شیعہ کے بارے میں رسولﷺ اور آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم…

شیعہ کے بارے میں رسولﷺ اور آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 3 از 6

سیدنا علیؓ نے کہا شیو تم مجھے کذاب سمجھتے ہو اس لیے میں اللہ سے تم سے جدائی کی دعا کرتا ہوں (احتجاج طبرسی)

لاهل كوفه اخبركم بما يكون قبل ان يكون لتكونوا منه علی حذر و لتنذروا به من اتعظ واعتبر كانی بكم تقولون ان علياؓ يكذب كما قالت قريش لنبيهاﷺ‎ وسيدها نبی الرحمه محمد بن فيا ويلكم فعلی من اكذب علی الله فانا اول من عبده و وحده اصبحت لا اطمع فی نصرتكم ولا كمك فرق الله بينی وبينكم۔

ترجمہ: اے اہلِ کوفہ! میں تم کو اس چیز کی خبر دیتا ہوں جو ابھی ہونے والی ہے تاکہ تم اس سے اپنا بچاؤ کر سکو اور پھر اس آدمی کو جو عبرت اور نصیحت حاصل کرنا چاہتا ہے ڈرا سکو اور گویا کہ اس ڈرانے اور واضح نصیحت کرنے میں تمہارے ساتھ ہوں لیکن تم کہتے ہو کہ علی جھوٹ بولتا ہے جیسا کہ قریش نے نبی پاکﷺ کے متعلق کہا تھا کہ یہ جھوٹ بولتا ہے (معاذ اللہ) اے اہلِ کوفہ! تمہارے لیے ہلاکت ہو پس میں کس پر جھوٹ بولوں گا کیا میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتا ہوں حالانکہ میں ہی وہ پہلا آدمی ہوں کہ جس نے شریعتِ مصطفیﷺ میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اس کو وحدہ لا شریک کہا کیا اس کے رسولﷺ پر جھوٹ کہوں گا حالانکہ سب سے پہلے میں ہی ان پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی اور اس کی مدد کی میں نے اس حال میں صبح کی نہ تو میں تمہاری مدد کی طمع کرتا ہوں اور نہ تمہاری بات کی تصدیق کرتا ہوں بلکہ میری تو اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ میرے اور تمہارے درمیان تفرقہ اندازی کر دے۔

سیدنا علیؓ نے فرمایا میری دعا ہے کہ میرے اور شیعوں کے درمیان کوئی معرفت نہ ہو انہوں نے میرا دل جلا دیا ہے (احتجاج طبرسی)

والله لوددت ان معاويهؓ صارفنی بكم صرف لا دينار بالدرهم فاخذ منی عشره منكم واعطانی واحدا منهم والله لوددت انی لم اعرفكم ولم تعرفونی فانها معرفه جرت ندما لقد ورثتم صدری غيظا وافسدتم علی امری۔

(احتجاج طبرسی جلد اول صفحہ 256 توبیخ علیہ السلام اصحابہ نشاقلهم عن القتال)۔

ترجمہ: بخدا مجھے یہ بات پسند ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ مجھ سے درہم کے بدلے دینار سے سودا کرے یعنی مجھ سے دس کوفی شیعہ لے کر ایک شامی دے دے قسم بخدا مجھے یہ بات پسند ہے کہ نہ میں تم کو پہچانوں اور نہ تم مجھ کو کیونکہ اس معرفت نے ذلت کو کھینچا ہے اور تم نے میرے سینے میں غضب کو پیدا کیا ہے اور میرے معاملے کو تم نے نافرمانی اور ذلت کے ساتھ خراب کر دیا ہے۔

صفحہ 403

شیعوں کی بد عہدی کے سبب سیدنا علیؓ نے دعا کی اے اللہ پانی میں نمک کی طرح ان کے دل پگلا دے (احتجاج طبرسی)

اللهم انی قد مللتهم وملونی وستمتهم و سئمونی اللهم لا ترض عنهم اميرا ولا ترضهم عن امير و امث قلوبهم كما يماث الملح بالماء اما والله لو اجد بدا من كلامكم ومراسلتكمك فافعلت۔

