مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف

  مولانا مہر محمد

صفحہ 4 از 13
13: مفاد کی دوستی اور وقتی انتخابی اتفاق و اتحاد کبھی پائیدار نہیں ہوتا، بنو امیہ دشمنی میں تو یہ علوی عباسی اتحاد رہا مگر جب بنو عباس کو اقتدار مل گیا اور علویہ محروم رہے تو یہی مفسدانہ کاروائیاں علویوں نے بنو عباس کے ساتھ شروع کر دیں، شیعہ عالم شوستری لکھتا ہے علویوں نے کوفہ میں عباسیوں کے تمام گھروں کو لوٹ لیا۔ ان کا تمام مال و اسباب اور مکانات تباہ کر دیے اور بہت سے بچے کھچے (جو بھاگ نہ سکے) عباسیوں کو علویوں نے مار ڈالا خانہ کعبہ کے خزانہ کو بنو عباس اور ان کے طرف داروں کے مالوں سمیت اپنے قبضے میں لیا اور لشکر میں تقسیم کر دیا، سیدنا جعفر صادق رحمۃ اللہ کے پوتے موسیٰ کاظم کے بیٹے زید نے عباسیوں اور بصریوں کے گھروں کو اتنی آگ لگائی کہ اس کا لقب "زید نار" پڑ گیا(مجالس المؤمنین: صفحہ404، جلد 2)
ذرا دیانت سے غور فرمائیں سادات کے سے یہ مظالم کسی اموی حاکم نے بھی کیے؟ 
14: بنو بویہ کے مظالم: ابو مسلم خراسانی عباسی دورمیں تقریباً سیاہ و سفید کا مالک ہو گیا، عباسی حکمران کٹھ پتلی بن کر رہ گئے اور بنو بویھہ کا شیعی خاندان عملاً برسرِ اقتدار آ گیا، بحیرہ اخزر کے ساحل پر مچھیرے تھے بویھہ کے تین بیٹے فوجی تربیت پاکر عباسیہ کے دشمن ہوگئے غنڈہ گردی اور قتل و غارت سے جنوبی ایران، شیراز پھر سب ایران پر قبضہ کر کےبغداد پر حملہ کر دیا، خلیفہ مستکفی باللہ نے دب کر اسے بغداد کا گورنر بنا دیا اور معزالدولہ کا لقب دیا، انہوں نے بغداد میں اپنا راج اتنا چلایا کہ خلیفہ کو برسرِ عام ڈنڈے مار مار کر قید کر لیا، 7 سال بعد وہ قید میں مر گیا اور پھر برائے نام ایک شہزادے مطیع الدین اللہ کو خلیفہ بنا دیا اپنی من مانی کاروائیوں پر اس سے دستخط کرا لیتے اور قتلِ عام کرتے، ان کا احمد معزالدولہ ظلم و سفاکی میں سب کو مات دے گیا، اس نے جبراً عاشورہ محرم کی چھٹی کرائی جو پہلے کھبی نہ ہوتی تھی، اہلِ سنت کی دکانیں بند کروا کر تمام شیعہ مردوں اور عورتوں کو حکم دیا کہ وہ سیاہ لباس پہن کر روئیں، پیٹیں اور ماتم کریں، بغداد کے تمام مساجد کے دروازوں پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوبکر صدیقؓ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ،سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر لعنتیں کی اور تبرے لکھوا دیئے، اہلِ سنت مٹا دیتے تھے شیعہ پھر لکھ لیتے تھے، چناچہ سنی شیعہ فسادات کی آگ بھڑک اٹھی، ہزاروں مسلمانانِ اہلِ سنت شہید ہوگئے یہ واقعہ 352ھ کا ہے شیعہ عالم شوستری لکھتا ہے: کہ یہ فتنہ اتنا بڑھ گیا کہ معزالدولہ دارالاسلام بغداد کے تمام سنی مسلمانوں کو قتل کرنے پر آمادہ ہو گیا تو محمد بن مہلبی وزیر نے درخواست کی کہ سیدنا معاویہؓ کے سواء لعنت کسی پر نہ کریں اور شخصی لعنتوں کے بجائے یہ کلمات لکھیں: "لعن اللہ الظالمین لاٰل محمد رسول الله" 21 سال معزالدولہ خلیفۃ الخلفاء بنا رہا اور عباسی خلیفہ معزالدولہ کا تابعدار بنا رہا۔ (مجالس المؤمنین: صفحہ326) 
