مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف

  مولانا مہر محمد

صفحہ 12 از 13
یجوز التمتع بالزانیۃ علی کراھۃ خصوصاً لو کانت من العواھر المشھورات بالزنا (تحریر الوسیلہ:صحفہ 292، جلد 2)
ترجمہ: بدکار عورت سے متعہ کرنا جائز ہے مگر کراہت کے ساتھ خصوصاََ جبکہ وہ مشہور پیشہ ور طوائف ہو۔اور سیدنا عمرؓ کے متعلق خمینی کہتا ہے، عمر نے متعہ کے حرام ہونے کا جو اعلان فرمایا وہ انکی طرف سے قرآن کی صریح مخالفت اور انکا کافرانہ کردار و عمل تھا معاذاللہ
تبصرہ : سیدنا عمرؓ نے تو قرآن و سنت سے حرمت متعہ والا آرڈیننس جاری فرمایا تھا لیکن کیا کریں، متعہ باز کو شیعہ جب اپنے ائمہ و رسولﷺ کے برابر درجہ دیتے ہیں، تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو گالیاں کیوں نہ دیں، شیعہ کی قدیم مستند تفسیر منہج الصادقین (پ 5 صفحہ176، جلد 1) میں ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا جو ایک مرتبہ متعہ کرے وہ امام حسین کا درجہ پائیگا اور جو شخص چار مرتبہ متعہ کرے وہ میرا درجہ پائے گا معاذاللہ، اور جو پانچ دفعہ کرے یا ہمیشہ کرے تو ؟؟
10) خمینی کو چاہیے تھا کہ وہ انقلاب برپا کرنے کے بعد عالمِ اسلام سے دوستانہ تعلقات بڑھاتے اور اپنے وقار اور حدود انقلاب میں اضافہ کرتے لیکن شدید شیعی تعصب کی بناء پر اپنا جذباتی توازن برقرار نہ رکھ سکے، ہر اسلامی ملک کی کردار کشی اپنے ذرائع ابلاغ سے شروع کر دی، جن جن علماء اور مندوبین کو انقلاب کی سالگرہوں پر بلایا سب کو اپنے اپنے ملک میں بغاوت پھیلانے اور ایرانی انقلاب برپا کرنے کا وعظ کیا، تیل کی آمدنی کا ساتواں حصہ اس غنڈہ گردی اور سازشی کاروائیوں کے لیے وقف کر دیا۔پاکستان کے خلاف خوب زہر اگلا، انڈیا کی حمایت کی، سعودی عرب اور دیگر ممالک عربیہ کے خلاف وہ تیز و تند پروپیگنڈا کیا اور مسلمانوں کو انکے خلاف ابھارا، گویا سب سے بڑے یہودی اور کافر معاذ اللہ یہی ہیں،
عراق میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بغاوت کرائی، نتیجتاً عالمِ اسلام پر جنگ مسلط ہوگئی، پاکستان کے شیعوں کو تھپکی دی کہ ضیاء الحق کی حکومت کا تختہ الٹ کر شیعہ انقلاب برپا کرو، چنانچہ ان وطن فروش بزر جمہر نے 1980ء میں اسلام آباد کا گھیراؤ کر کے اور زکوٰۃ و عشر اور شرعی حدود کا انکار کرکے اسلام اور پاکستان کی خوب رسوائی کی مگر خمینی کے منظورِ نظر بن گئے، اور اب تک ایرانی تیل اور کمک کی بناء پر فقہ جعفریہ کے مطالبات کی آڑ میں بڑے بڑے جلسے جلوس نکال کر، دھمکیوں اور خفیہ کاروائیوں میں مصروف ہیں، غضب یہ ہے کہ 6 مئی 1985ء میں پاکستان کے مرکزی چار شہروں میں شیعی احتجاج کا پروگرام بنا، کوئٹہ میں ایران کی مسلح مداخلت اور اسلحہ سے بھرے ہوئے ٹرکوں کی گرفتاری، طشت ازبام ہوگئی، پولیس پر بے پناہ ظلم ہوا، لا تعداد سر کاٹ کر درختوں پر لٹکائے گئے، فوج آئی سات دن بعد حالات قابو میں آئے، 230 ایرانی غنڈوں کو