شیعہ کے بارے میں رسولﷺ اور آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم…

شیعہ کے بارے میں رسولﷺ اور آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 6

سر دھنٸے۔ حیرت و استعجاب کی گہرائیوں میں جاں بلب ہو جائیے اور غور کیجئے کہ کس طرح قاتلوں نے عقیدت مندی کا روپ دھارا؟ دھوکہ بازوں نے محبت کا واویلا کیا فریب کاروں نے کرشمہ ابلیس کو بھی مات کیا پیغمبرِ اسلام کی اولاد سے الفت کی آڑ میں اصحابِ رسولﷺ کی تکفیر کی فسوں کاری کے پردوں میں خاندانِ نبوت سے بھی انتقام لیتے رہے۔

بیچارے امام چیختے رہے شہزادگان پیغمبر دہائی دیتے رہے ادھر آستینوں میں سانپ چلتے رہے خط لکھ کر بلانے والوں اور عقیدت و محبت کے دعویداروں نے گہرے انس و پیار کے راگ الاپنے والوں نے ایک طرف دجل و تلیس کا ریکارڈ قائم کیا دوسری طرف خاندانِ نبوت کے ایک ایک فرد کے نام پر علیحدہ علیحدہ مذاہب گھڑ لیے علیحدہ علیحدہ نظریے تشکیل دیے وحدت اسلامی کو پارہ پارہ کر کے خود اولادِ رسولﷺ کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔

اسی ستم کیشی اور ستم کاری کا رونا سیدنا علیؓ نے کیسے رویا؟ سیدنا زین العابدینؒ نے کیسے دکھ کا اظہار کیا؟ سیدہ زینبؓ اورسیدہ رقیہؓ" کے اشکوں نے حقیقت کس طرح آشکار کی؟ اولادِ سیدنا علیؓ نے کس طرح اس دھوکے کو آشکار کیا؟ ملاحظہ فرمائیں کتابیں بھی ان کیں کہانی بھی ان کی اور فریادیں اولادِ رسول کیں ہم یہاں کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

سیدنا علیؓ نے اپنے شیعوں سے کہا خدا تمہارے چہروں کو رسوا کرے اور تم بد بخت ہو:

نہج البلاغه:

الدليل والله من نصر تموه ومن رمى بكم فقد بافوق تابل انكم والله كثير في الباحات قليل تحت الرايات واني لعالم بما يصلحكم ويقيكم اودكم ولكني لا اری اصلاحكم بافساد نفسي اضرع الله حدودكم واتعس حدودكم لا تعرفون الحق كمعرفتكم الباطل ولا تبطلون الباطل كما بطالكم الحق۔

(نہج البلاغہ خطبہ 29 صفحہ 99 مطبوعہ بیروت فی توبیخ بعض اصحابہ)۔

ترجمہ: خدا کی قسم جس کی تم مدد اور نصرت کر دو وہ ذلیل ہے تم اسے لڑائی میں چھوڑ کر بھاگ جاؤ گے اور مغلوب ہو کر اسے خوامخواہ ذلت نصیب ہوگی اور جس شخص نے تمہیں دشمن کے مقابلہ کے لیے بھیجا اس نے ایک تیر بے پیکان چلایا قسم خدا کی تم اپنے مکانوں کی فضا میں تو بہت بچتے ہو مگر میدان میں عَلم کے نیچے تمہاری تعداد بہت ہی قلیل ہوتی ہے بے شک میں اس چیز سے خوب واقف ہوں جو تمہارے فتنہ و فساد کی اصلاح کر سکتی ہے تمہاری کجی کو سیدھا کر سکتی ہے جابر اور ظالم بادشاہوں کی سیاستوں کا تمہارے ساتھ عمل در آمد ہو سکتا ہے میں اپنے نفس کو فاسد کر کے تمہاری اصلاح نہیں چاہتا خدا تمہارے چہروں کو ذلیل و رسوا کرے تمہارے نصیب اور مقدر کو پسند کر دے تم بد بخت ہو کیا تم حق کو اتنا بھی نہیں جانتے جتنا کہ باطل کو پہچانتے ہو کیا تم ابطال باطل میں اتنی کوشش بھی نہیں کر سکتے جتنی کہ حق کو چھپانے کے لیے کوشش میں لاتے ہو۔

(نیرنگ فصاحت صفحہ 80 مطبوعہ یوسفی)۔

سیدنا علیؓ ایک غلام سیدنا امیرِ معاویہؓ کے بدلے 10 شیعہ فروخت کرنے پر تیار تھے (نہج البلاغہ)

