کیا حضرت امیر معاویہؓ کو حضورﷺ نے بد دعا دی؟ - ردِ رافضیت |…

کیا حضرت امیر معاویہؓ کو حضورﷺ نے بد دعا دی؟

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 2 از 6

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ: میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک رسول اللہﷺ  تشریف لے آئے، میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا کہا: آپ آئے اور میرے دونوں شانوں کے درمیان اپنے کھلے ہاتھ سے ہلکی سی ضرب لگائی(مقصود پیار کا اظہار تھا) اور فرمایا: "جاؤ میرے لیے معاویہ کو بلا لاؤ۔ "میں نے آپ سے آ کر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ آپ نے دوباره مجھ سے فرمایا: "جاؤ معاویہ کو بلا لاؤ۔ "میں نے پھر آ کر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں، تو آپ نے فرمایا: "اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے۔ "

(رواہ مسلم: حدیث: 6628)

اس روایت میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں(اللہ اس کے پیٹ کو نہ بھرے) اس سے کچھ ہواء پرست لوگ یہ دلیل لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ الفاظ معاویہ کی مذمت اور انکے بد دعا ہے۔

حالانکہ حقیقت پر غور کیا جائے تو یہ الفاظ معاویہؓ کی فضیلت کو بیان کر رہے ہیں کیونکہ امام مسلم رحمۃاللہ بھی اس حدیث سے فضل معاویہؓ سمجھے ہیں تبھی تو اس روایت کو ان احادیث کے ساتھ لائے ہیں جن کے الفاظ ہیں۔

اللَّهُمَّ إنَّما أنا بَشَرٌ، فأيُّما رَجُلٍ مِنَ المُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ، أوْ لَعَنْتُهُ، أوْ جَلَدْتُهُ، فاجْعَلْها له زَكاةً ورَحْمَةً. وفي روايةٍ: عَنِ النبيِّ ﷺ، مِثْلَهُ، إلّا أنَّ فيه زَكاةً وأَجْرًا۔
(صحيح مسلم2601.)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے اللہ میں انسان ہوں جس بھی مسلمان شخص کو میں نے برا بھلا بولا یا اس پر لعنت کی یا اسے سزا دی تو اس کو اس کے لیے گناہوں سے کفارہ اور رحمت بنا دے ایک روایت میں ہے کہ اس کے لیے اجر بنا دے۔

اسی طرح یہ واقعہ بھی مسلم شریف میں اسی ضمن میں موجود ہے۔

قال حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَتِيمَةَ فَقَالَ آنْتِ هِيَهْ لَقَدْ كَبِرْتِ لَا كَبِرَ سِنُّكِ فَرَجَعَتْ الْيَتِيمَةُ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَبْكِي فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَا لَكِ يَا بُنَيَّةُ قَالَتْ الْجَارِيَةُ دَعَا عَلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَكْبَرَ سِنِّي فَالْآنَ لَا يَكْبَرُ سِنِّي أَبَدًا أَوْ قَالَتْ قَرْنِي فَخَرَجَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةً تَلُوثُ خِمَارَهَا حَتَّى لَقِيَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَدَعَوْتَ عَلَى يَتِيمَتِي قَالَ وَمَا ذَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ زَعَمَتْ أَنَّكَ دَعَوْتَ أَنْ لَا يَكْبَرَ سِنُّهَا وَلَا يَكْبَرَ قَرْنُهَا قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ أَمَا تَعْلَمِينَ أَنَّ شَرْطِي عَلَى رَبِّي أَنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي فَقُلْتُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ وَأَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَزَكَاةً وَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔
(رواہ مسلم: 6627)

حضرت انس بن مالکؓ نے بیان کیا کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس ایک یتیم لڑکی تھی اور یہی(ام سلیم رضی اللہ عنہا ) ام انس بھی کہلاتی تھیں، رسول اللہﷺ  نے اس کو دیکھا تو فرمایا:

"تو وہی لڑکی ہے، تو بڑی ہو گئی ہے! تیری عمر بڑی نہ ہو" وہ لڑکی روتی ہوئی واپس حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے پوچھا: بیٹی! تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا: نبیﷺ نے میرے خلاف دعا فرما دی ہے کہ میری عمر زیادہ نہ ہو، اب میری عمر کسی صورت زیادہ نہ ہو گی، یا کہا: اب میرا زمانہ ہرگز زیادہ نہیں ہو گا، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا جلدی سے دوپٹہ لپیٹتے ہوئے نکلیں، حتیٰ کہ رسول اللہﷺ  کے پاس حاضر ہوئیں، رسول اللہﷺ نے ان سے پوچھا: "ام سلیم! کیا بات ہے؟" حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے نبی! کیا آپ نے میری (پالی ہوئی) یتیم لڑکی کے خلاف دعا کی ہے؟ آپ نے پوچھا: "یہ کیا بات ہے؟ "حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ کہتی ہے آپ نے دعا فرمائی ہے کہ اس کی عمر زیادہ نہ ہو اور اس کا زمانہ لمبا نہ ہو، (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو رسول اللہﷺ  ہنسے، پھر فرمایا: "ام سلیم! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے اپنے رب سے پختہ عہد لیا ہے، میں نے کہا: میں ایک بشر ہی ہوں, جس طرح ایک بشر خوش ہوتا ہے، میں بھی خوش ہوتا ہوں اور جس طرح بشر ناراض ہوتے ہیں میں بھی ناراض ہوتا ہوں۔ تو میری امت میں سے کوئی بھی آدمی جس کے خلاف میں نے دعا کی اور وہ اس کا مستحق نہ تھا تو اس دعا کو قیامت کے دن اس کے لیے پاکیزگی، گناہوں سے صفائی اور ایسی قربت بنا دے جس کے ذریعے سے تو اسے اپنے قریب فرما لے۔"

اس حدیث کے حوالے سے امام نووی رحمۃاللہ نے فرمایا:

قد فهم مسلم رحمه الله من هذا الحديث أن معاوية لم يكن مستحقا للدعاء عليه ، فلهذا أدخله في هذا الباب.

امام مسلم رحمۃاللہ اس حدیث سے یہی سمجھیں ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس بد دعا کے کبھی بھی مستحق نہیں تھے تبھی اس روایت کو اس باب کے اندر ذکر فرمایا ہے۔

امام ابن كثير رحمۃاللہ تعالیٰ فرماتا ہیں۔

(وكان من خصائصه أنه إذا سب رجلا ليس بذلك حقيقًا، يُجعلُ سَبُّ رسول الله صلى الله عليه وسلم كفارة عنه)

آپﷺ  کے خصائص میں سے یہ بھی ہے کہ آپ اگر کسی کو (سب) یعنی برا بھلا بولتے ہیں یہ اس کے لئے حقیقی معنی میں مراد نہیں ہوتا بلکہ یہ سب اس کے لیے (گناہوں کا) کفار ہو جائے گا۔

(الفصول في سيرة الرسول صلى الله عليه وسلم 385)
علامہ ابن بطال رحمۃاللہ تعالیٰ اس طرح کی ایک عبارت کے بارے میں فرماتے ہیں:
صفحہ 2 از 6