مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف

  مولانا مہر محمد

صفحہ 11 از 13
ڈاکٹر موسیٰ مذکور بدترین انقلاب 190 پر لکھتے ہیں خمینی نے تحریک کے دوران برسرِ اقتدار شاہ کے متعلق کہا خود قتل کرنے والے سے قصاص لیا جاتا ہے قتل کا حکم دینے والے سے نہیں سخت تعجب ہے کہ یہ بات کہنے والا اپنی حکومت کے چار سالوں میں 40 ہزار انسانوں کا قتل کرتا ہے جن میں بوڑھے، نوجوان، عورتیں سبھی ہیں جرم صرف یہ نعرہ ہے حریت زندہ باد استبدادیت مردہ باد، اس نے ہزاروں کردوں، عربوں، بلوچوں اور ترکمانوں کو اس پر قتل کرایا کہ وہ شاہ کے زمانے سے مغصوبہ حقوق چاہتے ہیں۔
5) اختر کاشمیری کے سفرنامہ ایران کے مطابق اپنے کاسہ لیس مذہبی طبقہ کو عوام پر ایسے مسلط کرنا کہ وہ کارڈ کے ذریعے لمبی لائنوں میں لگ کر اشیائے خوردنی حاصل کریں اور کارڈ صرف وفاداری کی سند اور جان بچانے کی ضمانت سمجھا جائے اور غیر موافق محروم رہیں سوشلسٹ نظام کا چربہ ہے۔
6) ایران عراق جنگ کو صرف ضد اور انا کی وجہ سے طول دینا، لاکھوں افراد کو آگ میں جھونکنا، اسلامی امہ کمیٹی، اسلامی ممالک غیر جانبدار ممالک سلامتی کونسل کسی کی بھی بات نہ ماننا اور صلح پر آماده نہ ہونا بلکہ ہر 15 سے 20 دن بعد تازه خونزیر عراق پر حملہ کرنا حالانکہ وہ صلح کی بارہا اپیل کر چکا ہے، سفاکی اور درندگی ہے قرآن کے قطعی خلاف ہے، قرآن کہتا ہے کہ: "صلح بہتر ہے"(سورۃ النساء) "مومن بھائی بھائی ہیں بھائیوں کے درمیان صلح کرا دو" (سورۃ الحجرات) "دشمن صلح چاہے تو تم بھی جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو" (سورۃ الانفال) "کسی قوم سے دشمنی تمہیں بے انصافی پر آمادہ نہ کرے تم عدل کرو یہی تقویٰ کی بات ہے"( سورۃ المائدہ)
7) ایرانی آئین میں مذہب شیعہ کو سرکاری مذہب قرار دینے پر ہمیں اعتراض نہیں لیکن ہم 40 فیصد اہلِ سنت کے بالکل مذہبی حقوق چھین لینا بے انصافی ہے، تہران میں 10 لاکھ سنیوں کو مسجد بنانے کی اجازت تک نہ ہو، شیعہ امام ہی دوسرے صوبوں میں زبردستی امام بن جائے، بلوچستان وغیرہ اکثریتی صوبوں میں اکثر شیعہ ٹیچر مقرر کر کے بچوں کو مذہب سے برگشتہ کیا جائے، سرکاری ملازمتوں میں سنی تھانیدار و کپتان تک نہ ہو، پارلیمنٹ میں ان کا وجود نہ ہونے کے برابر ہو وہ اپنا مذہبی لٹریچر نہ خود چھاپ سکیں نہ پاکستان و ممالک عربیہ سے منگوا سکیں، خلفا راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مدح اور مذہبی تبلیغ میں آزاد نہ ہوں یہ اسلامی حکومت کا کام نہیں۔
8) جو سنی مسلمان اپنے مذہبی حقوق کی بحالی کے لیے احتجاج کریں ان کو بغاوت کے بہانے کچلا جائے جیسے 20 ہزار کے قریب کردوں کو مارا گیا، ایرانی بلوچستان اور زہدان میں رمضان شریف تک میں بمباری ہوئی، ایران کے ایک عالم دین راقم کو لاہور جولائی 1985ء میں ملے تو بتایا کہ ہمارے جوان یا قتل ہو چکے ہیں یا قید میں ہیں، صرف بوڑھے اور عورتیں گھروں میں ہیں، میں نے کہا پتہ دیجیے میں اپنی تصانیف کاسٹ بھیجوں گا فارسی میں ترجمہ کروا کر اپنے صوبے میں پھیلا دینا، وہ بھرائی آواز میں کہنے لگے ایسا ہرگز نہ کریں، میری شامت آ جائے گی، ہم مذہبی کتاب نہ خود چھاپ سکتے ہیں نہ باہر سے منگوا سکتے ہیں۔
