مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف

  مولانا مہر محمد

صفحہ 5 از 13
جب مغل تاتاری ہلاکو خان 654 ہجری میں ممالکِ شرقیہ کی فتوحات کے لیے بڑھا تو شیعہ عالم نصیر الدین طوسی ملاحدہ (اسماعیلیہ) کی قید سے آزاد ہو کر ہلاکو خان سے مل گیا، بغداد کے شیعہ وزیر ابنِ علقمی نے موقع غنیمت جان کر ہلاکو کو بغداد پر حملہ کی دعوت دی چنانچہ اس نے 656 ہجری میں بغداد پر زبردست حملہ کیا، عباسی خلیفہ مستعصم کو اور اسکے صاحبزادوں ابوبکر و عبد الرحمٰن کو قتل کر دیا، خواجہ نصیر الدین کے مشورے سے خلیفہ عباسی کو اتنی بے دردی سے شہید کیا کہ اس کے ایک ایک عضو کو الگ الگ کاٹا، شیعہ عالم شوستری کہتا ہے کہ شیعانِ علی ائمہ معصومین کے بدلہ لینے سے خوب خوش ہو گئے۔ (مجالس المؤمنین: صفحہ442) لاکھوں مسلمان قتل ہوئے، دریائے دجلہ خونی موجیں مارنے لگا، سارے بازار لاشوں سے اٹے پڑے تھے، گھوڑے خون میں دھنس کر چل نہیں سکتے تھے، بڑے بڑے کتب خانے دریا برد ہو گئے کہ ان کی سیاہی سے دریا پھر ایک مرتبہ سیاہ ہو گیا، یہ تباہی سقوطِ ڈھاکہ اور سقوطِ غرناطہ سے بہت بڑی تھی لیکن شیعہ وزیر اور طوسی عالم خوش ہیں کہ ائمہ معصومین کے خون کا بدلہ ہو گیا، غور کیجئے اماموں میں سے شہید تو 88 مخالفوں کو مقابلے میں مار کر 72 ساتھیوں کے ہمراہ سیدنا حسینؓ تھے، خود قاتلوں (توابین و مختار ثقفی) نے ایک لاکھ مسلمان اسی بہانے سے 70 ہجری تک مار ڈالے تھے۔
اب ساتویں صدی میں عباسیوں سے کون سا بدلۂ امام لینا باقی تھا کہ کافروں سے عالمِ اسلام کو تباہ کرا دیا؟ "عذرِ لنگ بد تر از گناہ" کا مصداق شیعہ شوستری نے اس حملہ اور تباہی کی وجہ یہ لکھی ہے کہ کرخ کے محلہ سے خلیفہ نے سحری کے وقت تبراء پر مشتمل ایک دعا سنی، خلیفہ مشتعل ہو گیا اور محلہ کو تباہ کرا دیا، پس ابنِ علقمی نے خلیفہ عباسی کو مروانے اور بغداد تباہ کرنے کی قسم کھا لی۔ ذرا غور فرمائیں! یہ محلہ سازشوں اور تبرائی مجلسوں کا گڑھ تھا، حتٰی کہ سحری کے وقت خلیفہ خود جا کر یہ تبرّے سنتا ہے تو انتہائی قدم اٹھاتا ہے، اگر کوئی شیعہ حاکم کسی گھر یا محلہ سے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و اہلِ بیتؓ پر کسی دشمن خارجی سے تبرائیہ کلمات سنے اور انتہائی قدم اٹھائے کیا شیعی دار الافتاء اس کے خلاف ایسی کارروائی کی اجازت دے گا؟ اگر نہیں تو کیا ابنِ علقمی، طوسی کے اور آج اس کے مداحوں کے دشمنِ اسلام ہونے کی یہ کھلی دلیل نہیں ہے؟ بالفرض مان لیا جائے کہ خلیفہ کے ایکشن سے سو پچاس شیعہ گھرانے متاثر ہوئے، مگر کیا دنیا کا کوئی قانون یہ اجازت دیتا ہے کہ غیر ملکی کافر طاقت سے ساز باز کر کے اپنے ملک اور مسلمان قوم کو تباہ و برباد کرا دیا جائے۔
اگر مسلمان حاکموں میں ذرہ بھر قومی یا دینی غیرت ہوتی تو وہ اس حادثہ کے بعد ان مارِ آستین لوگوں سے ہوشیار رہتے نہ دخیل حکومت کرتے نہ کلیدی آسامیوں پر فائز کرتے، لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ سقوطِ بغداد سے لے کر سقوطِ ڈھاکہ تک مسلمانوں نے ہمیشہ ان پر اعتماد کر کے تباہی کا ڈنگ کھایا ہے۔ اور پاکستان انہی تجربات سے گزر رہا ہے لیکن ہر بے ضمیر صحافی اور لا مذہب سیاست دان 95 فیصد اہلِ سنت کے مفادات کو داؤ پر لگا کر 4ـ5 فیصد کو راضی کرنے پر ہی تلا ہوا ہے، ایرانی انقلاب کے دوران اور بعد میں ہونے والے 12-14 لاکھ مسلمانوں کے قتلِ عام سے انہوں نے کچھ سبق حاصل نہیں کیا۔
19: شاہ تیمور لنگ کے مظالم: سقوط بغداد کی طرح خون کے آنسو رلانے والا، بارہ لاکھ مسلمانوں کے قاتل تیمور لنگ رافضی ( شیعہ) کا یہ ظلم و بربریت ہے جو اس نے بلاوجہ یورپ کے فاتح سلطان بایزید یلدرم عثمانی کے ساتھ کیا اور ایشیائے کو چک میں مسلمانوں کی سب سے بڑی سلطنت عثمانیہ کو تباہ کرنے کی ملعون کاروائی کی اور مفتوحہ یورپ پھر مسلمانوں کے قبضے سے نکل گیا، قیصر کے کہنے پر تیمور اگر درپردہ انگریزوں کی حمایت میں یہ مسلم کش جنگ انگورہ نہ لڑتا اور سلطان المسلمین کو شیر کی طرح لوہے کے جنگلے میں قید کر کے جگہ جگہ نمائش و تذلیل کی، اگر وہ یہ انسانیت سوز حرکت نہ کرتا تو تمام یورپ پر آج اسلام کا جھنڈا لہرا رہا ہوتا، 
تاریخ کے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:
صفحہ 5 از 13