(احتجاج طبرسی جلد اول طبع قدیم قم خیابان صفحہ257 تبع جدید صفحہ 95)۔

ترجمہ: اے اللہ! میں نے شیعوں کو پریشان کیا اور انہوں نے مجھے پریشان کیا میں نے ان کو دکھ دیا انہوں نے مجھے دکھ دیا اور اے اللہ نہ خوش کر ان سے کسی امیر کو اور نہ ان کو کسی امیر سے اور ان کے دلوں کو ایسا پگھلا دے کہ جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے اللہ کی قسم اگر میں نے تم سے کلام کرنے اور خط و کتابت کی گنجائش بھی پائی تو پھر بھی نہ تم سے کلام کروں گا اور نہ تم سے خط و کتابت کروں گا۔

سیدنا رضا نے فرمایا ہمارے شیعوں میں ہزار میں سے ایک بھی مخلص نہیں اگر ان کا امتحان لوں تو سب مرتد ثابت ہوں:

حليتہ المتقين مع مجمع المعارف

از حضرت امام رضا عليه السلام مرویست که اگر در مقام تمیز شیعه را برائم نیابیم ایشان را مگر وصف کنند بزبان و اگر امتحان کنیم نیابم مگر مرتد و اگر خلاصه و زبده کنیم ایسان را از بزار یکی خالص نباشد تا آنکه فرمود تکیه میکنند بر مسند با و میگویند ماشیعه علی بستیم و نیست شیعه علی مگر کسیکه فعل او قولش را تصدیق نماید و از امام حسن عسکری مروی است که بر رسول خداﷺ وحی شد که فلانی نگاه میکند نجانه بمسایه و از دیدن تا محرم مضائقه ندار دانحضرت غضبناک شده فرمود بیا در ید اور اکسی گفت یا رسول اللهﷺ او از شیعه شما است و اعتقاد بنبوت شماد ولایت علی دارد و از دشمنان شما بیزاری میجوید فرمود مگوان شیعه ما است پس تحقیق دروغ میگوند آگاه باش شیعه ما کسی است که متابعت کند ما را در اعمال ما و آنچه ذکر کردی از اعمال ما نیست۔

(حليتہ المتقين مع مجمع المصارف صفحہ 7 مطبوعہ تہران در نصائح)۔ 

ترجمہ: سیدنا رضا سے روایت ہے کہ اگر شیعوں کو کسوٹی پر لے جاؤں تو انہیں صرف زبانی جمع خرچ کرنے والا پاؤں گا اور اگر امتحان لوں گا تو مرتد ہی نکلیں گے اگر ان کا نچوڑ نکالوں تو ہزار میں سے ایک بھی خالص اور مخلص نہیں ملے گا حتیٰ کہ فرمایا مسندیں لگا کر بیٹھے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم "شیعانِِ علی" ہیں لیکن سیدنا علیؓ کا شیعہ وہی ہے جس کا فعل اس کے قول کے مطابق ہو امام حسن عسکری سے روایت ہے کہ حضورﷺ پر وحی ہوئی کہ فلاں اپنے ہمسایہ میں نامحرم عورتوں کو دیکھتا ہے اور اسے کوئی گناہ نہیں سمجھتا آپﷺ نے اسے بلوایا کسی نے عرض کی یا رسول اللہﷺ وہ آپ کا شیعہ ہے آپ کی نبوت سیدنا علیؓ کی ولایت پر ایمان رکھتا ہے اور آپ کے دشمنوں سے بیزاری کرتا ہے آپﷺ نے فرمایا یہ نہ کہو کہ وہ ہمارا شیعہ ہے کیونکہ یقیناً وہ جھوٹ بکتا ہے غور سے سننا ہمارا شیعہ وہ ہے جو اعمال میں ہماری متابعت کرے اور جو کچھ اس آدمی کے بارے میں تو نے ذکر کیا وہ ہمارے اعمال میں سے نہیں۔ (لہٰذا وہ ہمارا شیعہ نہیں)۔

روضہ کافی:

 قال حدثنی موسى بن بكر الواسطى قال قال لى ابو الحسن عليه السلام لوميزت شيعتی لم احدهم الا واصفه ولو امتحنتهم لما وجدتم الا مرتدين ولو تخلصتهم لما خلص من الألف واحد ولو غربتهم غربة لم يبق منهم الا ما كان لی انهم طال ما اتكوا على الارائك فقالوا نحن شیعه علی انما شیعه على من صدق قوله فعله۔

(روضة کافی جلد 8 صفحہ 228 انما شیعہ علی من صدق قولہ فعلہ مطبوعہ تہران طبع جدید طبع قدیم صفحہ 107)۔ 

صفحہ 3 از 6