مقدمہ چلائے بغیر ایرانی حکومت کے حوالے کیا گیا اور مقامی مجرموں کو زندان میں ڈالا گیا، وزیر داخلہ نے سب کچھ بتایا تھا لیکن انتظامیہ نے اس بغاوت کا کچھ نوٹس نہ لیا بلکہ ملوث ہزارہ قبیلے کے ایک اہم فرد کو بلوچستان کا گورنر بنایا گیا، مقدمات داخل دفتر ہوگئے، پولیس کی گردنیں کاٹنے والوں کو سولی کی سزا کیا ملتی وہ تو سرکاری مہمان تھے، اب اپریل 1986ء میں شیعوں کے احتجاج یا دباؤ سے باعزت بری کردیے گئے، انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
11) یہ انقلاب اسلام سوز اور مسلم کش صیہونی انقلاب ہے، ایک عمامہ بردار ایرانی بزرگ فرماتے ہیں ایران کے قائد انقلاب کے کام کو تمام انبیاء کے کام پر ترجیح دینا خدا کے نام کے بعد صرف انکے نام لینے کی تعلیم دینا، اقوال رسول اور اقوال امیر علیہ السلام کی جگہ قائد انقلاب کے اقوال لکھنا، پڑھنا، بولنا، سننا، اور سنانا، کلمۂ اسلام کے دوسرے جز کو مٹا کر پیغمبر اسلام کے نامِ نامی اسم گرامی کی جگہ قائد انقلاب کا نام لینا اور اس طرح ایک نیا کلمہ وضع کرنا (لا الہ الااللہ الامام الخمینی حجۃاللہ) اپنے سوا تمام دنیا کے مسلمانوں کو کافر سمجھنا عالمِ اسلام کے موجودہ نقشےکو بدلنے کیلیے جدو جہد کرنا، کعبۃ اللہ پر قبضہ کیلیے لوگوں کو تیار کرنا اور اس عمل کو جہاد کا نام دینا مسلم سربراہانِ حکومت کو کافر قرار دے کر انکی حکومت کا تختہ الٹنے اور انکی حکومتوں کو ختم کرنے کیلیے قوم کو آمادہ کرنا، مسجدوں میں کیمرے نصب کرنا، تصویریں اتارنا اور اتروانا مسجد میں جوتوں سمیت جانا اور محرابِ مسجد میں تصویریں بنانا یا چسپاں کرنا، مسجدوں میں بیٹھ کر سگریٹ نوشی کرنا، اپنے مخالفوں کو کافر کہہ کر انکی قبریں اکھاڑنا اور لاشوں کو غیر مسلموں کے قبرستانوں میں ڈالنا، اختلاف رائے کا اظہار کرنے والوں کو مقدمہ چلائے بغیر گولی ماردینا، شہریوں کا رزق درباری مولویوں کے ہاتھ میں دے دینا، اشیائے ضرورت کی راشن بندی کر کے عورتوں، بچوں، اور بوڑھوں کو بازاروں میں لانا اور قطاروں میں کھڑا کرنا، زنا جیسی قبیح بیماری کو مذہبی تحفظ دینا، ولدیت کی جگہ اسم مادر کو لازم قرار دینا، کمسن اور معصوم بچوں کو قتل کرنا، جھوٹے الزامات اور تہمتیں تراش کر انسانوں کو زندگی سے محروم کرنا، نمازیوں کی جماعت پر صرف اس لیے گولی چلانا کہ وہ سرکاری مولویوں کی اقتداء میں کیوں نہیں کھڑے ہوئے، آیت اللہ شریعت مدار جیسے امام بر حق کو منافق کہہ کر نظر بند کرنا قائد انقلاب کی تصویر کی پوجا کرنا،(حرمین شریفین میں اس بت کی نمائش کرنا) انکے سامنے انکے نام کا کلمہ پڑھنا، اگر یہ اسلام ہے تو بتاؤ ضد اسلام کیا ہے؟؟ 
یہ اسلامی انقلاب ہے تو بتاؤ صیہونی انقلاب کیا ہوتا ہے؟؟(بروایت اختر کاشمیری از آتش کدہ ایران: صفحہ102٫103)
12) ایران اسرائیل سے اسلحہ لیکر عالم اسلام کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے، چند حوالہ جات ملاحظہ ہوں:
صفحہ 12 از 13