غزوہ حنین قرآن و صحیح احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ…

غزوہ حنین قرآن و صحیح احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 2

لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیۡ مَوَاطِنَ کَثِیۡرَۃٍ ۙ وَّ یَوۡمَ حُنَیۡنٍ ۙ اِذۡ اَعۡجَبَتۡکُمۡ کَثۡرَتُکُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنۡکُمۡ شَیۡئًا وَّ ضَاقَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّیۡتُمۡ مُّدۡبِرِیۡنَ ۚ

ترجمہ:

خدا نے بہت سے موقعوں پر تم کو مدد دی ہے اور (جنگ) حنین کے دن۔ جب تم کو اپنی (جماعت کی) کثرت پر غرّہ تھا تو وہ تمہارے کچھ بھی کام نہ آئی۔ اور زمین باوجود (اتنی بڑی) فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ پھیر کر پھر گئے۔

ثُمَّ اَنۡزَلَ اللّٰہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ اَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡہَا وَ عَذَّبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ وَ ذٰلِکَ جَزَآءُ الۡکٰفِرِیۡنَ

ترجمہ:

پھر خدا نے اپنے پیغمبر پر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی (اور تمہاری مدد کو فرشتوں کے) لشکر جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے (آسمان سے) اُتارے اور کافروں کو عذاب دیا۔ اور کفر کرنے والوں کی یہی سزا ہے۔

(سورت التوبہ 25,26)

تفسیر احسن البیان :

تشریح : فتح مکہ کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ملی کہ ہوازن وثقیف کے کفار مسلمانوں سے جنگ کے لیے حنین کے مقام پر جمع ہوئے ہیں آپ بارہ ہزار کی جمعیت لے کر ان کے مقابلے کے لیے روانہ ہوئے ۔ ان بارہ ہزار میں دس ہزار تو وہ مہاجرین وانصار تھے جو مدینے منورہ سے آپ کے ساتھ آئے تھے اور دو ہزار مکہ کے نومسلم تھے ، ادھر کافروں کی تعداد چار ہزار اور بعض روایتوں کے مطابق ٢٢، ٢٤، یا ٢٨ ہزار تھی ۔

اس وقت بعض مسلمانوں کی زبان سے یہ نکلا کہ آج ہم تعداد کی قلت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوں گے اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی کہ مسلمانوں نے اس کی نصرت واعانت پر بھروسہ کرنے کی بجائے اپنی کثرت پر نظر کی ۔ حالانکہ فتح تو اللہ ہی کی نصرت واعانت سے حاصل ہوتی ہے نہ کہ جنگی سازوسامان اور فوج کی کثرت سے ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو متنبہ کرنے کے لیے پہلے تو ان کو شکست سے دوچار کیا تاکہ ان کو احسان ہوجائے کہ فتح کا دارومدار قوت و کثرت پر نہیں بلکہ اللہ کی تائید وحمایت پر ہے پھر جب ان کو اپنی لغزش کا احساس ہوگیا تو اللہ نے تائید غیبی سے شکست کو فتح سے بدل دیا ۔

یہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ جس طرح اس نے دوسرے بہت سے مواقع پر ان کی مدد واعانت کی تھی اسی طرح اس نے حنین کے دن بھی مسلمانوں کی غیبی امداد کی جبکہ ان کی عددی کثرت جس پر انہیں فخر وناز تھا ، ان کے ذرا بھی کام نہ آئی ، اور وہ دشمن کے حملے کی تاب نہ لاکر بھاگ کھڑے ہوئے اور فراخی کے باوجود ان پر زمین تنگ ہوگئی ، پھر جب ان کو اپنی لغزش اور خطاء کا احساس ہوگیا اور ان کا غرور زائل ہوگیا ، اور انہوں نے اپنی کثرت کی بجائے اللہ تعالیٰ کی نصرت وعانت پر نظر کی تو اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر اپنی خاص رحمت وسکینت نازل فرمائی ۔ جس سے ان کے دلوں کو اطمینان و سکون نصیب ہوا اور ان کے اکھڑے ہوئے قدم جم گئے اور مسلمانوں کی مدد کے لیے آسمان سے ایسے لشکر اتارے جن کی وہ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے تھے مگر ان کے آثار کو محسوس کرتے تھے ۔ اس تائید غیبی کی وجہ سے مومنوں کو غلبہ حاصل ہوا اور کافروں کو سزا ملی کہ وہ قتل بھی ہوئے اور گرفتار بھی ، دنیا میں کافروں کی یہی سزا ہے ۔

پھر فرمایا کہ اس سزا کے بعد اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا اپنی رحمت سے اسلام کی توفیق بخش دے گا ، کیونکہ وہ بہت بخشنے والا مہربان ہے ، چنانچہ ہوازن وثقیف کے بہت سے لوگ تائب ہوکر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مشرف باسلام ہوئے ۔ (ابن کثیر ٣٤٣۔ ٣٤٦۔ ٢) ۔

Sahih Bukhari - 4321

کتاب:کتاب غزوات کے بیان میں

باب:جنگ حنین کابیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ‌‌‌‌‌‏أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ، ‌‌‌‌‌‏فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، ‌‌‌‌‌‏فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ‌‌‌‌‌‏فَضَرَبْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ بِالسَّيْفِ، ‌‌‌‌‌‏فَقَطَعْتُ الدِّرْعَ وَأَقْبَلَ عَلَيَّ، ‌‌‌‌‌‏فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ‌‌‌‌‌‏ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ، ‌‌‌‌‌‏فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ‌‌‌‌‌‏فَقُلْتُ:‌‌‌‏ مَا بَالُ النَّاسِ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ‌‌‌‌‌‏ثُمَّ رَجَعُوا وَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ ""مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ""، ‌‌‌‌‌‏فَقُلْتُ:‌‌‌‏ مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، ‌‌‌‌‌‏فَقُمْتُ، ‌‌‌‌‌‏فَقُلْتُ:‌‌‌‏ مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، ‌‌‌‌‌‏فَقُمْتُ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ ""مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ؟""فَأَخْبَرْتُهُ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ رَجُلٌ:‌‌‌‏ صَدَقَ، ‌‌‌‌‌‏وَسَلَبُهُ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنِّي، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‌‌‌‏ لَاهَا اللَّهِ إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏فَيُعْطِيَكَ سَلَبَهُ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‌‌‌‏ ""صَدَقَ، ‌‌‌‌‌‏فَأَعْطِهِ""، ‌‌‌‌‌‏فَأَعْطَانِيهِ، ‌‌‌‌‌‏فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ"". 

ترجمہ:

صفحہ 1 از 2