مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف

  مولانا مہر محمد

صفحہ 13 از 13
  1. اسرائیلی وزیر اعظم نے اعتراف کیا کہ اسرائیل نے عرب دشمنی کی بناء پر ایران کو اسلحہ فراہم کرنے کا سمجھوتہ کیا ہے مگر اسرائیلی قانون انہیں اس سمجھوتے کی تفصیلات ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دیتا اسی لیے وہ کسی خبر کی تردید یا تائید کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
  2.  ایران کے سابق صدر نے کہا کہ انہوں نے حکومت ایران کو اس معاہدہ سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ ایران کو اسرائیل اس قسم کے معاہدہ کرنے کے بجائے عربوں سے تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے لیکن خمینی نے انکی بات نہ مانی اور انکے حکم پر حکومت ایران نے اسرائیل سے معاہدہ کرلیا۔ 
  3.  اکیس اکتوبر 1980ء کو پیرس کے ایک جزیرے کے نزدیک نے اپنے نمائندۂ خصوصی مقیمِ تہران کا جو مکتوب شائع کیا اس میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ اسرائیل کے سِوِل اور فوجی ماہرین کا ایک وفد تین دن کے دورے پر تہران آیا، اس وفد کا مقصد ایران کی دفاعی ضروریات کا اندازہ لگانا تھا تاکہ ایران کو اسکی ضرورت کے مطابق امریکی اور اسرائیلی ساخت کے پرزے اور دوسرا سامانِ جنگ فراہم کیا جاسکے ۔ 
  4.  نومبر کو برطانیہ کے اخبار آبزرور میں تہران کے مکتوب نگار نے لکھا ہے کہ عراق سے جنگ کیلیے اسرائیل نے ایران کی بندر گاہوں کے ذریعے بھاری مقدار میں اسلحہ فراہم کیا ہے۔
  5. تین نومبر مغربی جرمنی کے اخبار ڈائی ولٹ میں جو تفصیلی خبر شائع ہوئی اسکے آخر میں یہ ہے کہ اسرائیل نے یہ سامان بحری راستے سے ایران کو پہنچایا، نیز اسرائیل ایران کو سامانِ جنگ مہیاء کرنے کا یہ سلسلہ جاری رکھے گا۔ 
  6.  ایران اسرائیلی معاہدے کی خبر جب دنیا بھر میں پھیل گئی تو 21 جولائی 1981 کو اسرائیل کے رسالہ معارف نے لکھا کہ ایرانی حکومت نے اسرائیل سے براہِ راست اور مختلف ایجنسیوں کی وساطت سے مختلف النوع اسلحہ فراہم کرنے کی درخواست کی ہے، اور بڑی مقدار میں فاضل پرزے بھی منگوائے ہیں (بحوالہ آتش کدہ ایران: صفحہ98٫99 از اختر کاشمیری)
حقیقت یہ ہے کہ انقلاب پر صرف اسلام کا نام اور لیبل ہے ورنہ آغاز و انجام میں کہیں اسلام پر عمل نہیں، ڈاکٹر موسیٰ اصفہانی نے کیا خوب تبصرہ فرمایا ہے:
"صلی وصام لامر کان یطلبہ، لما قضی الامر ماصلی ولا صاما"
حصولِ مطلب تک تو نماز روزے کی پابندی کی اور مطلب پورا ہو چکنے کے بعد سب کچھ فراموش کر دیا۔
13: ایرانی انقلاب امریکہ کے خلاف روس کی ایماء (اشارے) پر ہوا حقائق ملاحظہ ہوں:
  1.  انقلاب ایران کا انداز نظم طریق ضبط، طرزِ رفتار کمیونسٹ انقلاب کے مشابہ ہے، خمینی کے اقوال کی تشہیر، تصویروں کا پھیلاؤ، مخالف قوتوں کا گھیراؤ، کتابوں اور کیسٹوں کی بھرمار اور خود خمینی کا سیاہ و سفید کا مالک ہونا، کمیونسٹ انقلاب کی علامت ہے یہ منصوبہ بندی کمیونسٹ دماغ کی ہے اور وہی یہ گاڑی چلا رہا ہے۔  
  2.  انقلابی حکومت نے روس نواز پارٹی سے اتحاد کر رکھا ہے یہ مخلوط حکومت روس سے خفیہ رشتہ کی علامت ہے۔
  3.  شاہ کے خلاف عوامی تحریک زوروں پر تھی اور انقلاب ایران کے دروازے پر آچکا تھا اس وقت روسی افواج ایران کی رگ حیات سے زیادہ قریب تھیں، چناچہ تاشقند کے ایک مبصر مسٹر والیم اے شمٹ اپنی کتاب "یہودی جنگ سے پہلے" میں لکھتے ہیں ایران میں جب شاہ کے خلاف عوامی تحریک شروع ہوئی تو روس نے ایران سے ملنے والے مسلم علاقوں میں اتنی فوج جمع کر رکھی تھی کہ ان مسلم علاقوں میں مارشل لاء کے نفاذ کا گمان ہوتا تھا۔
  4. حسنین ہیکل کے بقول جب شاہ نے روسی سفیر سے پوچھا تم میرے لیے کیا کر سکتے ہو؟ سفیر نے کوئی جواب نہ دیا، شاہ رات کی تاریکی میں ملک چھوڑ گیا جب خمینی ایران میں داخل ہوا تو استقبالیہ ہجوم میں، لینن اور ٹراٹسکی کی کتابیں مارکسی تعلیمات کی گائیڈ بکس اور کمیونسٹ لیڈروں کی رنگا رنگ تصویریں تقسیم ہوئیں، خیمنی نے اس سرخا شاہی استقبال کے متعلق ایک لفظ بھی نہ کہا ہاں جب خیمنی نے ایران کا انتظام سنبھال لیا 19 نومبر 1979ء کو جناب برژنیف کا یہ انتباہ نشر ہوا "اگر امریکہ نے ایران میں کوئی مداخلت کی تو روس اس کاروائی کو اپنی سلامتی کے خلاف سمجھے گا"
افغانستان میں روسی فوج کا بڑا حصہ آج بھی ایرانی سرحد پر موجود ہے یہ خاموش رابطے فوجوں کا اجتماع خیمنی کا استقبال تو وہ پارٹی سے سیاسی اختلاط، ایران کے خلاف کاروائی کو روس کا اپنے خلاف سمجھنا۔  
 " کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے"
قارئین کرام ! تاریخ شیعہ ہماری اس کتاب کا موضوع نہ تھا لیکن موجودہ حالات میں اپنی قوم و ملک کے تحفظ کے لیے اس فرقہ کی قدیم و جدید تاریخ مرتب کی ہے ان لوگوں نے ہمیشہ غیر مسلم کیمپ سے، مسلم کیمپ پر حملے کیے ہیں یا جاسوسی کی ہے، براہِ کرم ایم-آر-ڈی یا پی-پی-پی کے رہنماؤں اور حکمرانوں کو واضح کر دیں کہ ان لوگوں کا تحفظ ضرور کریں لیکن ان پر اعتماد کر کے سیاست اور کلیدی آسامیاں ان کے حوالے نہ کریں نہ ان کے پروپگینڈے اور مطالبات، ایجی ٹیشن سے متاثر ہوں، نہ ایرانی انقلاب کو پسند کریں، سوائے اس کے کہ شیعوں کو وہی حقوق پاکستان میں دیں جو ایران میں سنیوں کو دیے ہیں۔

صفحہ 13 از 13