مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف

  مولانا مہر محمد

صفحہ 9 از 13
25) انگریز شر انگیز جب جنگِ آزادی 1857ء کے بعد پورے برصغیر پر چھا گیا اور مسلمانوں نے اس کے خلاف تحریکِ آزادی جاری رکھی اور قتل، قید و بند اور جلا وطنی کی سزائیں مجاہدین کو ملتی رہیں، تاریخ سے ہمیں پتا نہیں چلتا کہ کسی شیعہ عالم لیڈر یا نواب نے انگریز کے خلاف کام کیا ہو یا کوئی تکلیف پائی ہو بلکہ یہ لوگ قادیانیوں کی طرح انگریزوں کو اپنے لیے رحمت کا سایہ سمجھتے تھے کیونکہ مذہبی آزادی کی آڑ میں انہوں نے جس بدعت اور شرکیہ کام کو چاہا اس کے لیے باقاعدہ لائسنس اور اجازت نامہ حاصل کر لیا تا کہ ٹوکنے والے علماء دین کا بھی منہ بند ہو جائے اور وہ ان شر سے بھر پور رسوم سے اپنے جعلی مذہب کو پھیلا سکیں۔ یہ تعزیے، ذوالجناح، دلدل وغیرہ کے جلوس انگریزی دور کی پیداوار ہیں جو "لڑاؤ اور حکومت کرو" کی پالیسی کے تحت اس نے اپنے وفاداروں کو عنایت کیے، چنانچہ لاہور کا شیعہ مجتہد علامہ حائری اپنے کتابی سائز کے رسالہ کے صفحہ 123 پر یہ لکھتا ہے "انگریزی حکومت ہمارے لیے سایہ رحمت ہے کہ اس کی پناہ میں ہم اپنی مذہبی رسوم آزادی سے بجا لاتے ہیں" ابھی 1986ء میں شریعت بل کے خلاف شیعہ نے ایک دلیل یہ بھی دی کہ اس کے نفاذ سے ہماری وہ رسوم اور حقوق ختم ہو جائیں گے جو انگریز نے دیے تھے، جو اعمال و رسوم قرآن و سنت نبوی، فتویٰ اہلِ بیتؓ سے ثابت نہ ہوں بلکہ خود ساختہ ہوں بدعت اور شرعاً ممنوعہ ہوں ان کے جواز کی سند غیر مسلموں سے لینا اور پھر ان پر مسلمانوں سے لڑنا جھگڑنا یہ کفر کی حمایت نہیں تو کیا مسلمانوں سے وفاداری ہے؟
26) تاریخ پاکستان: انگریز کے خلاف صدی بھر سے صرف سنی مسلمانوں کی جنگِ آزادی جب کامیابی سے ہمکنار ہونے لگی اور انگریز نے وطن چھوڑنا چاہا تو مسلمانوں کی غالب اکثریت نے نعرۂ پاکستان کا ساتھ دیا اور اپنی رواداری اور بے تعصبی سے یہ سوال ہرگز نہیں اٹھایا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کس خاندان اور مذہب سے وابستہ ہیں، چنانچہ معمارِ پاکستان مفسرِِ قرآن، خطیبِ ہند مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ اور ہزار کتابوں کے مصنف حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ دیوبندی نے اہلِ سنت کے سٹیج سے اپنے لاکھوں شاگردوں اور مریدوں کے ساتھ پاکستان کا بھر پور ساتھ دیا۔ چاٹگام سے پشاور تک طوفانی دوروں سے مسلم رائے عامہ کو پاکستان کے حق میں قائل کیا، تبھی تو 1946ء کے الیکشن میں مسلم لیگ کو کامیابی ہوئی پھر بریلوی مکتبہ فکر نے بھی بنارس کانفرنس کر کے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا، اگر علمائے دیوبند اور مذہبی گروہ کی تائید نہ ہوتی تو پاکستان کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہوتا، عام پرو پگینڈہ یہ ہے کہ پاکستان کا تصور سب سے پہلے علامہ اقبال مرحوم المتوفی 1938ء نے پیش کیا اور 1940ء میں قرار دادِ پاکستان کے بعد مسلم لیگ نے مطالبہ اور تحریک شروع کی، لیکن ہم کہتے ہیں کہ یہ تصور انگریز سے صد سالہ جنگ لڑنے والے گروہ کے بوریا نشین نے پیش کیا۔ 
