مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف

  مولانا مہر محمد

صفحہ 2 از 13
مؤرخین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ جب سیدنا علی المرتضٰیؓ کے علم میں کسی طرح یہ بات آئی کہ ان کے لشکر کے کچھ لوگ ان کے بارے میں اس طرح کی باتیں چلا رہے ہیں تو آپ نے ان شیاطین کو قتل کروانے اور لوگوں کی عبرت کے لیے آگ میں ڈلوانے کا ارادہ فرمایا لیکن اپنے چچا زاد بھائی اور خاص رفیق سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور ان جیسے اور لوگوں کے مشورہ پر اس وقت کے خاص حالات میں اس کارروائی کو دوسرے مناسب وقت کے لیے ملتوی کر دیا۔
(صحیح بات یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان مشرک سبائیوں کو آگ میں جلا دیا تھا۔ جیسے بخاری میں اور علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ کی کتاب "منہاج السنہ میں صراحت ہے۔ شیعہ کی رجال کشی میں سیدنا جعفر صادق رحمۃاللہ نے 70 آدمیوں کے جلانے کا ذکر فرمایا ہے۔ اور وہ کہتے تھے”کہ اے علی تیرے رب ہونے کا ہمیں یقین ہو گیا کہ آگ کا عذاب خدا کے سوا کوئی نہیں دیتا “خود ابنِ سباء مردود کو سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے مشورے سے جلایا نہیں، ورنہ سبائی لشکر آپ سے بغاوت کر دیتا۔ اسے بدعا دے کر جنگل میں ہانک دیا وہ بنی اسرائیل کے سامری کی طرح لا مساس۔ مجھے ہاتھ نا لگاؤ کہہ کر پاگل ہو گیا اور درندوں کا لقمہ بن گیا۔ لعنت اللہ علیہ وعلی شیعتہ واتباعہ اجمعین)
بہرحال جمل و صفین کی جنگوں میں عبداللہ ابن سباء اور اس کے چیلوں کو اس وقت کی خاص فضاء سے فائدہ اٹھا کر سیدنا علیؓ کے لشکر میں ان کے بارے میں غلو کی گمراہی پھیلانے کا پورا پورا موقع ملا اور اس کے بعد جب آپ نےعراق کے علاقہ میں کوفہ کو اپنا دارالحکومت بنا لیا تو یہ علاقہ اس گروہ کی سرگرمیوں کا خاص مرکز بن گیا اور چونکہ مختلف اسباب اور وجوہ کی بنا پر جن کو مؤرخین نے بیان کیا ہے اس علاقہ کے لوگوں میں ایسے غالیانہ اور گمراہانہ افکار و نظریات کے قبول کرنے کی زیادہ صلاحیت تھی اسی لیے یہاں اس گروہ کو اپنے مشن میں کامیابی ہوئی۔ (گویا یہ علاقہ شیعیت کا گڑھا بن گیا) (ایرانی انقلاب: صفحہ 108 ،109) 
گویا ابنِ سباء ختم ہو گیا لیکن حُب اہلِ بیتؓ کی آڑ میں اس کا سبائی گروہ اور کفریہ نظریات چلتے رہے۔ خارجی اور شیعہ کے نام سے دو گروہ بن گئے اور اسلام اور مسلمانوں کو زبردست نقصان پہنچایا۔ ان کا اصل مذہب تو سیاست اور امتِ مسلمہ کو تباہ کرنا تھا جسے ہم عنقریب بیان کریں گے۔ لیکن ایک روپ مذہب کا بھی دھارا اور عقائد، اعمال، اخلاقیات، میں افراط و غلو اختیار کیا۔ اصول اور فروعِ دین میں تشکیک پیدا کرنے کے لیے فضول مباحث اور کلامی مجادلات کا دروازہ کھول دیا اسی اختلاف و شقاق سے وہ اپنے مذہبی وجود کا بھرم باقی رکھے ہوئے ہیں۔
مشہور تبرائی عبدالکریم مشتاق کا یہ رسالہ "فروعِ دین" ”میں نے سنی مذہب کیوں چھوڑا، مع مذہبِ سنیہ پر ہزار سوال“ اسی کفریہ پالیسی کا مظہر ہے جس کا تحقیقی الزامی تشیع کش کامیاب جواب ہم نے اپنی اس کتاب میں دے دیا ہے۔ 
