کیا حضرت امیر معاویہؓ کو حضورﷺ نے بد دعا دی؟ - ردِ رافضیت |…

کیا حضرت امیر معاویہؓ کو حضورﷺ نے بد دعا دی؟

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 3 از 6
ہِيَ کَلِمَۃٌ لَّا یُرَادُ بِہَا الدُّعَائُ، وَإِنَّمَا تُسْتَعْمَلُ فِي الْمَدْحِ، کَمَا قَالُوا لِلشَّاعِرِ، إِذَا أَجَادَ، : قَاتَلَہُ اللّٰہُ، لَقَدْ أَجَادَ ۔

’’یہ ایسا کلمہ ہے کہ اس سے بددعا مراد نہیں ہوتی اسے صرف تعریف کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جیسا کہ جب کوئی شاعر عمدہ شعر کہے تو عرب لوگ کہتے ہیں: قَاتَلَہُ اللّٰہُ (اللہ تعالیٰ اسے مارے)، اس نے عمدہ شعر کہا ہے۔‘‘

(شرح صحیح البخاري: جلد 9 صفحہ 329)

اسی طرح ابن كثير رحمۃاللہ علیہ " البداية والنهاية " میں حضرت معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنهما کے ترجمے میں بہت ہی خوبصورت ترین بات فرماتے ہیں:

وقد انتفع معاوية بهذه الدعوة في دنياه وأخراه ؛ أما في دنياه: فإنه لما صار إلى الشام أميراً، كان يأكل في اليوم سبع مرات يجاء بقصعة فيها لحم كثير وبصل فيأكل منها ، ويأكل في اليوم سبع أكلات بلحم، ومن الحلوى والفاكهة شيئاً كثيراً، ويقول: والله ما أشبع وإنما أعيا، وهذه نعمة ومعدة يرغب فيها كل الملوك۔

علامہ ابن کثیر رحمۃاللہ نے فرمایا: یقیناً حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس دعا سے دنیا اور آخرت میں فائدہ لیا ہے۔ دنیا میں فائدہ یوں لیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جب شام کے امیر بنے تھے تو آپ ایک دن میں سات مرتبہ کھاتے تھے ان کے سامنے ایک بہت بڑا تھال لایا جاتا تھا جس میں بہت زیادہ گوشت اور پیاز ہوتا تھا پھر آپ اس سے کھاتے تھے اور آپ دن میں سات مرتبہ گوشت کھاتے تھے اور بہت زیادہ مٹھائی اور پھل کھاتے تھے اور کہتے تھے: اللہ کی قسم میرا پیٹ نہیں بھرتا میں کھا کھا کے تھک جاتا ہوں اور یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ اس طرح کا معدہ انسان کے پاس ہو جس کے لیے بادشاہ شوق رکھتے اور ترستے ہیں۔

اسی طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس دعا سے اخروی فائدہ بھی حاصل کیا چنانچہ ابن کثیر رحمۃاللہ نے فرمایا:

وأما في الآخرة : فقد أتبع مسلم هذا الحديث بالحديث الذي رواه البخاري وغيرهما من غير وجه عن جماعة من الصحابة .أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : "اللهم إنما أنا بشر فأيما عبد سببته أو جلدته أو دعوتہ عليه وليس لذلك أهلاً فاجعل ذلك كفارةً وقربة تقربه بها عندك يوم القيامة "۔

یعنی آخرت میں فائدہ اس طرح لیا کہ امام مسلم رحمۃاللہ نے اس حدیث کو اس حدیث کے بعد ذکر کیا ہے جس کو بخاری وغیرہ نے بھی کئی اسناد سے کئی صحابہ کرامؓ سے روایت کیا ہے بے شک رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے اللہ میں ایک انسان ہوں جس کو بھی میں نے دنیا میں برا بھلا کہا ہے یا سزا دی ہے یا بد دعا دی ہے اور وہ اس کا اھل نہیں ہے تو اس بد دعا کو اس کے لیے گناہوں کا کفارہ بنا دے اور اس کو قیامت کے دن تیرے پاس قریب ہونے کا سبب بنا دینا۔

