ماتمی سیاہ لباس کے بارے میں آنحضرتﷺ ائمہ اہل بیت رضی اللہ…

ماتمی سیاہ لباس کے بارے میں آنحضرتﷺ ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 3

سب جانتے مانتے ہیں کہ سیدنا علیؓ علم ظاہری اور علم باطنی کے سر چشمہ تھے اللہ نے آپ کو "علم لدنی" سے نوازا تھا اسی علم کے ذریعہ آپ کو معلوم تھا کہ ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ اپنے ہاتھوں سے بنائی مورتیوں کو شعائر اللہ سمجھنے لگیں گے جو شرک اور کفر ہے اس لیے آپ نے ایک ایسا عام لفظ ذکر فرمایا جس میں تمام شبہات آجاتی ہیں یعنی "جو قبر دوبارہ بنائے گا یا اس کی تشبیہ اور شکل بنائے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے" یہی وجہ ہے کہ جن چیزوں کو سیدنا علی المرتضیؓ نے حرام قرار دیا تھا وہی چیزیں بعض ابن الوقت شیعہ مولویوں کی تحریروں میں شعائر اللہ کا درجہ رکھتی ہیں جیسا کہ مولوی بشیر کی کتاب "عزائے حسین" میں تحریر ہے:

"قرآن بھی کاغذ اور تعزیہ بھی کاغذ اور ان دونوں کی تعظیم و تکریم یکساں ہے"۔ 

(صفحہ 52)۔

"ذو الجناح و تعزیہ اور علم یہ شعائر اللہ ہیں ان کی تعظیم فرض ہے"۔ 

(صفحہ 26 تا 27)۔

مولوی بشیر شیعہ کی ان تحریرات کو پڑھئے اور اس کے ساتھ سیدنا علیؓ کے قول کی تشریح جو شیخ صدوق نے کی وہ بھی پڑھئے ان دونوں تحریرات کو پڑھ کر ہر انسان کہہ سکتا ہے کہ سیدنا علیؓ کا فرمان اس تعزیہ وغیرہ کے متعلق تھا جس کو مولوی بشیر نے "عزائے حسین" نامی کتاب میں تحریر کیا ہے شیخ صدوق کی تشریح سے معلوم ہوا کہ تعزیہ وغیرہ شبہات دین گھڑنا ہے اور "بدعات شرعیہ" ہیں لیکن انہی چیزوں کو مولوی بشیر شیعہ "شعائر اللہ " کے ہم پلہ کہہ رہا ہے۔

میدانِ کربلا میں گھوڑے کا وجود ہی نہیں تھا:

یہ بات مبنی بر حقیقت ہے کہ گھوڑا عربی لوگ عام طور اس وقت لے کر نکلتے تھے جب ارادہ جنگ ہو ورنہ ان کی مرغوب و من پسند سواری (حالت امن میں اونٹ تھا سیدنا حسینؓ مقام کا یہ سفر بارادۀ جنگ نہ تھا ورنہ آپ اس کی مکمل تیاری کر کے ساز و سامان لے کر اور بمع لشکر روانہ ہوتے اور آپ اس سفر میں عورتوں اور معصوم بچوں اور بیماروں کو ساتھ نہ لیتے ان تمام اشیاء کا آپ کے ساتھ (دورانِ سفر) ہونا اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ یہ قافلہ لڑنے کے لیے نہیں جا رہا تھا آپ اس سفر کے دوران گھوڑے کے بجائے اونٹ پر سوار تھے۔

مدینہ سے سیدنا حسینؓ نے سفر کا آغاز بھی اونٹنی پر کیا کربلا میں اونٹنی سے ہی اترے:

ذبح عظیم:

سیدنا حسینؓ نے کربلا کےوقت بھائی سیدنا محمد بن حنیفہؓ کو اپنا قائم مقام اور وصی بنایا تھا اور اپنا وصیت نامہ بھی انہی کے سپرد کیا چنانچہ مقتل ابی مخنف کی عبارت یوں ہے:

ثم ان محمد بن حنيفه سمع ان اخاه الحسينؓ يريد العراق فبكی بكاء شديد اثم قال له ان اہل لکوفہ قد عرفت غدرھم يابيك واخيك فان قبلت قولی اقم بمكته فقال يا اخى انى اخشى ان تقاتلنى جنود بنی اميه فى مكه فاكون كالذى يستباح دمه فى حرم الله ثم قال يا اخى قيسر الى يمن فانك امنع الناس كيف به فقال الحسين عليه السلام يا اخى سانظر فيما قلت فلما كان وقت السحر عزم على۔