ہم مناسب جانتے ہیں کہ اس گروہ کا سیاسی چہرہ بھی بے نقاب کر دیا جائے اور سادہ لوح مسلمانوں کو ان کے شر سے حتیٰ الامکان بچایا جائے۔ 
فخر الاسلام میں علامہ احمد امین مصری نے لکھا ہے کہ: پہلی اور دوسری صدی میں جو شخص یا گروہ اسلام پر حملہ آور ہوتا وہ اہلِ تشیع کے کیمپ میں آ جاتا اور تقیہ و حُبّ اہلِ بیتؓ کی آڑ میں اسلام کی جڑوں کو کاٹتا۔ 
اسی کی تائید پروفیسر محمد منور نے کی ہے:
(اقتباس: 23 باب ملاحظہ فرما لیں صفحہ 20)
شیخ الاسلام امام ابنِ تیمیہؒ نے "منہاج السنہ" میں لکھا ہے کہ "شیعہ روزِ اول سے مسلمانوں کے دشمن چلے آ رہے ہیں انہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کے دشمنوں کا ساتھ دے کر اہلِ اسلام سے جنگ لڑی ہے ان کی ساری تاریخ سیاہ اور ظلمتِ ظلم سے تموُر ہے"
نیز فرماتے ہیں شیعہ نقلی دلائل پیش کرنے میں اکذب الناس ہیں اور عقلی دلائل کے ذکر و بیان میں اجہل الناس یہی وجہ ہے کہ علماء انہیں اجہل الطوائف کہتے چلے آئے ہیں۔ ان کے ہاتھوں اسلام کو پہنچنے والے نقصان کا علم صرف رب العالمین کو ہے۔ اسماعیلیہ، باطنیہ اور نصیریہ ایسے گمراہ فرقے اسلام میں شیعہ کے دروازے سے داخل ہوئے۔ کفار و مرتدین بھی شیعہ کی راہ پر گامزن ہو کر اسلامی دیار و بلاد پر چھا گئے۔ مسلم خواتین کی آبرو ریزی کی اور ناحق خون بہایا، شیعہ خبثِ باطن اور ہوائے نفس میں یہود سے ملتے جلتے اور غلو و جہل میں نصاریٰ کے ہم نوا ہیں۔
( المنتقیٰ من المنہاج اردو: صفحہ 28) 
اس کی کی تازہ مثال پاکستان میں شریعت بل 1986ء کی مخالفت ہے۔ آل شیعہ پارٹیز فیڈریشن نے 6 اپریل اور 19 اپریل کے اخبارات جنگ وغیرہ میں پریس کانفرنس شائع کروائی ہے۔ اگر شریعت بل نافذ کیا گیا تو شیعہ اس کی بھرپور مزاحمت کریں گے۔ قربانی دیں گے اور اسلام کے شیدائی سوشلزم اپنانے پر مجبور ہوں گے۔ یعنی قرآن و سنت اجماعِ اُمت اور قانونِ شرع پر مبنی مسلمانوں کا اپنا اسلامی نظام اپنانا ہرگز گوارا نہیں ہے۔ اس کے آنے پر مر مٹنا منظور ہے مگر تائید نہیں کریں گے۔ سوشلزم کا ،خدا اور مذہب کے انکار پر مبنی نظام قبول ہے۔ ایں چہ بوالعجبیت؟ انگریز کے قانون میں ایک صدی عیش و عشرت سے بسر کی نہ اس کے خلاف آواز اٹھائی نہ فقہ جعفریہ کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ جب 35 سال بعد پاکستان میں صدر محمد ضیاء الحق نے نفاذِ اسلام کی بات کی تو کھلے مخالف ہو گئے۔ اسلام آباد کا گھیراؤ کیا فقہ جعفریہ کا مطالبہ لے آئے عشر و زکوٰۃ کا انکار کیا، حدودِ شرعیہ سے خود کو مستثنیٰ (الگ، علیحدہ، خاص) کرا لیا۔ اب نفاذِ شریعت سے خائف ہیں؟ اور مسلم کش روسی نظام سوشلزم اور کمیونزم سے معانقہ کر رہے ہیں۔ کوئی کیسے باور کرے کہ یہ مسلمان ہیں؟ تو کیسے مسلمان ہیں؟

شیعہ کی سیاسی تاریخ

شیعہ کی اسلام سے غداری، مسلم کشی اور کفار سے دوستی اور موالات کو ملاحظہ فرمائیں:
1: ابو لؤلؤ مجوسی ایرانی نے شہزادہ ہرمزان کی سازش سے مرادِ نبوت، فاتحِ اسلام، خسرِ رسول اللہﷺ اور دامادِ علی رضی اللہ عنہ ،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا شیعہ اس دن عید مناتے ہیں اور سیدنا عمر فاروقؓ کے قاتل فیروز مجوسی کو بابا شجاع کہہ کر فیروزہ نامی انگوٹھی کو متبرک جانتے ہیں۔        
صفحہ 2 از 13