مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف

  مولانا مہر محمد

صفحہ 6 از 13
  1. سلطان بایزید خان نے نکوپولس کے میدان میں عیسائیوں کے ایک ایسے زبردست اور ہر ایک اعتبار سے مکمل و مضبوط لشکر کو شکست فاش دی کہ اس سے پہلے کسی میدان میں عیسائیوں کی اتنی زبردست طاقت جمع نہ ہو سکی تھی، سجمنڈ شاہ ہنگری اپنی جان بچا کر لے گیا لیکن فرانس و آسٹریا و اٹلی و ہنگری وغیرہ کے بڑے بڑے شہزادے نواب اور سپہ سالار قید ہوئے اور بعض میدان میں مارے گئے۔ 
  2. اس کے بعد وہ اپنی فوج لے کر یورپ میں پہنچا، ہنگری، آسٹریا، فرانس، جرمنی، اور اٹلی فتح کرنے کے عزم کے ساتھ یونان کا رخ کیا، پھر تھرموپلی کے درے میں سے فاتحانہ گزرتا ہوا اتھنس کی دیواروں کے نیچے جا پہنچا اور 800 ہجری میں اتھنس کو فتح کر کے تین ہزار یونانیوں کو ایشیائے کوچک میں آباد ہونے کے لیے روانہ کیا اور اپنے سپہ سالاروں کو آسٹریا اور ہنگری کی طرف فوجیں دے کر روانہ کر دیا تھا جنہوں نے ان ملکوں کے اکثر حصوں کو فتح کر لیا تھا۔ 
  3.  سلطان بایزید خان یلدرم جب یونان اور اتھنس وغیرہ کو فتح کر چکا اور قیصر روم کا حال بہت پتلا ہونے لگا تو اس نے اپنی امداد کے لیے فوراً قاصد کو خط دے کر تیمور کی خدمت میں روانہ کیا، خط کے مضمون نے اس کے دل پر ایسا اثر کیا کہ اس کا دل ہندوستان سے اچاٹ ہو گیا اور وہ اس نو مفتوحہ ملک کو بلا کسی معقول انتظام کے ویسے ہی چھوڑ کے ہردوار سے پنجاب اور پھر سمر قند کی جانب روانہ ہوا۔ ہندوستان کے ایک لاکھ قیدی گراں بار سمجھ کر راستے میں قتل کرا دیے پھر سمر قند سے روانہ ہو کر اور ایشیائے کوچک کی مغربی سرحد پر پہنچ کر آذر بائیجان اور آرمینیا میں قتل عام کے ذریعے خون کے دریا بہائے اور اس علاقے پر اپنی ہیبت کے سکے بٹھائے اور خوب تیاری کر کے اس پر آمادہ ہو گیا کہ عثمانی سلطان سے اول دو دو ہاتھ کر کے اس بات کا فیصلہ کر دیا جائے کہ ہم دونوں میں سے کس کو دنیا کا فاتح بننا چاہیے؟
  4. سلطان بایزید یلدرم، تیمور سے جنگ کرنا یعنی خود اس پر حملہ آور ہونا ضروری نہ جانتا تھا، کیونکہ وہ مسلمان بادشاہوں سے لڑنے کا شوق نہ رکھتا تھا اسکو تو ابھی یورپ کے رہے ہوئے ملکوں کے فتح کرنے کا خیال تھا، مگر تیمور کئی سال سے نہایت سر گرمی کے ساتھ بایزید سے لڑنے اور اس کو شکست دینے کی کوششوں میں مصروف تھا، دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ بایزید یلدرم عیسائی طاقت کو دنیا سے نابود کرنے پر تلا ہوا تھا اور تیمور بایزید کو نابود کرنے اور عیسائیوں کو بچانے پر آمادہ تھا، تیمور نے اپنے تمام سامانوں کو مکمل کر لینے کے بعد بایزید کے سرحدی شہر سیواس پر حملہ کر دیا، جہاں بایزید کا بیٹا قلعہ دار تھا، ایک خاص چال سے قلعہ کی چار دیواری کو آگ لگا کر زمین میں دھنسا دیا اور چار ہزار فوجیوں کی مشکیں کسوا کر ایک بڑی خندق میں زندہ درگور کر دیا، زندہ در گور کرنے کے اس ظالمانہ فعل سے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
