مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف

  مولانا مہر محمد

صفحہ 3 از 13
2: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو جن سبائی بلوائیوں نے شہید کیا ان کو اپنا پہلا شیعی گروہ اور متقی و صالح جانتے ہیں حالانکہ اسلام کا بڑا حادثہ یہی ہے۔
3: جنگِ جمل و صفین میں طلحہ و زبیر اور ستر ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعینؒ کا قاتل بھی یہی گروہ ہے ان اہم حادثات پر خوش ہیں کبھی ماتمی مجلس قائم نہیں کی ہے۔
4: نہروان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کرنے والے خارجی اسی گروہ سے تھے جنہوں نے سیدنا علیؓ کے شرعی فیصلے کے برخلاف "ان الحکم الا للہ" (حکومت صرف خدا کے مقرر کرنے سے ملتی ہے) کا نعرہ لگایا، آج بھی شیعہ کا یہی نعرہ ہے کہ امامت و خلافت خدا کی نص اور مقرر کرنے سے ملتی ہے شوریٰ اور مسلمانوں کے انتخاب سے نہیں ملتی شیعہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تو خوب مذمت کرتے ہیں مگر ان محاربان علی (خارجیوں) کی نہیں کرتے آخر مذہبی برادری کے سوا اور کیا راز ہو سکتا ہے ؟
5: قاتل علی ابنِ ملجم کٹر شیعہ اور مصری بلوائی تھا، اس کے پہلے کسی عمل کی شیعہ مذمت نہیں کرتے اور نمازوں کے بعد اس پر لعنت نہیں کرتے جیسے معاذاللہ خلفائے ثلاثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین و امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر کرتے ہیں۔ اس کا راز اس کا شیعہ بھائی ہونا نہیں تو اور کیا ہے؟ 
6: اہلِ بیتؓ پر مظالم: احتجاجِ طبرسی، منتہی الآمال، جلاءالعیون وغیرہ کتب شیعہ میں صراحت ہے کہ جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے نانا کی پیشین گوئی اور رضاء کے مطابق سیدنا معاویہؓ کے ہاتھ پر بیعت و مصالحت کر لی سب مسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے وہ سال عام الجماعۃ کہلایا تو اتحادِ ملّی کے دشمن شیعہ سیدنا حسنؓ سے ناراض ہو گئے، آپ کو بہت کوسا اور مطعون کیا، اس کی صدائے باز گشت آج بھی شیعہ ایوانوں میں سے آ رہی ہے کہ حسن رضی اللہ عنہ صرف امامت در اولاد سے ہی محروم نہ ہوئے بلکہ ان کے کسی مخصوص کمال اور بزرگی پر نہ تو کوئی تقریب و مجلس منعقد ہوتی ہے نہ کوئی نام نہاد خطیب آلِ محمدﷺ اس عظیم کارنامہ اتحاد پر آپ کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ بس بعد از وفات جنازہ پر ایک جھوٹا واقعہ مشہور کر کے غیروں کو خوب گالیاں دیتے ہیں، مگر جن شیعوں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کیا، ران کاٹی، مال و اسباب لوٹا، ان کی مذمت میں مجلسِ عزا قائم نہیں کرتے؟
7:  سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس سبائی ٹولے کا سلوک شہرہ آفاق ہے دہرانے کی حاجت نہیں۔
8: قتلِ حسینؓ کے بعد یہ لوگ نادم اور تائب ہوئے تاریخ میں ان کا لقب توابین مشہور ہے، قاضی نور اللہ شوستری لکھتا ہے (قاتلانِ حسین) شیعہ ایک مدت کے بعد بیدار ہوئے، افسوس کیا، اپنے اوپر لعنت کی کہ دنیا و آخرت کا گھاٹا ہمارے نصیب ہوا، کیونکہ ہم نے حسین کو بلایا پھر ان پر ہم نے تلوار کھینچی اور ہماری بے وفائی سے ہوا جو کچھ ہوا۔ 
