مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف

  مولانا مہر محمد

صفحہ 7 از 13
تو پروفیسر مذکور نے جواب دیا: عہدِ صفوی میں سنیوں کا قتل عام کر کے ان کو جبراً شیعہ بنایا گیا، اسماعیل (صفوی) بن حیدر بن جنید بن ابراہیم بن خواجہ علی بن صدر الدین بن شیخ صفی الدین بن جبرئیل کے آباء واجداد سب سنی المذہب تھے، پیری مریدی کرتے تھے، شیخ صدر الدین نے سفارش کر کے تیمور کے ہاتھوں وہ تمام ترک قیدی آزاد کرا دیے جو اس نے سلطان یلدرم سے جنگ انگورہ میں پکڑے تھے وہ ہزاروں قیدی شیخ کے باصفا مرید بن کر یہیں رہ گئے اور شاہ اسماعیل تک اس کی سب اولاد سے وفا دار رہے اور اسماعیل کو اقتدار دلانے میں ان کی بڑی قربانیاں ہیں، اسماعیل نے حُب اہلِ بیتؓ کے نعرے سے سنی و شیعہ عوام کو ساتھ ملا کر اقتدار پا لیا تو علانیہ شیعہ اور رافضی بن گیا، پھر اپنے ترک مریدوں کی قوم سے جنگ کا منصوبہ بنایا اور پڑوسی ملک ترکی سلطنت عثمانیہ میں اپنے داعی، جاسوس اور ایجنٹ بھیج دیے تاکہ اندرونی و بیرونی حملہ سے اس ملک کو ختم کر کے شیعہ سٹیٹ بنا لیا جائے مگر شاہ سلیم عثمانی کو اس سازش کا پتہ چل گیا اس نے اسماعیل صفوی کے سب ایجنٹوں کو ختم کر کے ایران پر دفاعی حملہ کیا، اسماعیل بھاگ گیا، سلطان نے اندرون ملک اس کا تعاقب کر کے خالدران کے مقام پر کامیاب جنگ لڑی اور نصف علاقوں پر اپنی حکومت قائم کر لی، شاہ سلیم اگر دوبارہ ایران جاتا پھر باقاعدہ شاہ صفوی جنگ لڑتا تو اس کا اقتدار ختم ہو جاتا، مگر شام و مصر کے سرحدی کشیدہ حالات کی وجہ سے شاہ دوبارہ ایران نہ جا سکا اور اسماعیل صفوی کے اس سازشی جال کی وجہ سے یورپ میں بھی شاہ سلیم اپنی فتوحات آگے نہ بڑھا سکا، 
اگر اسماعیل صفوی یہ حملے اور اندرون ملک سازشیں نہ کراتا تو شاہ سلیم کی مساعی سے آج براعظم یورپ اسلام کے زیرنگین ہوتا لیکن،
"اے بسا آرزو کہ خاک شدہ"
جناب ابو ذر غفاری نوائے وقت میں لکھتے ہیں۔
اس کے علاوہ اگر ایران کے صفوی شیعہ اور ترکی کے عثمانی سنی آپس میں لڑ کر خون کے دریا نہ بہاتے تو آج سارا یورپ مسلمان ہوتا، مزید برآں اگر مغلیہ دور میں ہندوستان کے مسلمان سنی شیعہ جھگڑوں کی نذر نہ ہوتے تو آج سارے ہندوستان پر مسلمانوں کا غلبہ ہوتا۔اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ہر نازک موقع پر شیعوں نے اہلِ اسلام کو خنجر گھونپ کر کافروں کو بچایا ہے، موجودہ خمینی انقلاب اور ایران و عراق جنگ ٹھیک اسی پالیسی کے تحت ہے جو شاہ اسماعیل صفوی نے وضع کی تھی اس وقت ترکوں کو مار کر عیسائیوں کو بچانا مقصود تھا اب خاص معاہدے کے تحت امریکی اسلحہ اسرائیل جیسے دشمن اسلام سے لے کر عربوں کو ختم کرنا اور سامراجی طاقتوں کی مدد کرنا مقصود ہے، اسلام کا نعرہ لا شیعہ ولا سنیہ، مرگ بر اسرائیل، مرگ بر امریکہ، تو صرف ہاتھی کے دانت دکھانے کے ہیں جن سے بدھو صحافیوں کو الو بنانا ہےاور اقتدار کے بھوکے مستقبل سے اندھے سیاستدانوں کو اور سادہ لوح مسلمانوں کو تقیہ اور ڈپلومیسی کے ذریعے اپنا ہم نوا بنانا مقصود ہے، اللہ اندھوں کو بینائی عطا فرمائے۔