لو ددت والله ان معاويهؓ صارفني بكم صرف الدينار بالدرهم فاخذ مني عشرة منكم واعطاني رجلا منهم يا اهل الكوفه منبت منكم بثلاث واثنين صم ذو والسماع و بكم ذو و كلام و عمي ذو وابصار لاحرار صدق عند اللقاء ولا اخوان نقه عند البلاء تربت ايديكم۔ 

(نہج البلاغہ خطبہ97 صفحہ142 مطبوعہ بیروت)۔

ترجمہ: قسم خدا کی تمہارے ان افعال سے بیزار ہو کر میں اس بات کو دوست رکھتا ہوں کے سیدنا امیرِ معاویہؓ مجھ سے اس طریقے سے تمہارا معاوضہ کرے کہ دینار طلائے مسواک کے عوض درہم نقرہ مسواک مجھے میسر ہو اور دس نقرہ تم سے لے لے اور فقط ایک مرد شامی میرے حوالے کر دے اے اہلِ کوفہ! میں تمہاری تین خصلتوں اور دو خصلتوں کے سبب سے تم میں مبتلا ہو رہا ہوں حالانکہ تم صاحبِ گوش ہو مگر امرِِ حق کے سننے سے تمہارے کان بہرے ہیں سچی بات میں تمہاری زبان گنگ ہے حالانکہ تم صاحبِ زبان ہو تم دیکھتے ہو صاحبِِ ابصار ہو اور اندھے بنے ہوئے ہو نہ تم دوستوں کی ملاقات کے وقت مردان راست گو اور آزاد ہو اور نہ بلاؤں کے وقت موثق اور معتمد بھائی تمہارے ہاتھ خاک آلودہ ہو جائیں تم ہمیشہ فقیر رہو۔ 

(نیرنگ فصاحت صفحہ 131 مطبوعہ یوسفی)۔

سیدنا علیؓ نے شیعوں سے جدائی اور خلفائے راشدینؓ سے جا ملنے کی دعا کی (نہج البلاغہ)

ولودوت ان الله فرق بيني وبينكم والحقني بمن هو حق بی منكم قوم والله ميا مين الراعي مراجيع الحلم مقاويل بالحق متاريك للبغي مضوا قدما على الطرية واوجفوا على المحجه فظفوا بالعقبي الدائمه والكرامه البارده۔

(نہج البلاغہ صفحہ 174 خطبہ نمبرہ116 مطبوعہ بیروت طبع جدید)۔

ترجمہ: اب تو میری دعا ہے اور میں اسی بات کو دوست رکھتا ہوں کہ پروردگار عالم میرے اور تمہارے درمیان تفرقہ اندازی کر دے اور مجھے ان لوگوں کے ساتھ ملحق فرما دے جو تم سے زیادہ میرے لیے سزاوار ہوں وہ ایسے لوگ تھے قسم خدا کی ان کی اراء اور تدبیریں میمون اور مبارک تھیں وہ دانشمندانہ اور حکیمانہ بردباریوں کے مالک تھے وہ راست گفتار تھے وہ بغاوت اور جور و ستم کے ترک کرنے والے تھے گزر گئے درآنحالیکہ ان کے پاؤں طریقہ اسلام پر مستقیم تھے وہ راہ واضح پر چلے اور ہمیشہ رہنے والی سرائے عقبہ میں فتح و فیروزی حاصل کی نیک اور گوارا کرامتوں سے فیضیاب ہو گئے۔ 

(نیرنگ فصاحت صفحہ 168 مطبوعہ یوسفی)۔

اتباعِِ حق سے بھاگنے کے سبب سیدنا علی المرتضیؓ نے اپنے شیعوں کو نافرمان گدھوں سے تشبیہ دی (احتجاج طبرسی)

يا ايها الناس انما استقرتكم لجهاد هؤلاء فلم تنفروا و اسمعتكم فلم تجيبوا و نصحت لكم فلم تقبلوا شهودا بالغيب اتلوا عليكم الحكمه فتعرضون عنها واعظكم بالموعظه البالغه فتنفرون عنها كانكم حمر مستنفره فرت من قسوره۔

(احتجاج طبرسی جلد 1 صفحہ 254 احتجاج علیہ السلام علی قومہ وحشہ لہم الجہاد نجف اشرف مطبوعہ قم خیابان طبع جدید طبع قدیم صفحہ 93)۔

ترجمہ: لوگو! میں نے تمہیں جہاد پر نکلنے کو کہا لیکن تم تیار نہ ہوئے تم کو دین کی باتیں سنائی تم نے کوئی جواب نہ دیا تم کو بالمشافہ نصیحتیں کی لیکن تم نے انہیں قبول نہ کیا تمہیں واضح نصیحت کی لیکن نافرمان گدھوں کی طرح بھاگنے لگے جیسا وہ شیر سے ڈر کر بھاگتے ہیں۔

صفحہ 2 از 6