اس جماعت کے سردار پانچ اشخاص تھے، سلیمان بن صرد خزاعی، مسیب بن نخبہ فزاری، عبداللہ بن سعد ازدی، عبداللہ بن دال تمیمی، رفاعہ بن شداد اور یہ پانچوں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خاص اور معروف شیعہ تھے۔(مجالس المؤمنین: صفحہ243، جلد 2)
9: ان توابین نے پھر جو ظلم و بربریت پھیلائی اور عامۃ الناس کا قتلِ عام کیا، ایک طویل بحث اسی مجالس المؤمنین میں موجود ہے۔
10: چند سالوں کے بعد انتقامِ حسین کے بہانے بد ترین ظالم مختار بن عبید ثقفی اٹھا، 70 ہزار مسلمانوں کا قتلِ عام کر کے کوفہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، شرح دیوان مرتضوی میں حسن عسکری کی روایت سے مقتولین کی تعداد 80301 ہے (مجالس المؤمنین: صفحہ251، جلد 2) آج بھی شیعہ اسے ناصر آلِ حسین کہ کر قومی ہیرو مانتے ہیں، حالانکہ یہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو گرفتار کر کے دشمنوں کے سپرد کرنا چاہتا تھا لیکن چچا نے اسے ڈانٹ دیا، سیدنا حسینؓ کے ساتھ غداری کی، پھر نبّوت کا دعوے دار ہوا، محمد بن الحنیفہ کو اپنا امام بتایا (حالانکہ مذہب شیعہ میں غیر امام کو امام کہنا بڑا کفر اور شرک ہے) ان کے نام سے دولت جمع کی سیدنا زین العابدینؒ اور محمد باقرؒ نے اس پر پھٹکار کی اور اسے بے دین بتایا (سب حوالہ جات "ہم سنّی کیوں ہیں" میں دیکھیے) لیکن شیعہ کو ہر سفاک سے پیار ہے خواہ وہ بد عقیدہ اور ملعون ہو یہ فتنہ سیدنا مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ختم کیا تھا۔
11: حضرت زید شہید بن علی زین العابدین رحمۃ اللہ جو فاضل سادات میں سے تھے، ظالم حکام کے خلاف اٹھے 40 ہزار کا لشکر تیار کیا، عین موقع پر ان کوفی شیعوں نے غداری کی اور کہا کہ تب ساتھ دیں گے جب سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما پر تبراء کرو گے حضرت زید رحمۃ اللہ نے فرمایا وہ تو میرے بزرگ آباء تھے میں ان پر کیسے تبراء کروں؟ وہ سب ساتھ چھوڑ گئے حضرت زید نے فرمایا! یٰقَوُمِ رفضتمونی "اے میری قوم تم نے میری بیعت کر کے مجھے چھوڑ دیا۔" اسی وجہ سے شیعوں کا لقب رافضی مشہور ہوا۔(مجالس المؤمنین: صفحہ256، جلد 2)حضرت زیدؒ چند افراد کے ساتھ تنہا لڑے اور شہید ہو گئے، اثناء عشری اور جعفری شیعوں کو آج بھی حضرت زیدؒ سے نفرت اور دشمنی ہے اور مختار سفاک سے محبت ہے، بے دینوں کا ساتھ دے کر قتلِ عام کرتے ہیں اور اہلِ بیتؒ کو بے یارو مددگار چھوڑ کر قتل کراتے ہیں اور خود صحابہ کرامؓ کے تبراء میں لعنتی بن جاتے ہیں، اس لیے یہ کہنا بالکل برحق ہے کہ شیعہ اسلام اور اہلِ بیتؓ کے غدار دشمن ہیں، مختار او خمینی جیسے ظالموں کے طرف دار ہیں۔ 
12: بنو امیّہ کے خلاف جو ایرانیوں نے بنو عباس کے ساتھ مل کر تحریک چلائی اور پھر خونی انقلاب آیا لاکھوں مسلمان تَہ تیغ ہوئے اور بعض عباسی بادشاہوں کا لقب بھی سفاح "بہت خون ریز" پڑ گیا، ان سب کا مشیر و وزیر اور درپردہ قاتل ابو مسلم خراسانی تھا جو کٹر شیعہ تھا اور بنو عباس سے اسی نے سب ظلم کرائے، شیعہ آج بھی اس سے محبت کرتے ہیں، شوستری نے اسے سلاطین کی فہرست میں شمار کیا ہے۔ 
صفحہ 3 از 13