سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا علی رضی…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 5 از 5

قارئین کرام ! سیدنا امیرِ معاویہؓ کے بارے میں ہم اہلِ سنت کا یہ عقیدہ نہیں کہ آپ ہر خطاء سے معصوم ہیں ہاں حضورﷺ کے جلیل القدر صحابی مانتے ہیں سیدہ ام حبیبہؓ کا بھائی ہونے کی وجہ سے آپﷺ کا سالا مانتے ہیں مذکورہ پیش گوئی اور دیگر شواہد کی بنا پر ہم انہیں جنتی سمجھتے ہیں سیدنا حسنین کریمینؓ نے ان کی بیعت کر لی تھی اس لیے ہم آپ کو باغی کہنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں ان دونوں نے سیدنا امیرِ معاویہؓ سے وظائف قبول کیے اس لیے ہم سیدنا امیرِ معاویہؓ کو حسنین کا محسن بھی کہتے ہیں اس لیے ان لوگوں سے ہماری گزارش ہے کہ جو ان کے بارے میں باغی اور کافر تک کے الفاظ کی رٹ لگاتے ہیں وہ اپنے رویہ پر نظر ثانی کریں اور اللہ و رسول کے غضب سے بچنے کے لیے اس عقیدہ سے توبہ کریں۔

(بحواللہ شیعہ مذہب تحفہ جعفریہ)

سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کی طرف سے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی بیعت:

قيس بن سعد بن عباده جبرائیل ابن احمد وابو اسحق حمدويه و ابراهيم ابنا نفير قالوا حدثنا محمد بن عبد الحميد العطار الكوفى عن يونس بن يعقوب عن فضل غلام محمد بن راشد قال سمعت ابا عبدالله عليه السلام يقول ان معاويهؓ كتب الى الحسن بن علىؓ صلوات الله عليهما ان اقدم انت والحسينؓ واصحاب على فخرج معهم قيس بن سعد بن عباده الانصاري وقدم الشام فاذن لهم معاويهؓ واعد لهم الخطباء و قال يا حسنؓ قم فبايع فقام فبايع ثم قال للحسين عليه السلام قم فبايع فقام فبايع ثم قال يا قيس قم فبايع فالتفت الى الحسين عليه السلام ينظر ما با مره فقال يا قيس انه اما می یعنی الحسن عليه السلام۔

(1۔ رجال کشی صفحہ 102 مطبوعہ کربلا ذکر قیس بن سعد طبع جدید)۔

(2۔ بحار الانوار جلد 44 صفحہ 61 ذکر مصالحت الحسن طبع جدید ایران)۔

(3۔ بحار الانوار جلد 11 صفحه 134 طبع قدیم)۔

ترجمہ: (محذف اسناد) راوی کہتا ہے کہ میں نے سیدنا جعفر صادقؒ سے یہ فرماتے سنا کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے سیدنا حسنؓ کی طرف رقعہ لکھا کہ آپ خود اور سیدنا حسینؓ و دیگر اصحاب علی کو لے کر میرے ہاں تشریف لائیں ان کے ساتھ قیس بن سعد بن عباده الانصاری بھی تھے جب یہ شام پہنچ تو سیدنا امیرِ معاویہؓ نے انہیں اپنے ہاں اندر آنے کی اجازت دی اور ان کے لیے خطیب مقرر کیے اور کہا اے سیدنا حسنؓ اٹھے اور بیعت کیجئے یہ اٹھے اور بیعت کی پھر سیدنا حسینؓ کو کہا انہوں نے بھی بیعت کرلی ان کے بعد جب قیس بن سعد کو بیعت کرنے کو کہا تو انہوں نے سیدنا حسینؓ کی طرف اس غرض سے دیکھا کہ اس بارے میں امام کی کیا رائے ہے سیدنا حسینؓ نے فرمایا اے قیس سیدنا حسنؓ ہمارے امام ہیں۔

(لہٰذا جو کچھ انہوں نے کیا تم بھی ویسے ہی کرو اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کی بیعت کرو)۔


صفحہ 5 از 5