مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف

  مولانا مہر محمد

صفحہ 10 از 13
لیکن سنی مسلمانوں کا مقصد صرف اسلامی حکومت کا قیام اور نفاذِ شریعت محمدی تھا، قائد اعظم گو شیعہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے لیکن وہ کٹر مذہبی اور فرقہ پرست نہ تھے سیکولر ذہن رکھتے تھے، مولانا شبیر عثمانیؒ نے ترجمہ قرآن پڑھا کر ان کا ذہن اسلامی بنا دیا تھا پھر وہ برابر مسلمانوں کو تقریروں میں قرآن و سنت اور خلافتِ راشدہ کے نظام کا حوالہ دے کر اپنی طرف کھینچتے تھے، اب علماء اہلِ سنت اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے نفاذِ شریعت کا مطالبہ کرتے ہیں یہ ان کا قانونی حق ہے۔ شیعہ کی مخالفت غیر قانونی اور نظریہ پاکستان کو ختم کرنے والی نا جائز حرکت ہے، وہ شریعت کا قانون نافذ ہونے دیں اور پبلک لاء تمام بین الاقوامی دساتیر کے مطابق اکثریت کی فقہ کو بننے دیں، ہاں اپنے مذہبی حقوق کے تحفظ کی بات ضرور کریں مگر اپنی ساخت اور بھگوڑے انگریز کی نسبت سے نہیں بلکہ خالص قرآن و سنت اور سیدنا علیؒ و جعفر صادقؒ کی تعلیمات کے حوالہ سے ہم علماء اہل سنت دیوبند ضمانت دیتے ہیں کہ شیعوں کو تعلیم اہلِ بیتؓ پر مبنی حقوق یقیناً مل کر رہیں گے۔
27) میں اپنی ملکی بات میں دور چلا گیا مناسب نہیں جانتا کہ پاکستان میں شیعی کردار پر روشنی ڈالوں ورنہ ہر کسی کو پتہ ہے کہ سکندر مرزا رافضی اپنی ایرانی بیوی کی ایماء پر بلوچستان کی داد سخاوت کہاں کر رہا تھا کہ صدر ایوب خان مرحوم نے بروقت ملک سنبھال لیا۔ 1971ء کے انتخابات کے بعد "ادھر ہم اُدھر تم" کا نعرہ لگا کر مشرقی پاکستان کو کس نے الگ کیا؟ پھر مے نوش یحییٰ خاں رافضی نے فوجی ایکشن کے ذریعے لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کرا کر اسے ہمیشہ کے لیے ہم سے الگ کر کے بنگلہ دیش کیسے بنا دیا؟ اور اب زکوٰۃ و عشر کا انکار کر کے نفاذِ اسلام و شریعت بل کی ڈٹ کر مخالفت کون کر رہا ہے؟ روسی کمیونسٹ نظام اپنانے اور خون کی ندیاں بہانے کی دھمکیاں کون دے رہا ہے؟ یہ صرف سبائی فرقہ ہے جو اپنے اس طویل تاریخی سفر میں ہر منزل پر مسلمانوں کا راہزن ثابت ہوا ہے، ہمدرد اور حامی کبھی نہیں رہا، اس لیے ہمیں حالیہ ایرانی شیعی انقلاب اور شدید کشت و خون پر اور اسے دیگر مسلم ممالک میں برآمد کرنے کے عزائم پر کچھ تعجب نہیں، ہلاکو خان اور تیمور کو اپنا ہیرو ماننے والے خمینی پرست مسلمانوں کی یہی خدمت کر سکتے ہیں، کاش ہماری بھولی بھالی بھیڑ چال چلنے والی مسلم قوم کو سمجھ ہوتی۔
ایرانی انقلاب پر ایک نظر:
ایرانی کا انقلابِ تاریخ کا حیران کن واقعہ ہے ایک بوریہ نشین نے ایک شہنشاہ کا تختہ الٹ دیا اس لحاظ سے ایرانی عوام کی جدو جہد اور آیت اللہ خمینی اپنے تاریخ ساز کردار کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ اس پر اہلِ قلم نے مثبت و منفی بہت کچھ لکھا ہے اور جب تک ظلم سے خون کی ندیاں بہتی رہیں گی انکی روشنائی سے یہ داستان کشت و خون مؤرخ لکھتا جائے گا، خمینی ایک قد آور عالم تھا بے دین اور مغرب پرست شاہ ایران کی مخالفت کی وجہ سے 17 سالہ جلا وطنی اور قوم سے بذریعہ کیسٹز پیام اور رابطہ کی وجہ سے اس کی شخصیت اہم سیاسی بن گئی دہلیزِ اقتدار پر لانے کے لیے سنی شیعہ سب ایرانی مسلمانوں نے زبردست قربانی دی بظاہر ان میں مذہب سے لگاؤ پیدا ہوا مغربیت، بے پردگی اور لادینی کا سیلاب تھم گیا اسی وجہ سے دیندار مسلمان اس کی نشریاتی چکا چوند سے مرعوب ہو گیا اور اسلامی انقلاب کے عنوان سے دنیا کے ذرائع ابلاغ نے خوب تشہیر کی حالانکہ یہ خالص شیعی آمرانہ در پرده روسی مسلم کش ظالمانہ انقلاب ہے، ایران جا کر مشاہدہ کرنے والوں کے تاثرات اور عام اخباری بیانات کی روشنی میں مشتے نمونہ ازخر وارے چند نقائص ہم عرض کرتے ہیں:
1) خمینی انتہاء پسند اور جابر ہے اقتدار پا کر اپنے ہم سفروں کو بھی تختہ دار پر لٹکا دیا، بنی صدر جلا وطنی پر مجبور ہوئے، صادق قلب زادہ قتل ہوئے، آیت اللہ شریعت مدار کاظم کو کردار کشی کر کے نظر بند کر دیا وہ سات سال بعد 1986ء قید ہی میں وفات پا گیا عوام الناس کو ان کا جنازہ پڑھنے کی اجازت نہ ملی حالانکہ وہ خمینی سے بڑھ کر شیعہ کا مذہبی راہنما تھا اسی طرح شیعہ خاقانی عہد شاہی کے 14 سالہ قیدی، امام قمی 7 سالہ قیدی، امام زنجانی بھی قید ہیں، حالانکہ یہ شاہ کے خلاف خمینی تحریک کے ہراول دستے تھے مگر اب خمینی کے مقہور و مظلوم ہیں، ذرا سا خمینی سے اختلاف رکھنے والے لا تعداد علماء جیلوں میں قید اور درگور ہو گئے جس سے وہ ڈکٹیٹر بادشاہ ظالم بن چکے ہیں۔
2) سیاسی مخالفت میں فوج کے بڑے بڑے افسروں انتظامیہ کے عہدیداروں کو سینکڑوں کی تعداد میں شاہ نوازی کے الزام میں تہ تیغ کرنا زبردستی قومی و ملکی نقصان سفاکانہ قدم ہے ازروئے معاہدہ سرکاری ملازم وقتی حکومت کے وفادار ہوتے ہیں، انٹرنیشنل قانون یہی ہے، بعد کی انقلابی حکومت سب سرکاری ملازمین کو قتل و غارت کی سزا دے یہ کسی اسلامی جمہوری شخصی حکومتوں کے ہاں بھی جائز نہیں، یہی وجہ ہے کہ ایران کو اس کا زبردست خمیازہ بھگتنا پڑا، اپنے سے ہر لحاظ سے 4/3 حصہ کم عراق سے طویل جنگ میں ایران نہ غالب آ سکا نہ پورے علاقے واپس لے نہ سکا حالانکہ اسرائیل بھی پشت پناہ ہے۔ 
3) سفاکی اور بے رحمی کی یہ بھی انتہاء ہے کہ عورتوں اور بچوں کے جلوسوں پر اندھا دھند فائرنگ سے سینکڑوں ہنس مکھ چہرے لاشوں میں تبدیل کر دیے جائیں خمینی کے قدیم قید و جلا وطنی کے ساتھی ڈاکٹر موسیٰ موسوی اصفہانی الثورة البائسہ: صفحہ182 پر لکھتے ہیں" ان کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ خمینی رحم و کرم سے بہت دور اور شر سے نزدیک ہیں اور قتل و غارت میں انہیں مزہ آتا ہے کہ نو عمر جوانوں کو بھی ان کی تلوار نہیں بخشتی چنانچہ 3 ماہ کے اندر 3 ہزار مسلمان نوجوان مرد و عورت مرگ بر خمینی کہنے کے جرم میں تہ تیغ کیے گئے"
4) تین لاکھ پاسدارانِ انقلاب کو کرفیو آرڈر کی طرح یہ اجازت دینا کہ جو کوئی انقلاب پر ذرا تنقید کرے اسے وہیں ڈھیر کر دو اس طرح سینکڑوں علماء، طلبہ، مزدور، مجاہدین، خلق اور اہلِ سنت مسلمان لاکھوں کی تعداد میں تڑپائے گئے یہ لینن اور ہٹلر کا شیوہ ہے، فاتح مکہ سیدنا حسینؓ کے نانا کی سنت ہر گز نہیں ہے،
صفحہ 10 از 13