تعمیرِ پاکستان اور علماء ربانی صفحہ 41 پر منشی عبدالرحمٰن لکھتے ہیں: جون 1928ء میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ اور مولانا عبد الماجد دریا آبادی رحمۃ اللہ تھانہ بھون میں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ نے یہ فرمایا "دل یوں چاہتا ہے کہ ایک خطہ پر اسلامی حکومت ہو سارے قوانین وغیرہ کا اجراء احکامِ شریعت کے مطابق ہوں" پھر 1938ء میں فرمایا! میاں شبیر علی ہوا کا رخ بتا رہا ہے کہ لیگ والے کامیاب ہو جائیں گے، ان شاءاللہ
میں نے جو اعلان کیا ہے اس میں مںسلم لیگ کی حمایت کی ہے اور مسلم لیگ کا حامی ہوں۔
(اسعد الابرار صفحہ 120: از مولانا ابرار الحق حقی، بحوالہ اظہار العیب صفحہ 203،204 مولانا سرفراز خان صفدر) 
انہی خدمات کے صلہ میں کراچی میں مولا عثمانی رحمۃ اللہ کو اور ڈھاکہ میں مولانا اختر سلہٹی رحمۃ اللہ کو پاکستان کی پرچم کشائی کا اعزاز بخشا گیا اور یہ دونوں دار العلوم دیوبند کے مایہ ناز سپوت تھے اور حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے خاص ساتھی اور معتقد تھے، اس لیے کسی بھی گروہ کا بار بار یہ طعنہ دینا کہ دیوبندی مخالف پاکستان یا کانگرسی ہیں ایک بد دیانتی اور غلیظ جھوٹ ہے جو طبقہ مخالف تھا وہ مسلمانوں یا پاکستان کا مخالف ہرگز نہ تھا وہ سب ملک ہند کو اپنا وطن جانتا تھا وہ چاہتا تھا تقسیم ملک نہ ہو کہ دہلی ہی حسبِ سابق مسلمانوں کا دارالسلطنت ہو جن سے انگریز غاصب نے اقتدار چھینا تھا اور اب انہوں نے ہی غاصب کو جنگ کر کے نکالا تھا، یہ جذبہ ملک سے محبت کی دلیل تھی جسے اب ہم تقسیم پاکستان کا تصور نہیں کر سکتے اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر افسوس کرتے ہیں، اس منفی تصور نے 17 کروڑ انڈین مسلمانوں کو وہاں تحفظ دیا ہے اور لوک سبھاء میں وہی علماء ان مسلمانوں کی نمائندگی کر رہے ہیں ورنہ ان کو وہاں کون رہنے دیتا؟ پاکستان تو ان کا تحفظ نہ کرسکا تھا، اب اس فضول بحث کہ فلاں مخالف تھا فلاں موافق کو ختم کرنا چاہیے، یہاں کے بھی باشندے پاکستان کے وفادار شہری ہیں سب کو امن سے زندگی گزارنے کا حق ہے ورنہ ایک کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ شیعہ تاریخ گواہ ہے انہوں نے کفر و اسلام کی ٹکر میں کبھی مسلمانوں کاساتھ نہ دیا برصغیر میں بھی انگریز کے خلاف جنگِ آزادی، تحریکِ خلافت، تحریکِ ترک موالات اور تحریک ریشمی رومال وغیرہ میں مسلمانوں کے ساتھ مل کر کوئی قربانی نہ دی بلکہ تقیہ و جاسوسی کا کردار ادا کرتے رہے، تحریکِ پاکستان میں بعض شیعہ وکیلوں اور علماء نے اس لیے شرکت کی کہ حسن اتفاق سے وہ قائد کو اپنا ہم پیشہ اور ہم مذہب سمجھتے تھے کامیابی پر انتظامی کلیدی آسامیوں پر پہنچنا مقصود تھا، پاکستان بننے پر ان کو وہ حاصل ہو گیا،
صفحہ 9 از 13