مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف

  مولانا مہر محمد

صفحہ 8 از 13
آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کے گرد بھی شیعہ جمع ہو گئے، جو درپردہ انگریز سے ملے ہوئے تھے اور اصل حالات کو شاہ سے مخفی رکھ کر سلطنت مغلیہ کا چراغ گل کرا دیا، مغلیہ دور میں سید برادران کا فتنہ مضمون میں محمد اسحاق قلبی آخری قسط میں لکھتے ہیں، بارھ کے بادشاہ پر رافضیوں نے اپنی آٹھ دس برس کی سازشوں، ریشہ دوانیوں سے ایک عظیم الشان مغلیہ سلطنت کو نیم جان کر دیا اور ان کے بعد تیسرے رافضی برہان الملک سعادت علی خاں نے اپنی غداری اور نمک حرامی سے اس نیم جان مغلیہ سلطنت کی پشت میں (نادر شاہ کے ہاتھوں) ایسا بھر پور خنجر مارا کہ وہ اٹھنے کے قابل ہی نہ رہی لیکن یہودیوں، نصرانیوں، زرتشتیوں، مجوسیوں اور عجمیوں نے تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے ابوالفتح ناصر الدین محمد شاہ شہنشاہ کو محمد شاہ رنگیلا بنا دیا، 
انہوں نے لکھا کہ وہ عیاش تھا وہ ہنوز دلی دور است کہتا تھا، اس لیے سلطنت مغلیہ برباد ہوئی، سبھی نے ان مکاروں بددیانتوں کی پھیلائی ہوئی خرافات پر یقین کر لیا اور اپنے اکابر کی برائی پر تل گئے، اور یہ بھول گئے کہ یہ سب دشمن کی کارروائی ہے(ماہنامہ شمس الاسلام بھیرہ: اپریل 1986ء بحوالہ، تاریخ فرشتہ) 
23) نادر شاہ کے حملے کے بعد مسلمان انتہائی کمزور ہو گئے تو شیعہ و بے دین راجوں نے انگریز کی بالا دستی تسلیم کر کے اپنی ریاستوں کو ان سے اپنے نام الاٹ کروا لیا، آج بہت سے جاگیریں، نوابوں، خانوں، اور مَلکوں کے پاس انگریزی عطیات ہیں، لیکن غیور اور مسلمان نوابوں اور سلاطین نے انگریزی سے ٹکر بھی لی، ان میں سرِ فہرست میسور کا راجہ سلطان ٹیپو شہید بن حیدر علی ہے جو شاہ ولی اللہ خاندان کا معتقد، اہلِ توحید و سنت سے وابستہ اور انگریزوں کا کٹر دشمن تھا، یہ جب انگریزوں سے خود جنگ لڑ رہا تھا تو شیعہ کماندار نے غداری کر کے سلطان کو شہید کر دیا جیسے اسی طرح بنگال میں میر جعفر نے غداری کر کے انگریزوں کو اقتدار دلا دیا اسی لیے یہ شعر زبان زدِ عام ہے:
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگ دنیا ننگ دین ننگ وطن
جسٹس کیانی شیعہ کے خاص دوست پروفیسر محمد منور روزنامہ جنگ 22 مارچ 1983ء کی اشاعت میں سے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیں:
1: شیعہ سنی فسادات کی تاریخ قدیم ہے، مگر ہمیشہ یاد رہے کہ ان میں مخلص سنی اور شیعہ ہمیشہ فسادیوں کی نشاندہی نہ ہونے کے باعث نقصان یاب ہوئے اگر ٹیپو اور حیدر علی کی سلطنت کسی شیعہ گروہ سے تعلق رکھنے والوں نے بیچ دی تو یہ ان افراد کی ذاتی بے ایمانی تھی۔
2: فسادی عنصر شیعوں میں بھی گھس آتے ہیں اور سنیوں میں بھی جب ابو مسلم خراسانی نے کالے جھنڈے اٹھائے تھے تو اس کے ساتھ محض بنو ہاشم نہ تھے، موقع کا فائدہ اٹھا کر مجوسی اور مزوکی (اپنے زمانے کے کمیونسٹ) اس کے لشکر میں ( شیعہ بن کر) گھس گئے، بنو ہاشم نے تو بنو امیہ کے اکابر پر ہاتھ صاف کیا، مگر مجوسیوں نے کہا جو عرب نظر آئے اسے اڑا دو مزکیوں، کمیونسٹوں نے ہر کلمہ گو مارا خواہ وہ ایرانی تھا خواہ عرب اور وہی مزوکی اور مجوسی دوسری جانب بنو امیہ کے آدمیوں کو ابھار کر مخبری کرا کے بنو ہاشم اور ان کے ساتھیوں کو قتل کراتے رہے، مزکیوں کمیونسٹوں نے (شیعہ) روپ بدل کر مختلف اسلامی فرقوں کو جنم دیا، نظام الملک طوسی کا سیاست نامہ اس پر گواہ عادل ہے( پھر ان کا خانہ کعبہ میں قتلِ حجاج، حجرہ اسود کو اکھیڑ کر بیت الخلاء میں لگانا، جو قرامطی شیعوں کے سیاہ کام ہیں نقل کیے ہیں)
3: ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور ہم ایران کا احترام کرتے ہیں، موجودہ انقلابی حکومت کو سب سے اول پاکستان نے تسلیم کیا، اسی طرح ایران کے حل و عقد کو بھی اس امر پر نظر رکھنی چاہیے کے بعض شیعہ عناصر(جو خدا جانے شیعہ ہیں بھی یا نہیں) اس خواہش کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ انہیں پاکستان کو شیعہ ریاست میں تبدیل کرنا ہے اور جلد از جلد ہماری دعا ہے کہ ایران ایک اثناء عشری اسلامی رنگ میں ترقی کرے، اہلِ ایران کو اور ایران کے جو شیلے (پاکستانی) پرستاروں کو بھی دعا کرنی چاہیے کہ خدا پاکستان کو استحکام اور اسلام میں سنی رنگ میں استحکام عطا کرے، اکثریت کی قوت ہی استحکام عطاء کرتی ہے، اقلیت کو مخلوص خاطر تعاون کرنا چاہیے۔
24) انگریز اور شیعہ جناب ابو ذر غفاری صاحب "نوائے وقت" میں رقم طراز ہیں:
انگریز تو مسلمانوں کی اس کمزوری کاخوب فائدہ اٹھاتا تھا، 1799ء میں شاہ افغانستان نے سلطان ٹیپو کی مدد کا ارادہ کیا تو انگریز نے افغانستان پر ایران سے حملہ کروا دیا اور اس نے انیسویں صدی میں یہ منصوبہ بنایا تھا کہ وہ ایران کو مضبوط بنائے گا تاکہ وہ اپنے سنی ہمسایوں کے خلاف برسرِ پیکار رہے ( گویا میر صادق کی ٹیپو سے غداری ایران کی سازش تھی)
صفحہ 8 از 13