9) یہ خاص شیعہ انقلاب ہے، خمینی کٹر متعصب اور غالی شیعہ عالم ہے، اس نے اپنی کتاب کشف الاسرار میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خصوصاً خلفائے راشدینؓ پر جگہ جگہ زہر اگلا ہے اور ان پر تبراء کر کے مخالفت قرآن کے جعلی اتہامات (الزامات) لگائے ہیں، وہ حوالہ جات نقل کر کے قارئین کو پریشان نہیں کرنا چاہتے مختصر یہ کہ وہ صفوی دور کے انتہائی بد زبان مصنف ملا باقر مجلسی کے مقلد ہے اس کی تبراء صحابہؓ پر مشتمل کتابوں کو پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں جن کے فحش حوالے راقم نے اپنے رسالہ فقہ جعفریہ اور مسلمان اور تحفہ امامیہ اور عقائد الشیعہ وغیرہ میں دیے ہیں۔ 
خمینی کے ایسے اقوال تسلیم کرنے سے بقول مولانا منظور احمد نعمانی رحمۃ اللہ قرآنی آیات اور متواتر احادیث کی تکذیب ہوتی ہے، رسول پاکﷺ پر نا اہلیت کا الزام آتا ہے، قرآن مجید قابلِ اعتبار نہیں رہتا، اس پر ایمان نا ممکن ہو جاتا ہے سب سے سنگین ترین بات یہ کہ خمینی کی یہ باتیں اسلام اور رسول خدا کی صداقت کو مشتبہ اور مشکوک بنا دیتی ہیں، بلکہ خمینی نے رسول اللہﷺ کی بعثت کی نا کامی کا صاف اعلان کیا ہے۔
امام مہدی کی ولادت کے موقع پر یہ کہا ہے کہ امامِ زمان معاشرتی انصاف کے لیے اس پیغام کے حامل ہوں گے جو تمام دنیا کو بدل دے گا یہ وہ فریضہ ہے جس میں پیغمبرِ اسلام محمدﷺ بھی پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے تھے اگر ہمارے نبی کے لیے جشن مسلمانان عالم کے پُر عظمت ہے تو جشن امامِ زمان تمام انسانیت کے لیے عظیم ہے میں ان کو لیڈر نہیں کہ سکتا کیونکہ وہ اس سے ماورا ہیں میں ان کا اول نہیں کر سکتا کیونکہ ان کا ثانی نہیں ہے(ترجمہ تہران ٹائمز: صفحہ1 مؤرخہ 29 جون 1980ء)حالانکہ یہ کھلا ہوا کفر ہے۔ایک بیان میں یہ کہا کہ میرے جانباز صحابۂ رسول سے زیادہ قربانیاں دیتے ہیں، صحابۂ رسول تو جنگوں میں بھاگ جاتے تھے اور میرے جاں نثار ساتھی ہزاروں کی تعداد میں جانیں قربان کر رہے ہیں۔(معاذ اللہ)
خمینی اپنے ائمہ کو تمام انبیاء و رسل اور ملائکہ مقربین سے افضل بتاتے ہیں
ومن ضروریات مذھبنا ان لائمتنا مقاما لایبلغہ ملک مقرب ولا نبی مرسل (الحکومۃ الاسلامیہ: صفحہ52)
ترجمہ: ہمارے مذہب شیعہ کا یہ بنیادی اور ضروری عقیدہ ہے، کہ ہمارے ائمہ کا درجہ اتنا بڑا ہے کہ اس تک کوئی مقرب فرشتہ اور نبی مرسل(رسول اللہﷺ بھی) نہیں پہنچ سکتا۔
ان تمام باتوں سے شیعہ اور خمینی کا اپنا ایمان و اسلام ثابت نہیں رہتا تو انکا انقلاب اور نظامِ حکومت کیسے اسلامی کہلائے۔ بغیر ولی اور گواہوں کے مقررہ وقت کیلیۓ کسی عورت سے جنسی معاہدہ متعہ کہلاتا ہے جو شیعہ مذہب کا سب سے بڑا کار ثواب عمل ہے، لیکن یہ اتنا حیا سوز اور قاتلِ غیرت ہے کہ مذہب شیعہ پر بدنما داغ ہے اسی لیے بعض شیعہ اسے جزو مذہب ماننے سے ہچکچا رہے ہیں (انوار نجف) لیکن خمینی تحریر الوسیلہ میں متعہ کے متعلق چار صفحات سیاہ کرنے کے بعد ایرانیوں کے کردار کو یوں سیاہ کرتا ہے:
صفحہ 11 از 13