15: آلِ حمدان:  سے ایک شیعہ بادشاہ سیف الدولہ ہوا ہے اس نے بھی تشیع کے نشہ میں شام کے شہر حلب میں یہی ظالمانہ کاروائی کی (ایضاً:صفحہ337، جلد 2) جو اب حافظ الاسد رافضی( شیعہ)کر رہا ہے۔
16: اسماعیلیوں کے مظالم: سیدنا جعفر صادق رحمۃ اللہ کے دو بیٹے تھے اسماعیل اور موسیٰ کاظم، صادق نے امامت کی نص اسماعیل کی طرف کر دی مگر قضائے الٰہی سے وہ باپ کے عہدِ حیات میں فوت ہو گیا تو شیعوں کا ایک گروہ اسماعیل اور ان کی اولاد میں امامت کا قائل ہو گیا، یہ آغا خانی اور اسماعیلیہ کہلاتے ہیں جن کا 51 امام عبد الکریم موجودہ آغا خان ہے، ان کا مذہب اسلام سے مکمل طور پر مختلف ہے، حتٰی کہ اثناء عشری شیعہ بھی انکو کافر مانتے ہیں، باقی شیعوں نے موسیٰ کاظم کو امام مانا اور اثناء عشری جعفری کہلائے، تاریخ گواہ ہے کہ بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ، اسماعیلیوں نے بھی جب ذرا کچھ اقتدار پایا مسلم کشی میں کوئی کوتاہی نہیں کی، ان کا ملحد لیڈر حسن بن صباح ظلم و بربریت میں شہرہ آفاق ہے۔ شیعہ شوستری لکھتا ہے: کہ اس شخص کے دور میں اس کی فدائی نامی جماعت کے ہاتھوں بہت اہلِ سنت والجماعت شہید کیے گئے،کِیّا بزرگ جو ایک اسماعیلی سردار تھا کے دور میں فدائیوں نے اہل سنت کی ایک بڑی جماعت کو شہید کیا، مقتولوں میں قاضی القضاۃ ابو سعید بھی تھے ایک دوسرے اسماعیلی سردار دولت شاہ رئیس اصفہان نے مراغہ کے حاکم سنتور کو خلیفہ عباسی مسترشد کو تبریز کے رئیس کو، قزدین کے مفتی کو اور سنی قوم کے خاص اکابر کی اکثریت کو فدائیوں کے ہاتھوں مروا ڈالا اور کِیّا محمد پسر کِیّا بزرگ کے دور میں خلیفہ عباسی کا بیٹا راشد مارا گیا اور بہت سے خاص خاص اہلِ سنت کے علماء، افسران، قاضی حضرات قتل کیے گئے، مقتولوں کے ناموں کی تفصیل بعض تواریخ میں مسطور ہے، مؤلف ( شیعہ شوستری) کہتا ہے کہ اہلِ سنت کے ساتھ ان مظالم کا نتیجہ یہ ہے کہ سنی اسماعیلیوں کو ملحد و زندیق کہتے ہیں۔ 
17: شیعوں کا ایک دور اقتدار: فاطمینِ مصر کی حکومت ہے، یہ لوگ اصل میں غلام تھے مگر ان کے مورث عبید اللہ مہدی مجوسی نے خود کو امام اسماعیل بن جعفر کا پڑپوتا ظاہر کر کے افریقہ کی یربری قوموں کو اپنا ہم نوا بنا لیا اور بالآخر مصر کی حکومت پر قابض ہو گئے ان کا اقتدار دو سو برس تک رہا بظاہر علم دوست تھے، جامعہ الازہر ان کی یاد گار ہے لیکن عام اسماعیلی باطنیہ اور ملاحدہ تھے، شیعوں کا یہ گروہ فدائیوں کے نام سے مسلمان امراء کو قتل کرتا تھا اور عالمِ اسلام میں ایک تہلکہ عظیم برپا کر رکھا تھا، ان فدائیوں سے لوگ بہت خائف و ترساں تھے، ان ظالموں نے مسلمانوں کے عظیم فاتح و عادل سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کو بھی قتل کرنے کی سازش کی مگر وہ خدا کے فضل و کرم سے بچ گئے۔
(تاریخِ اسلام نجیب آبادی: صفحہ 436، جلد 3) 
18: ہلاکو خان کا بغداد پر حملہ: شیعی مظالم کا سب سے بڑا خونچکاں حادثہ ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی تباہی ہے جسے ہر مؤرخ روتے ہوئے قلم بند کرتا ہے، 
صفحہ 4 از 13