گے؟ میں عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہماری روحیں اللہ کے قبضہ میں ہیں، جب وہ چاہے گا ہمیں اٹھا دے گا۔ ہماری اس عرض پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن واپس جاتے ہوئے میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ران پر ہاتھ مار کر ( سورۃ الکہف کی یہ آیت پڑھ رہے تھے ) آدمی سب سے زیادہ جھگڑالو ہے «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا‏» ۔

(بخاري: 1127)

مذکورہ حدیث پر غور کریں معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رات کے ٹائم تہجد کے لیے اٹھنے کا حکم دیا لیکن سامنے سے انہوں نے بشری تقاضہ کے مطابق اس بات کو اس وقت قبول کرنے سے کوتاہی کر لی کیونکہ ان کا خیال یہی ہوگا کہ تہجد فرض نہیں لہٰذا اللہ نے جب توفیق دی تو اٹھ کر پڑھیں گے۔

مرزا صاحب! اگر کوئی ناصبی کھڑا ہو جائے اور کہنے لگ جائے کہ معاذاللہ علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی نافرمانی کر دی؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افسوس میں آیت پڑھ دی، تو آپ کیا جواب دینگے؟؟

ہم تو اس شخص کو منہ توڑ جواب دیں گے حضرت علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کی گستاخی مت کر ان جنتی انسانوں کا ارادہ یہی تھا کہ تہجد فرض نہیں ہم بعد میں اٹھ کر لیں گے۔

مرزا صاحب! حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف تو آپ چیخ چیخ کر زبان درازی کرتے ہیں اور باطل کو حق بنانے کی ناکام کاوش کرتے ہیں لیکن اس مذکور حدیث پر آپ خاموش کیوں؟؟

آپ کی عدل پرستی کہاں گئی؟؟

مجھے پتہ ہے اگر تو نے یہ حدیث اور اسکا وہ باطل مفہوم عوام کے سامنے بیان کر دیا جس طرح کا مفہوم آب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف نکالتے ہیں تو تجھے تیرے حواری گریباں سے پکڑ کر گھسیٹیں گے۔

"معاویہؓ کا پیٹ نہ بھرے" یہ الفاظ ظاہری طور پر بھی بددعا نہیں ہیں کیوں کہ احادیث میں پیٹ کا بھرا ہوا بطور تنقیص آیا یے اور پیٹ کا نہ بھرنا بطور فضیلت آیا یے

پھر بھی اگر کوئی جاہل کہتا ہے کہ یہ الفاظ تو بددعا معلوم ہوتے ہیں اسکو کہیں اسطرح کے الفاظ تو پھر اور جگہ بھی آئیں ہیں انکی پھر تفصیل کیوں بتانے بیٹھ جاتے ہو کہ یہ بددعا نہیں ہیں؟

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

1:صفیہ تو بانجھ ہو

2: ام انس! تیری عمر کھبی نہ بڑھے

3: ابو ذرا تیری ماں تجھے گم پائے

تو کیا اس کو بددعا تسلیم کرو گے؟ دیکھنے سے تو یہ الفاظ بددعا ہی معلوم ہو رہے ہیں یا اسطرح کہو گے کہ نہیں یہ بددعا نہیں اسکا فلاں مطلب یے اسکا فلاں مطلب ہے

 معاویہؓ کا پیٹ نہ بھرے "

مجھے ہنسی آتی یے مرزا کے علمی یتیم مقلدین پر چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہیں انکی 

"معاویہؓ کا پیٹ نہ بھرے" کو کہتے بددعا ہے

پہلی بات یہ لوگ اتنا نہیں سوچتے کہ حدیث میں یہ ذکر ہی نہیں ہے کہ سیدنا معاویہؓ تک پیغام پہنچا ہو تب انہوں نے کہا ہو میں کھانا کھا رہا ہوں جب ان تک پیغام ہی نہیں پہنچا تو انکا کیا قصور؟

اور ہاں آج ہم کسی قسم کا کوئی اور حوالہ نہیں دیں گے صرف احادیث سے ہی انکی سانسیں بند کر دیں گے ان شاء اللہ

دلیل 1: پہلی بات معاویہؓ کا پیٹ نہ بھرے بددعا نہیں ہے بلکہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے:

اللہ معاویہؓ کا پیٹ بھر دے تو یہ بددعا کہی جا سکتی تھی کیوں کہ دنیا میں پیٹ کا بھرا ہونا بطور مذمت اور پیٹ کا نہ بھرا ہونا بطور فضیلت احادیث میں بیان ہوا ہے۔ پیٹ کے نہ بھرنے کو احادیث میں اچھا جبکہ پیٹ کے بھر جانے کو برا کہا گیا ہے۔

 ترمزی حدیث نمبر 2380 میں پیٹ کا بھرا ہونا بطورِ مذمت آیا ہے جبکہ پیٹ کا نہ بھرا ہونا بطور فضیلت آیا ہے۔

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”کسی آدمی نے کوئی برتن اپنے پیٹ سے زیادہ برا نہیں بھرا، آدمی کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ اپنے کھانے کے لیے، ایک تہائی پانی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے باقی(خالی) رکھے۔ (ترمزی:2380)

دنیا میں پیٹ نہ بھرنے کو مومن کی شان بتایا گیا یے جبکہ پیٹ بھرا ہونا مومن کی شان نہیں یے بلکہ پیٹ خالی کا حکم ہے یعنی اتنا کھانا ہے کہ پیٹ نہ بھر سکے

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی تھی وہ تھی اللہ معاویہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ نہ بھرے یعنی کھبی پیٹ نہ بھرے مطلب اگر پیٹ بھر گیا تو اس حدیث کے خلاف ہو جائے گا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھانا بلکہ پیٹ خالی رکھنا یے تو معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ دعا ہی تھی۔

کہ پیٹ نہ بھرے اور یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے پیٹ بھر کر نہیں کھانا بلکہ پیٹ خالی رکھنا ہے۔

دلیل 2: جس کا دنیا میں کھانے کی وجہ پیٹ بھرا رہا قیامت کے دن وہ سب سے زیادہ بھوکے رہیں گے

(سلسلہ احادیث صحیحہ:2693) 

 یعنی قیامت کے دن بھوکے وہ رہیں گے جو دنیا میں پیٹ بھر بھر کر کھاتے رہے

صفحہ 5 از 6