ماتمی سیاہ لباس کے بارے میں آنحضرتﷺ ائمہ اہل بیت رضی اللہ…

ماتمی سیاہ لباس کے بارے میں آنحضرتﷺ ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 1 از 3

ماتمی سیاہ لباس کے بارے میں آنحضرتﷺ ائمہ اہلِ بیتؓ کی تعلیمات:

شیعہ کتب کی روشنی میں:

شیعہ حضرات کی من جملہ علامات میں سے ایک بڑی علامت سیاہ لباس بھی ہے جسے اہلِ تشیع محبان اہلِ بیتؓ کا لباس سمجھتے ہیں آئیے ان کے اس خیال کو دیکھیں کہ یہ کہاں تک درست ہے؟ سیاہ لباس کے متعلق چند احادیث پیش خدمت ہیں انہیں پڑھئے اور پھر دل پر ہاتھ رکھ کر بتلائیے کہ ایسا لباس کس کی علامت ہے اور اسے کون پہننے والا ہے۔

آنحضرتﷺ کا حکم از کتب شیعہ:

وارد ہے کہ راوی نے نبی پاکﷺ سے پوچھا کالی ٹوپی پہن کر نماز پڑھوں؟ فرمایا نہیں اہلِ جہنم کا لباس ہے۔

دوسری حدیث میں فرمایا سیاہ لباس نہ پہنو کیونکہ یہ لباس فرعون کا ہے۔

سیدنا جعفر صادقؒ کا پہلا ارشاد:

عن ابی عبدالله عليه السلام قال قلت له اصلی فی القلنسوه السواد فقال لا تصل فيها فانها لباس اهل النار۔

(1: فروع کافی جلد سوم صفحہ 403 كتاب الصلوه باب اللباس الذی تكره فيه الصلوه الخ۔ مطبوعه تہران طبع جدید)۔

(2۔ من لا يحضره الفقيه جلد اول صفحہ 163 طبع جدید)۔

(3۔ من لا يحضره الفقيه جلد اول صفحہ 81 فی لباس المصلى طبع قديم)۔

(4۔ علل الشرائع صفحہ 364 باب 56 العله التی من اجلها لا تجوز الصلوه فی سواد)۔

(5۔ تہذیب الاحکام جلد دوم صفحہ 213 مطبوعه تہران طبع جدید باب فی ما يجوز الصلوه فيه من اللباس الخ)۔ ترجمہ: راوی کہتا ہے میں نے سیدنا جعفر صادقؒ سے سیاہ ٹوپی پہن کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا اسے پہن کر نماز نہ پڑھنا وہ دوزخیوں کا لباس ہے۔

دوسرا ارشاد:

عن أبی بصير عن أبی عبد الله عليه السلام قال حدثنى ابى عن جدی عن ابيه عن امير المومنين عليه السلام قال فيما علم اصحابه لا تلبسوا السواد فانه لباس فرعون۔

(علل الشرائع باب 56 صفحہ 347 العله التک من اجلها لا تجوز الصلوه فی سواد)۔

ترجمہ: ابو بصیر سیدنا جعفر صادقؒ سے وہ سیدنا باقرؒ سے وہ سیدنا زین العابدینؒ سے اور وہ سیدنا حسینؓ سے اور یہ سیدنا علیؓ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علیؓ نے اپنے ساتھیوں شاگردوں اور عقیدت مندوں کو جو باتیں سکھلائیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ سیاہ کپڑے نہ پہننا کیونکہ یہ فرعون کا لباس ہے۔

تیسرا ارشاد:

روی اسماعیل بن مسلم عن الصادق عليه السلام انه قال أوحى الله عزوجل الى نبی من انبيائه قل للمومنين لا يلبسوا الباس اعدائى ولا يطعموا مطاعم اعدائی ولا يسلكو امسالک اعدائی فيكونوا اعدائی کماهم اعدائى فاما لبس السواد للتقيه فلا اثم عليه۔

(1۔ من لا يحضره الفقيه جلد اول صفحہ 163 باب فيما يصلى فيه وما لا يصلى فيه۔ الخ مطبوعه تہران طبع جدید)۔ 

(2۔ علل الشرائع باب 56 صفحہ 348/ العله التی من اجلها لا تجوز الصلوه في سواد طبع جدید)۔

ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ سے اسماعیل بن مسلم نے روایت کی ہے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک نبی کو یہ وحی بھیجی مومنوں کو کہہ دیجئے کہ میرے دشمنوں کا لباس نہ پہنیں میرے دشمنوں کے کھانے نہ کھائیں میرے دشمنوں کے طریقے پر نہ چلیں ورنہ وہ بھی ان کی طرح میرے دشمن ہو جائیں گے لیکن تقیہ کرتے ہوئے سیاہ کپڑا پہن لینے میں کوئی حرج و گناہ نہیں۔

چوتھا ارشاد یہ لباس دوزخیوں کا ہے:

فقد روى عن حذيفه بن منصور انه قال كنت عند ابی عبدالله عليه السلام بالحيره فاتاه رسول ابی العباس الخليفه يدعوه فدعا بممطرا حد وجهيه اسود والاخره ابيض فلبسه ثم قال عليه السلام اما انی البسه وانا اعلم انه لباس اهل النار۔

(1۔ من لا یحضره الفقیہ جلد اول صفحہ 163 باب فيما يصلى فيه وما لا يصلى فيه۔ الخ مطبوعه تہران طبع جدید)۔

(2۔ من لا يحضره الفقیه جلد اول صفحہ 82 طبع قدیم)۔

(3۔ علل الشرائع باب 56 صفحہ 347/ العله التی من اجلها لا تجوز الصلوه فی سواد۔ طبع جدید)۔

ترجمہ: حذیفہ بن منصور کہتا ہے کہ میں سیدنا جعفر صادقؒ کے پاس مقام حیرہ میں تھا خلیفہ ابو العباس کا ایک قاصد آیا اور آپ کو پیغامِ دعوت دیا آپ نے برساتی طلب کی جس کا ایک حصہ سیاہ اور دوسرا سفید تھا اسے پہن لیا پھر سیدنا جعفرؒ نے فرمایا میں اسے پہن تو لیتا ہوں بہر حال میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ دوزخیوں کا لباس ہے۔

تنبیہ: سیدنا جعفر صادقؒ کا یہ فرمانا کہ سیاہ لباس کے بارے میں مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ جہنم کا لباس ہے اور پھر آپؒ نے پہن بھی لیا اتنے بڑے امام سے اتنی بڑی غلطی ہونا نہایت ہی قابلِ افسوس امر ہے اور جو کچھ ہوا غیر متوقع تھا۔

تعزیہ کے بارے میں سیدنا علیؓ کا ارشاد گرامی:

قال امير المومنين من حدد قبرا اومثل مثالا فقد خرج من الاسلام۔

(1۔ من لا یحضره الفقیہ جلد اول صفحہ 120 باب النوادر مطبوعه تہران طبع جدید)۔

(2۔ من لا يحضره الفقيه صفحہ 20 فی تجديد القبور مطبوعہ لکھنؤ طبع قديم)۔

ترجمہ: سیدنا علیؓ نے فرمایا جو شخص قبر پھر سے بنائے یا اس کی تشبیہ و شکل بنائے وہ اسلام سے خارج ہے افتی سیدنا علیؓ کے اس فرمان کی شرح شیعہ مجتہد شیخ صدوق نے اس مقام پر یوں کی:

والذي اقول فی قوله عليه السلام من مثل مثالا یعنی به انه من ابدع بدعه ودعا اليها او وضع دينا فقد خرج من الاسلام وقولی فی ذالك قول المنى عليهم السلام۔

(من لا يحضر و الفقیہ جلد اول صفحہ 121 طبع جدید)۔

سیدنا علیؓ کے قول "من مثل مثالا" کے بارے میں میں کہتا ہوں کہ آپ نے اس سے یہ مراد لی ہے "جس نے کسی بدعت کو جنم دیا اور لوگوں کو اس کی طرف بلایا یا کوئی دین گھڑا تو وہ اسلام سے نکل گیا"۔

میرا اس قول میں یہ کہنا دراصل میرے ائمہ کا قول ہے میرا خیال ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہے سیدنا علی المرتضیؓ کو اپنا امام و پیشوا تسلیم کرتا ہو اس کے لیے تعزیہ وغیرہ شبہات کی حرمت کے لیے اس سے بڑھ کر کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں ہوسکتی کیونکہ سیدنا علی المرتضیٰؓ "باب مدینہ العلم" تھے آپ کی بات دراصل رسول اللہﷺ کی بات ہوئی۔

صفحہ 1 از 3