شیعہ کے بارے میں رسولﷺ اور آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم…

شیعہ کے بارے میں رسولﷺ اور آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 5 از 6

ترجمه: بشیر بن حریم اسلامی کہتا ہے کہ اس وقت سیدہ زينبؓ دختر امیر المومنین نے اشارةً کہا خاموش رہو اس حالتِ اضطراب و شدت میں اس طرح کلام کرتی تھیں گویا امیر المومنین کلام فرماتے ہیں پس بعد ادائے حمد الہٰی و درود سید مختار و اہلِ بیتؓ اخیار و عترت اطہار فرمایا امابعد اے اہلِ کوفہ اے اہلِ مکرو غدرو حیلہ تم ہم پر گریہ کرتے ہو اور خود تم نے ہم کو قتل کیا ہے ابھی تمہارے ظلم سے ہمارا رونا موقوف نہیں ہوا اور تمہارے ستم سے ہمارا فریاد و نالہ ساکن نہیں ہوا تمہاری مثل اس عورت کی ہے جو اپنی رسی کو مضبوط بنتی اور کھول ڈالتی تھی تم نے بھی اپنی ایمان کی رسی کو توڑا اور اپنے کفر کی طرف پھر گئے نہیں تمہارا دعویٰ مگر سراسر بے اصل اور ایک فنِ باطل اور مانند خوشامد کنیزاں و عیب جوئی دشمنان اور مثل ایسی ہے جیسے گھاس گھورے پر اُگی ہو قبر سیاہ و تیرہ تار پر آرائش نقرہ کار کی گئی ہو تم نے اپنے لیے آخرت کا توشہ و ذخیرہ بہت خراب بھیجا اور اپنے آپ کو ابد الاباد سزاوار جہنم کیا تم ہم پر گریہ و نالہ کرتے ہو حالانکہ تم ہی نے ہم کو قتل کیا ہے سچ ہے واللہ لازم ہے کہ تم بہت گریہ کرو اور کم خندہ کرو تم نے عیب و عار ابدی خود خرید کیا اس عار کا دھبہ کسی پانی سے تمہارے جامہ سے زائل نہ ہو گا جگر گوشہ ختم پیغمبراں و سید جوانان بہشت کے قتل کرنے کا کس چیز سے تدارک کر سکتے ہو تم نے اس شخص کو قتل کیا جو تمہارے پیشواؤں کا جائے پناہ اور تمہاری حجتوں کا روشن کرنے والا تھا اور ہر مصیبت و بلا میں تم اس سے پناہ چاہتے تھے دین و شریعت کو اس سے اخذ کیا تم پر لعنت خدا ہو تم نے وہ گناہ کیا جس سے رحمت خدا سے نا امید ہو گئے اور گنہگار دنیا و آخرت ہو کے مستحقِ غضب الہٰی ہوئے اور اپنے لیے ذلت و خسران مول لیا تمہارے یہ ہاتھ قطع کیے جائیں اے اہلِ کوفہ تم پر وائے تم نے کن جگر گوشہائے رسول کو قتل کیا اور کن پرداران اہلِ بیتؓ رسول کو بے پردہ کیا۔ 

(جلاء العیون جلد دوم صفحہ 270 مطبوعہ لاہور)۔

فاطمہ بنتِ حسینؓ نے ماتمی شیعوں کے حق میں کہا:

تم ہی ہمارے قاتل ہو تمہارے چہروں پر خاک (جلاء العیون):

اما بعدا اے اہل کوفه و اهل مکر گوغدر تكبر و حیله حقتعالی ما اہلِ بیت رسالت را بشما مبتلا گردانیده و شمارا بما ممتحن ساخته و ابتلائے مارا بر ما نعمت گردانیده و علم خود را بما داده و فهم و معارف را بما عطا کرده مانیم صندوق علم خدا و مخزن حکمت خدا و حجت خدادر زمین بر جميع عباد و بلاد گرامی داشته است مارا بكرامت خود و تفصیل داده است ما را ببرکت پیغمبر خود بر بسیاری از مخلوقات بفضيلت بسیار ظاهر پس شما تکذیب کردیدمار او مارا کافر شعر دید و قتال ما را حلال دانستید و اموال مارا غارت کردید و مارا اسیر کردید مانند اولاد ترک و کابل چنانچه دیر و زجد مارا کشنید و پیوسته خون اہلِ بیت از دم شمشیر ہائے شما میچکد برانی کینمائی دیرینه و دیدهای و دلبانی شما ساد شد بکشتن ما شما فخر کردید که ما کشتیم علیؓ و فرزندان علیں وا بشمشیر بانی بندی و زنان ایشان را اسیر کردیم ای گوینده خاک و خاشاک در دهان توباد۔