المسير الی العراق فاخذ محمد ابن الحنيفه زمام ناقته وقال يا اخى ما سبب ذلك انک عجلت فقال جدی رسول اللہﷺ آتانى بعد ما فارفتك وانا نائم فضمنى الا صدره وقبل بين عينى وقال لى يا حسينؓ باقره عين اخرج الى العراق فان الله عزوجل قد شاء ان براك فتبلا مصبغا بدمائك فبكى محمد بن حنيفه بكاء شديدا فقال يا اخى اذا كان الجال هكذا فلا معنى لحملك هئولاء النسوه فقال قال لى جدى عليه السلام ايضا ان الله عزوجل قد شاء يرھن مسايا۔

(ذبح عظیم صفحہ 165 مينجر کتب خانہ اثنا عشری لاہور)۔

ترجمہ: جب سیدنا محمد بن حنفیہؒ نے سنا کہ ہمارے بھائی سیدنا حسینؓ ملک ایران کی طرف تشریف لے جانے کا قصد رکھتے ہیں تو آپ زار و قطار روئے پس آپ نے عرض کی اے بھائی آپ اہلِ کوفہ کے غدر کو اپنے پدر بزرگوار اور برادرِ عالی مقام کے ساتھ خوب جانتے ہیں پس اگر آپ میری عرض پزیر فرمائيں تو مکہ میں قیام کریں سیدنا حسینؓ نے فرمایا کہ مجھے خوف ہے کہ لشکر بنو امیہ مجھ کو مکہ میں قتل نہ کر ڈالے اور کہيں میں وہ شخص نہ ہوں کہ جس کا خون بہانا حرم محترم میں مباح ہو سیدنا محمد بن حنیفہؒ نے کہا آپ يمن کی طرف تشریف لے جائیں وہاں کے لوگ مخالفوں کو آپ تک نہ آنے دیں گے سیدنا حسینؓ نے جواب فرمایا اے برادر عزیز اگر میں پتھر میں بھی سما جاؤں تاہم یہ بے دین مجھے وہاں سے بھی نکال لیں گے اور مجھے قتل کر ڈالیں گے پھر سیدنا حسینؓ نے فرمایا اے بھائی جو کچھ تم نے کہا ہے میں اس میں غور کروں گا جب صبح ہوئی تو حضرت نے سفرِ عراق کا قصد مصمم فرما لیا یہ خبر پاکر سیدنا محمد بن حنیفہؒ آئے انہوں نے آپ کے ناقہ کی مہار پکڑ لی اورعرض کی کہ اے بھائی اتنی محبت فرمانے کی کیا وجہ ہے سیدنا حسینؓ نے فرمایا کہ تمہارے رخصت ہونےکے بعد میں سو گیا تھا میں نے عالم رویا میں نبیﷺ کو خواب میں دیکھا آپ تشریف لائے ہیں تو آپ نے مجھے سینہ اقدس سے لگایا اور میری دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور ارشاد فرمایا اے سیدنا حسینؓ! میری آنکھوں کی ٹھنڈک عراق کی طرف روانہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی یہ بھی مرضی ہے کہ تو قتل ہو اور اپنے خون میں رنگین ہو اتنا سننا تھا کہ سیدنا محمد بن حنیفہؒ زار و قطار رونے لگے اور کہنے لگے اے بھائی جب آپ کو یہ معلوم ہے تو عورتوں کو ساتھ کیوں لے جاتے ہو تو سیدنا حسینؓ نے فرمایا کہ نبی پاکﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ بھی مرضی ہےکہ ہمارے عورتیں بھی اسیر ہوں۔

سیدنا حسینؓ کربلا میں اونٹنی سے اترے:

سیدنا حسینؓ نے کربلا کے لیے اونٹوں کا ذکر کیا:

فقال عليه السلام هذه كربلاء موضع كرب وبلا هذا مناخ ركابنا ومحط رحالنا و مقتل رجالنا۔

(1۔ كشف الغمہ فى معرفہ الائمہ جلد دوم صفحہ 47 فى مصرعہ ومقتلہ علیہ السلام مطبوعہ تبریز طبع جدید)۔ (2۔ مناقب ابنِ شہر آشوب جلد چہارم صفحہ97 فی مقتلہ علیہ السلام مطبوعہ قم طبع جدید)۔

ترجمہ: سیدنا حسینؓ نے فرمایا یہی کربلا ہے اور یہی تکلیف و امتحان کا مقام ہے ہمارے اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ ہمارے کچاوے اتارنے کا مقام اور ہمارے نوجوانوں کی شہادت گاہ ہے۔

سیدنا علیؓ کی شہادت:

صفحہ 2 از 3