کیا حضرت امیر معاویہؓ کو حضورﷺ نے بد دعا دی؟ - ردِ رافضیت |…

کیا حضرت امیر معاویہؓ کو حضورﷺ نے بد دعا دی؟

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 4 از 6

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس کچھ بکریاں جمع ہو گئیں تو آپﷺ نے فرمایا: ابوذر! تم ان بکریوں کو جنگل میں لے جاؤ، چنانچہ میں انہیں ہانک کر مقام ربذہ کی طرف لے گیا، وہاں مجھے جنابت لاحق ہو جایا کرتی تھی اور میں پانچ پانچ چھ چھ روز یوں ہی رہا کرتا، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: ابوذر! میں خاموش رہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں تم پر روئے، ابوذر! تمہاری ماں کے لیے بربادی ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے ایک کالی لونڈی بلائی، وہ ایک بڑے پیالے میں پانی لے کر آئی، اس نے میرے لیے ایک کپڑے کی آڑ کی اور ( دوسری طرف سے ) میں نے اونٹ کی آڑ کی اور غسل کیا، ( غسل کر کے مجھے ایسا لگا ) گویا کہ میں نے اپنے اوپر سے کوئی پہاڑ ہٹا دیا ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو ( کے پانی کے حکم میں ) ہے، اگرچہ دس برس تک پانی نہ پائے، جب تم پانی پا جاؤ تو اس کو اپنے بدن پر بہا لو، اس لیے کہ یہ بہتر ہے ۔

اس روایت میں جو بد دعا ہے وہ غیر ارادی طور پر ہے۔ اس طرح کئ ایک مثال کتب احادیث میں موجود ہیں۔

دوسری مثال:

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نُرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ فَلَمَّا قَدِمْنَا تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَحِلَّ فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ فَأَحْلَلْنَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَحِضْتُ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ قَالَ وَمَا طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَكَّةَ قُلْتُ لَا قَالَ فَاذْهَبِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ ثُمَّ مَوْعِدُكِ كَذَا وَكَذَا قَالَتْ صَفِيَّةُ مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَهُمْ قَالَ عَقْرَى حَلْقَى أَوَ مَا طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ قُلْتُ بَلَى قَالَ لَا بَأْسَ انْفِرِي قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُصْعِدٌ مِنْ مَكَّةَ وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهَا أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهُوَ مُنْهَبِطٌ مِنْهَا

ترجمہ: ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ہم حج کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ ہماری نیت حج کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ جب ہم مکہ پہنچے تو ( اور لوگوں نے ) بیت اللہ کا طواف کیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا کہ جو قربانی اپنے ساتھ نہ لایا ہو وہ حلال ہو جائے۔ چنانچہ جن کے پاس ہدی نہ تھی وہ حلال ہو گئے۔ (افعال عمرہ کے بعد) آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہراتؓ ہدی نہیں لے گئی تھیں، اس لئے انہوں نے بھی احرام کھول ڈالے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں حائضہ ہوگئی تھیں س لیے بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی ( یعنی عمرہ چھوٹ گیا اور حج کرتی چلی گئی ) جب محصب کی رات آئی، میں نے کہا یا رسول اللہ! اور لوگ تو حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس ہو رہے ہیں لیکن میں صرف حج کر سکی ہوں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ جب ہم مکہ آئے تھے تو تم طواف نہ کر سکی تھی؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم تک چلی جا اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ ( پھر عمرہ ادا کر ) ہم لوگ تمہارا فلاں جگہ انتظار کریں گے اور صفیہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے میں بھی آپ ( لوگوں ) کو روکنے کا سبب بن جاوں گی۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقری حلقی (تو بانجھ ہو اور تیرے حلق میں بیماری ہو)

کیا تو نے یوم نحر کا طواف نہیں کیا تھا؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں میں تو طواف کر چکی ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں چل کوچ کر۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو آپ مکہ سے جاتے ہوئے اوپر کے حصہ پرچڑھ رہے تھے اور میں نشیب میں اتر رہی تھی یا یہ کہا کہ میں اوپر چڑھ رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس چڑھاو کے بعد اتر رہے تھے۔

(صحیح بخاری حدیث نمبر: 1561)

مرزائی دوسرا اعتراض یہ کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا پھر بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نہیں آئے!!!

جواب: اولاً:

اس روایت میں یہ نہیں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو کہا ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بلا رہے ہیں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جانے سے جواب دے دیا ہو بلکہ روایت کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ آئے تھے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو کھاتے دیکھا اور چلے گئے اور آ کر رسول اللہ سلم کو بتایا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کھانا کھا رہے ہیں۔

ثانیاً:

اگر بالفرض مان لیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہوگا پھر بھی فوراً نہیں آئے کیونکہ آپ کھانا کھا رہے تھے اور اسلام نے تو یہاں تک اصول بیان کیا ہے کہ انسان اگر بھوکا ہو تو پہلے کھانا کھائے اور فرض نماز بعد میں پڑھے، ہمیں کیا حق بنتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کا حکم لگائیں۔

مرزائی صاحبان!

اگر آپ لوگ اتنے معتدل مزاج انسان ہیں اور اپنے آپ کو بڑے حق پرست تصور کرتے ہیں تو مندرجہ ذیل میں ایک حدیث پڑھیں اور نتائج پر غور کریں پھر وہ حکم لگائیں جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر آپ نے لگایا ہے۔

صفحہ 4 از 6