ماتمی سیاہ لباس کے بارے میں آنحضرتﷺ ائمہ اہل بیت رضی اللہ…

ماتمی سیاہ لباس کے بارے میں آنحضرتﷺ ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 3 از 3

قال الحسينؓ وما اسم هذا المكان؟ قالوا له كربلاء قال ذات كرب و بلاء لقد مرابى بهذا المكان عند مسيره الا سفين وانا معه فوقف فسئال عنه فاخبر باسمه فقال همنا محط ركابهم وهمنا مهراق دمائھم۔

(الاخبار الطوال مصنفہ احمد بن داؤد صفحہ 353 نہایہ الحسین مطبوخہ بیروت، طبع جدید)۔

ترجمہ: سیدنا حسینؓ نے اس جگہ کے بارے میں دریافت فرمایا لوگوں نے عرض کی یہ کربلا ہے فرمايا تکلیف و امتحان والی جگہ ميرے والد گرامی (سیدنا علیؓ)جنگ صفین کی طرف جاتے ہوئے اس جگہ سے جب گزرے میں بھی آپ کے ساتھ تھا تو کچھ دیر ٹھہر گئے اس جگہ کے بارے میں لوگوں سے پوچھا آپ کو اس کا نام بتایا گیا تو فرمایا یہ جگہ ان کے اونٹوں کے بٹھانے کی ہے اور یہ جگہ ان کے خون سے لت پت ہوگی۔

تاریخ کربلا کے سب سے پہلے اور شیعہ حضرات کے مستند و معتبر مؤرخ "ابی مخف" نے سیدنا حسینؓ کی کربلا کی سواری کے متعلق لکھا ہے:

فقال الحسينؓ والله لا اعطى بيدى إعطاء الذليل ولا افر فرار العبيد ثم تلا انى عذت بربى و ربكم من كل متكبر لا يومن بيوم الحساب ثم اناخ راحلته وامر عقبه بن مسمعان ان يعقلها بقاضل زمامها۔

(مقتل ابی مخف صفحہ 55 مضايقه القوم للحسين مطبوعہ حيدريہ نجف اشرف طبع قديم)۔

*ترجمہ:* سیدنا حسینؓ نے فرمایا خدا کی قسم! ميں ذلیل آدمی کی طرح اپنا ہاتھ (کسی کے بیعت میں) نہ دوں گا اور نہ غلاموں کی طرح راہ فرار اختیار کروں گا یہ کہہ کر آپ نے قرآنی آیت پڑھی "ميں ہر متکبر سے تمہارے اور اپنے رب کی پناہ چاہتا ہوں جو متکبر قیامت کا منکر ہے پھر سیدنا حسینؓ نے اپنی سواری بٹھائی (يعنی اونٹنی بٹھائی) اورعقبہ بن سمعان کو حکم دیا کہ اس اونٹنی کے پاؤں باندھ دے اس نے بچی ہوئی نکیل کی رسی سے اسے باندھ دیا۔


صفحہ 3 از 3