  5. شاہ یلدرم بیٹے کی مقتل گاہ دیکھ کر غصہ سے بے تاب ہو گیا، مگر تیمور لنگ جنگی چال سے یہاں سے فوراً اندرون ملک شہر انگورہ پر پانچ لاکھ سے زائد مسلح لشکر کے ساتھ حملہ آور ہوا، سلطان نے اسکے تعاقب میں جا کر ایک لاکھ تھکے ماندے لشکر سے حملہ کیا، زبردست کشت و خوں کے بعد سلطان نے شکست کھائی اور تیمور نے اسے لڑتے ہوئے ذلت کے ساتھ قید کیا، اور شہر بہ شہر تشہیر کرائی، تیمور رافضی(شیعہ) تعزیہ ساز نے اس ظلم سے اسلام کے غلبہ اور وقار کا خاتمہ کر دیا، تیمور کی تمام تزک و ساز اور فتح مندیاں مسلمان سلاطین کو زیر کرنے اور مسلمانوں کے شہروں میں (موجودہ خمینی کی طرح) قتل عام کرانے میں محدود رہیں اور اس کو یہ توفیق میسر نہ آ سکی کہ غیر مسلموں پر جہاد کرتا یا غیر مسلم علاقوں میں اسلام پھیلاتا، (اقتباسات از تاریخ اسلام اکبر شاہ نجیب آبادی: صفحہ478،481،491) 
تزکِ تیموری سے پتہ چلتا ہے کہ تیمور عالم اسلام کی اس تباہی سے پچھتایا، عامۃ المسلمین نے اسے حقیر جانا، اس نے تلافی میں پہلی مرتبہ غیر مسلم ملک چین پر چڑھائی کی مگر راستے میں ہی مر گیا، آرزو فنا ہو گئی، مفتوحہ ممالک بیٹوں کی خانہ جنگی کی وجہ سے خود مختار ریاستوں میں تبدیل ہو گئے، اب صرف تیمور کا نام اسکے ظالم آباء چنگیز و ہلاکو خان کے ساتھ یادگار ہے اور رہے گا، تعجب ہے کہ تعزیہ پرست اس موجد تعزیہ ظالم کو قومی ہیرو مانتے اور صاحب سیف و قرآن امیر تیمور باور کراتے ہیں، معاذ اللہ
20: اسماعیل صفوی کے مظالم: تباہ شدہ سلطنت عثمانیہ کو اللہ نے پھر زندہ کیا اور سلطان محمد خان اول، سلطان مراد خان ثانی فاتح قسطنطنیہ، سلطان محمد خان ثانی اور سلطان بایزید ثانی اور سلطان سلیم عثمانی جیسے کامیاب و مدبر حکمران کے ذریعے پھر عالمِ اسلام کی متحدہ قوت بنا دیا اور یورپ میں فتوحات زور و شور سے شروع ہو گئیں، لیکن دسویں صدی کے آغاز میں شاہ اسماعیل صفوی شیعہ حکمران بر سرِ اقتدار آ گیا، اس نے تمام ایرانی سنی اکثریت کے مسلمانوں کی مساجد اور مقابر شہید کرا دیے، بڑے بڑے علماء اور معززین کو سولی چڑھا دیا گیا، خلفائے ثلاثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبراء جمعہ کے خطبہ میں لازم کر دیا گیا جگہ جگہ سنی شیعہ فسادات کرائے، ایک محتاط اندازے کے مطابق چالیس لاکھ سنی مسلمان شہید کرائے اور باقی ماندہ کو شیعہ بننے پر مجبور کر دیا۔ کلیاتِ نفسی مؤلفہ سید نفیسی پروفیسر تہران یونیورسٹی میں لکھا ہے کہ ان سے سوال کیا گیا ایران جو سنی اکثریت کا ملک تھا وہ شیعہ اکثریت (60-65 فیصد) میں کیسے تبدیل ہوا؟ 
صفحہ 6 از 13