مروان اور خاندان نبوت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مروان اور خاندان نبوت

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 2

 شیعہ کے نزدیک فاسق سے نکاح جائز نہیں:

 وقال عليه السلام من زوج كريمته لفاسق نزل عليه كل يوم الف لعنه۔

(ارشاد القلوب صفحہ 174 الباب الحادی والخمسون فی اخبار عن النبیﷺ الخ مطبوعہ بیروت طبع جدید)۔

ترجمہ: حضور سرورِ کائناتﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اپنی بچی کی شادی کسی فاسق سے کی ہر دن بلاناغہ اس پر ایک ہزار لعنتیں اترتی ہیں۔ 

رسول کریمﷺ کے اس واضح ارشاد کے ہوتے ہوئے کیا سیدنا حسن بن مثنیٰؓ اور سیدنا زید بن حسنؓ کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے حضورﷺ کے ارشاد کو کوئی اہمیت نہ دی حضورﷺ کا ایک اور قول سماعت فرمائیے۔

جو عورت فاسق مرد پر راضی ہو منافقہ ہے بقول شیعہ:

 وقال رسول اللهﷺ ايما امراة رضيت بتزويج فاسق هی منافقه دخلت فی النار واذا ماتت فتح فی قبرها سبعون بابا من العذاب وان قالت لا اله الا الله لعنها كل ملك بين السماء والارض وغضب الله عليها فی الدنيا والاخره و كتب الله عليها فی كل يوم و ليله سبعين خطيئه۔

 (ارشاد القلوب صفحہ 174 الباب الحادی والخمسون فی اخبار عن النبیﷺ)۔

ترجمہ: رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا جو بھی عورت کسی فاسق کے ساتھ شادی پر رضامند ہوتی ہے وہ منافقہ ہے آگ میں ڈالی جائے گی جب مرے گی اس کی قبر میں ستر دروازے عذاب کے کھول دیئے جائیں گے اگرچہ وه لا اله الا اللہ ہی پڑھنے والی کیوں نہ ہو آسمان و زمین کے تمام فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں اس پر اللہ کا غضب دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں روزانہ ستر گناہ کا اضافہ کر دیتا ہے۔

قارئین کرام! سیدہ نفیسہ طاہرہ جو کہ سیدنا حسنؓ کی پوتی ہیں ان کی شادی ولید بن عبد الملک بن مروان سے ہوئی (یعنی سیدنا حسنؓ کی پوتی کی شادی مروان کے پوتے کے ساتھ ہوتی ہے اگر مروان اور اس کی اولاد واقعی فاسق و فاجر اور منافق ہوتے جیسا کہ شیعہ لوگ کہتے ہیں تو حضراتِ ائمہ اہلِ بیتؓ کی صاحبزادیاں ان سے کیوں بیاہی جاتیں حضور سرورِ کائناتﷺ کے درج بالا ارشادات کے پیشِ نظر ان دخترانِ نیک اختر کی شادی کرنے والوں کو اہلِ تشیع کیا کہیں گے اور پھر ان خود صاحبزادیوں کے متعلق ان کا کیا فتویٰ ہوگا حقیقت یہ ہے کہ اولادِ سیدنا حسنؓ بھی قابلِ احترام شخصیات تھیں اور مروان بن الحکم اور اس کی اولاد بھی فاسق و فاجر نہ تھی سیدہ نفیسہؓ کے بارے میں ہم اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ یہ نہایت پاکباز اور نیک سیرت صاحبِ کرامت خاتون ہیں صاحبِ کرامت تھیں ان کا درجہ بہت بلند تھا۔

اگر مروان ملعون تھا تو اس کے بیٹے سے سیدنا زین العابدینؒ عطیات کیوں قبول کرتے رہے؟

 شیعہ نے اپنے طعن کی بنیاد اس امر پر رکھی تھی کہ مروان بن الحکم ایک بدکردار آدمی تھا لہٰذا اس کی بدکرداری اور فتنہ و فساد کی آگ نے سیدنا عثمانِ غنیؓ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کتاب سے اقتباس پیش کیا تھا اسی کتاب میں یہ بھی مذکور ہے کہ سیدنا زین العابدینؒ کے مروان کے ساتھ اچھے تعلقات رہے پھر اس کے بیٹے عبد الملک سے بھی کوئی پرخاش نہ تھی ان خصوصی تعلقات کی بنا پر سیدنا زین العابدینؒ نے مروان سے ایک لاکھ درہم بطورِ قرض لیے لیکن مروان وصیت کر گیا کہ اے میرے بیٹے عبد الملک میری وفات کے بعد امام موصوف سے ایک درہم بھی واپس نہ لینا عبارت ملاحظہ ہو: 

وقال الاصمعی لم يكن للحسينؓ عقب الا من على بن الحسينؓ ولم يكن لعلى بن الحسينؓ نسل الامن ابن عمه الحسنؓ فقال له مروان بن الحكم لو اتخذت سواری يكثر اولادك فقال ليس لی ما اتسری به فاقرضه ماله الف فاشترى له السواری فولدت له وكثر نسله ثم لما مرض مروان اوصى ان لا يوخذ من على ابن الحسينؓ شئى مما كان اقرضه فجميع الحسنينؓ من نسله رحمه الله۔

(البدایہ والنہایہ جلد 9 صفحہ 104۔105 تذکرہ علی بن الحسین مطبوعہ بیروت طبع جدید)۔

ترجمہ: اصمعی کہتا ہے کہ سیدنا حسینؓ کی اولاد صرف ان کے ایک ہی بیٹے سیدنا علی بن الحسینؓ (زین العابدینؒ) سے تھی اور سیدنا زین العابدینؒ کو مروان بن حکم نے کہا اگر آپ زیادہ اولاد کے خواہش مند ہیں تو کسی لونڈی سے نکاح کریں اس پر سیدنا زین العابدینؒ نے ان سے ایک لاکھ درہم قرض مانگا۔

 مروان نے ایک لاکھ درہم سیدنا زین العابدینؒ کے سپرد کر دیا اس کے بعد جب مروان کی وفات کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹے عبد الملک کو وصیت کی کہ سیدنا زین العابدینؒ سے ایک درہم بھی واپس نہیں لینا جو میں نے قرضہ دیا تھا اور پھر اسی لونڈی سے آپ کی ساری اولاد ہوئی۔


صفحہ 2 از 2