21) ایران کا عہد صفوی، ہند میں عہد مغلیہ کا معاصر ہے، سب سے پہلے ہمایوں کے دور میں شیعہ کو ہند میں برآمد کیا گیا خاص معاہدہ سے قاضی نور اللہ شوستری جیسے غالی شیعہ کو قاضی القضاۃ بنایا گیا، جس نے تشیع کی اشاعت میں ہر حربہ استعمال کیا، سلطان اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ نے اپنی خداداد ایمانی فراست اور دیانت سے اسے محدود کرنے کی کوشش کی اور کامیاب بھی ہوا تبھی تو شیعہ اور ان کے بے دین ہمنواء عالمگیر کی شکایت کرتے ہیں، مگر شیعوں نے ایک اور چال چلی عالمگیر کے بیٹوں کو رشتے دے کر بعض کو مائل بہ تشیع کر لیا، پھر وہ اقتدار کی رسہ کشی اور خانہ جنگی کا شکار ہو گئے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سلطنت مغلیہ قریب الزوال ہو گئی، ادھر ہندو اور مرہٹے زور پکڑ گئے، جن کو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ کی دعوت پر احمد شاہ ابدالی نے پانی پت کے میدان میں آ کر 20 ہزار افغانی سپاہ کی کمک سے ختم کیا، ادھر اودھ، لکھنؤ، دکن وغیرہ میں شیعہ راجوں نے آزاد ریاستیں قائم کر لیں، انگریزوں نے ایسے پاؤں پھیلائے کہ مسلمانوں کا اقتدار دہلی کے گرد و نواح تک محدود ہو کر رہ گیا۔ 
22) نادر شاہ درانی کا دہلی پر حملہ: اس کمزوری کی وجہ سے نا جائز فائدہ اٹھانے اور مسلمانوں کو ختم کرنے کی نیت سے ہمارے ہمدرد پڑوسی ایران کا نادر شاہ درانی بڑے لشکر کے ساتھ آیا، ایک مدبر امیر الامراء محمد امین خاں کے مشورے سے بہت سا خراج اور کروڑوں روپے نقد دینے پر صلح ہو گئی مگر اس کے شہید ہونے کے بعد ایک دوسرے غدار برھان الملک سعادت علی خاں رافضی(شیعہ) نے محض عہدہ بدلنے سے نادر شاہ کو غدر کرنے اور بادشاہ کو قتل کر کے دہلی کا خزانہ لوٹنے اور قتلِ عام کرنے کا پروگرام دے دیا، چنانچہ نادر شاہ نے لاکھوں مسلمانوں کو دہلی جامع مسجد میں شہید کیا، بادشاہ اور اسکے لڑکوں کی لاشوں پر تخت بچھا کر ناشتہ کیا اور دہلی کا سب خزانہ لوٹ کر لے گیا، اسی موقع پر ایک بزرگ نے کہا:شامتِ اعمال ماصورت نادر گرفت، نادر کے حملہ کو خراجِ تحسین شیعہ عورتیں تک پیش کرتی ہیں، نادر شاہ کو شاہی خزانے سے ساڑھے تین کروڑ چاندی کی نقدی، ڈیڑھ کروڑ کی سونے کی تختیاں، پندرہ کروڑ کے جواہرات، گیارہ کروڑ کا تخت ہاؤس، پانچ سو ہاتھی، ہزار اعلیٰ نسل کے گھوڑے اور شاہی خیمے قناتیں وغیرہ حاصل ہوئیں۔ 
صفحہ 7 از 13