(جلاء العیون جلد دوم صفحہ 594/595 خطبه سیدہ فاطمہ بنتِ حسینؓ مطبوعہ تہران طبعِ جدید)۔

ترجمہ: اما بعد اے اہلِ کوفہ اہلِ غدر و مکر و تکبر و حیلہ حق تعالٰی نے ہم اہلِ بیتِ رسالت کو تمہارے ہاتھ مبتلا کیا ہے اور تمہارا ہم سے امتحان لیا ہے اور ہماری بلاؤں کو ہم پر نعمت کیا ہے اور اپنا علم ہم کو دیا ہے اور فہم و اِدراک ہم کو عطا کی ہے اور ہم ہی زمین خدا صدوق علم خدا مخزن حکمتِ خدا جمیع عباد و بلاد پر وارث ہیں اور ہم کو اپنی کرامات سے بزرگ کیا اور ہم کو اپنے پیغمبر کی برکت سے تمام مخلوقات پر فضیلت دی ہے تم نے ہماری تکذیب کی اور کافر سمجھا اور ہم پر قتال کرنا حلال سمجھا اور ہمار ا مال غارت کیا اور ہم کو مانند اسیرانِ ترک و دیلم اسیر کیا کل کے روز تم نے ہمارے پدر بزرگوار کو قتل کیا اور بسبب کینہ ہائے دیرینہ ہر وقت ہم اہلِ بیتؓ کا خون تمہاری تلواروں سے ٹپکا اور ہمارے قتل کرنے سے تمہارے دل شاد ہوئے اور تم میں سے فخر کرنے والے نے فخر کیا کہ میں نے سیدنا علیؓ اور ان کے فرزندان کو شمشیر ہائے ہندی سے قتل کیا اور ان کی عورتوں کو اسیر کیا اے فخر کرنے والے تیرے منہ میں خاک ہو۔

(جلاء العیون مترجم جلد دوم صفحہ 272۔273 مطبوعہ لاہور)۔

بازارِ کوفہ میں ماتمی شیعوں سے سیدہ امِ کلثومؓ نے کہا اے قاتلانِ سیدنا حسینؓ تمہارے منہ سیاہ اور رات خراب ہو (جلاء العیون)

پس امِ کلثومؓ دختر دیگر حضرت سیده النساءؓ صدا بگریه کرد و از بورج محترم ندا کرد حاضر از اکه ای اہلِ کوفه بدا بحال شما و ناخوش باد رویانی شما بچه سبب برادرم حسین را خواندید و یاری او نکردید او را بقتل آوردید و اموال او را غارت کردید و پردگیان حرم سرانی او را اسیر کردید وانی برشما و لعنت بر رویبانی شما مگر نمیدانید که چکار کردید و چه گنابان و اوزار بر پشت خودبار کردید و چه خونبانی محترم ریختید و چه دختران محترم و مکرم را نالان کردید و مال چه جماعت را بغارت بردید کشتید بهترین خلق را بعد از حضرت رسالتﷺ۔ 

(جلاء العیون جلد دوم صفحہ 595۔592 مطبوعہ تہران طبع جدید ذکر خطب سیدہ امِ کلثوم در کوفہ)۔

ترجمہ: بعد اس کے سیدہ امِ کلثومؓ دوسری دختر سیدہ فاطمہؓ نے صدائے گریہ و زاری بلند کی اور رو رو کر آواز دی کہ اے اہلِ کوفہ تمہارا حال اور مال بُرا ہو اور تمہارے منہ سیاہ ہوں تم نے کسی سبب سے میرے بھائی سیدنا حسینؓ کو بلایا اور ان کی مدد نہ کی اور انہیں قتل کر کے مال و اسباب لوٹا اور ان کے پروگیان عصمت و طہارت کو اسیر کیا وائے ہو تم پر اور لعنت ہو تم پر کیا تم نہیں جانتے کہ تم کیا ظلم و ستم کیا ہے اور گناہوں کا اپنی پشت پر انبار کیا ہے اور کیسے خونہائے محترم کو بہایا ہے اور دخترانِ محمدﷺ کو نالاں کیا اور کن بزرگوں کے مال کو تم نے لوٹا بعد حضرت رسول اللہﷺ تم نے بہترین خلقِ خدا کو قتل کیا۔

( ترجمہ جلاء العیون جلد دوم صفحہ نمبر 273 مطبوعہ لاہور)۔

صفحہ 5 از 6