اسی طرح یہ بات یاد رکھیں عرب ان الفاظ کو غیر ارادی طور پر استعمال کرتے ہیں۔

جیسا کہ امام نووی رحمۃاللہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

إِنَّ مَا وَقَعَ مِنْ سَبِّہٖ وَدُعَائِہٖ وَنَحْوِہٖ، لَیْسَ بِمَقْصُودٍ، بَلْ ہُوَ مِمَّا جَرَتْ بِہٖ عَادَۃُ الْعَرَبِ فِي وَصْلِ کَلَامِہَا بِلَا نِیَّۃٍ، کَقَوْلِہٖ: ’تَرِبَتْ یَمِینُکَ‘، ’وعَقْرٰی حَلْقٰی‘، وَفِي ہٰذَا الْحَدِیثِ : ’لَا کَبِرَتْ سِنُّکِ‘، وَفِي حَدِیثِ مُعَاوِیَۃَ : ’لَا أَشْبَعَ اللّٰہُ بَطْنَہٗ‘، وَنَحْوِ ذٰلِکَ، لَا یَقْصُدُونَ بِشَيئٍ مِّنْ ذٰلِکَ حَقِیقَۃَ الدُّعَائ ۔

’’بعض احادیث میں (صحابہ کرام کے لیے)رسول اللہﷺ  کی جو بددعا وغیرہ منقول ہے، وہ حقیقت میں بددعا نہیں، بلکہ یہ ان باتوں میں سے ہے جو عرب لوگ بغیر نیت کے بطورِ تکیۂ کلام کے طور پر بول دیتے ہیں۔ (بعض احادیث میں کسی صحابی کو تعلیم دیتے ہوئے)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ

تَرِبَتْ یَمِینُکَ‘

(تیرا داہنا ہاتھ خاک آلود ہو)

(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ)

عَقْرٰی حَلْقٰی

(تُو بانجھ ہو اور تیرے حلق میں بیماری ہو)

ایک حدیث میں یہ فرمان کہ

لَا کَبِرَتْ سِنُّکِ‘

(تیری عمر زیادہ نہ ہو)

اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ

لَا أَشْبَعَ اللّٰہُ بَطْنَہٗ

(اللہ تعالیٰ ان کا پیٹ نہ بھرے)

یہ ساری باتیں اسی قبیل سے ہیں۔ ایسی باتوں سے اہل عرب بددعا مراد نہیں لیتے۔

یعنی یہاں اصل معنیٰ مراد نہیں ہوتا جس کے لیے کئی مثالیں احادیث میں موجود ہیں۔ ہم دو مثالیں ذکر کرتے ہیں۔

مثال نمبر ایک:

عَنْ أَبِي ذَرٍّ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ اجْتَمَعَتْ غُنَيْمَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ يَا أَبَا ذَرٍّ، ‌‌‌‌‌‏ابْدُ فِيهَا، ‌‌‌‌‌‏فَبَدَوْتُ إِلَى الرَّبَذَةِ فَكَانَتْ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأَمْكُثُ الْخَمْسَ وَالسِّتَّ، ‌‌‌‌‌‏فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ أَبُو ذَرٍّ، ‌‌‌‌‌‏فَسَكَتُّ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ أَبَا ذَرٍّ لِأُمِّكَ الْوَيْلُ، ‌‌‌‌‌‏فَدَعَا لِي بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ فَجَاءَتْ بِعُسٍّ فِيهِ مَاءٌ فَسَتَرَتْنِي بِثَوْبٍ وَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَةِ وَاغْتَسَلْتُ فَكَأَنِّي أَلْقَيْتُ عَنِّي جَبَلًا، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ، ‌‌‌‌‌‏فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ ، ‌‌‌‌‌‏رواہ ابوداؤد: 332
صفحہ 3 از 6