سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا علی رضی…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 4 از 5

ترجمہ: سیدنا معاویہؓ نے سیدنا عثمان غنیؓ کی طرف رقعہ لکھا کہ ولایت روم شام سے اس قدر نزدیک ہے کہ صبح کے وقت ایک دوسرے پرندوں کی آوازیں اور مرغ کی اذانیں سنائی دیتی ہیں اور اس وقت دریا کا پانی خطرناک موجوں سے خالی ہے اور خطرناک سیلاب کا نام و نشان تک نہیں ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں جزیرہ قبرص کی طرف چڑھائی کر دوں اور ان مقامات کو جو کہ مال و مویشیوں سے بھرے پڑے ہیں ان پر قبضہ کر لوں سیدنا عثمانِ غنیؓ نے اس کے جواب میں لکھا کہ سیدنا عمر بن الخطابؓ نے اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دی کہ مسلمانوں کی کوئی جماعت دریا کا پانی عبور کرے اور مجھے بھی ایسا کرنا اچھا نہیں لگتا اگر تم اس کام کو آسانی سے انجام دیتا اور اپنے لیے موافق سمجھتے ہو اور اس مہم کو سلامت طے کرنے کا یقین رکھتے ہو تو پھر اپنے بال بچوں کو اپنے ساتھ کشتی میں سوار کر لو تا کہ تمہاری کچی عقیدت سامنے آسکے جب سیدنا امیر معاویہؓ نے یہ جواب ملاحظہ کیا تو آپؓ نے قبرص کے فتح کرنے کے لیے پختہ ارادہ کر لیا اور سیدنا عبداللہ بن قیسؓ کو ایک لشکر دے کر فرمایا کہ وہ پہلے کشتی کو پانی میں اتارے اور حکم دیا کہ بقیہ کشتیوں کو ساحل پر اکٹھا کیا جائے اور فوج کو ضروری احکام دیے خود اپنے اہل و عیال کے ہمراہ ساحل پر آئے دو دن وہاں قیام کرنے کے بعد تیسرے دن نماز جمعہ سے فارغ ہو کر کشتی میں سوار ہو گئے ادھر سیدنا عبد اللہ بن قیسؓ جو پہلے ہی دریا میں اتر گیا تھا وہ اپنی کشتی دریا سے ساحل پر لے آیا تاکہ روم کی سرزمین کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ دن بھر مانگ کر گزارہ کرتی ہے اسے چند درہم دیے وہ عورت گاؤں میں گئی اور لوگوں کو خبردار کیا کہ جس آدمی نے دریا کے ساحل پر ڈیرا لگایا ہے یہ ایک لشکر کے ہمراہ عنقریب تم پر حملہ کرنے والا ہے سیدنا عبداللہ بن قیسؓ کو جلدی میں ان لوگوں نے پکڑ کر قتل کر دیا بھاگنے تک کا وقت نہ ملا جب یہ خبر مسلمانوں تک پہنچی سیدنا امیر معاویہؓ نے اس کے متعلق غور و فکر کیا پھر بال بچوں اور تمام سپاہیوں کو بائیس بڑی کشتیوں اور چھوٹی کشتیوں پر سوار کر کے سفر پر روانہ ہو گئے اتفاقاً دورانِ سفر مخالف ہوا چلنا شروع ہوئی دریا میں ہلچل مچی چھوٹی اور بڑی کشتیاں ایک دوسرے سے دور ہو گئیں سیدنا امیرِ معاویہؓ کی بیوی سخت گھبرائی اور کلیا نامی ملاح کو بلا کر کہا اے کلیا کچھ دیر کے لیے کشتی کو ٹھراؤ کیونکہ اب مجھ میں قوت برداشت نہیں رہی کلیا ہنس دیا اور کہنے لگا بی بی دریا کسی کا حکم نہیں مانا کرتا اللہ تعالیٰ کے بغیر کسی کو اس کام کا اختیار و قوت نہیں صبر کرو کیونکہ اس کے بغیر اور کوئی چارہ نہیں مختصر یہ کہ ہوا کچھ دیر بعد ٹھر گئی اور موجوں کو سکون آ گیا مسلمان سلامتی کے ساتھ کشتیوں میں بیٹھ گئے اتنے میں دور سے چند چھوٹی کشتیاں آتی دکھائی دیں ان میں قبرص کے حکمرانوں کی طرف سے قسطنطنیہ کے حاکم کے لیے تحفہ تحائف لدے ہوئے تھے سیدنا امیر معاویہؓ نے حکم دیا کہ ان تمام کشتیوں کو پکڑ لیا جائے ان کشتیوں میں چاند کی صورت والی کنیزیں ریشمی کپڑے اور عمدہ اشیاء موجود تھیں بھاری تعداد میں یہ چیزیں ہاتھ آئیں اس کے بعد مسلمانوں کا یہ لشکر جزیرہ قبرص آیا اور مسلمان بے تحاشا تباہی اور بربادی کا منظر پیش کر رہے تھے اس طرف کے علاقہ جات سے کثیر تعداد میں غلام اور لونڈیاں ان کے ہاتھ آئیں بہت سی قیمتی اشیاء بھی ان کے ہاتھ لگیں ان تمام چیزوں کو دریا کے کنارے پر لا کر کشتیوں میں ڈال دیا جزیرہ قبرص کے حاکم کو اس سے ایسی دہشت ہوئی کہ اسے دفاع اور مقابلہ کرنے کا تصور تک نہ آیا نہ تلوار اٹھائی نہ تیر کمان پر چڑھایا پھر ایک آدمی کو سیدنا امیرِ معاویہؓ کے پاس امن کی بھیک کے لیے بھیجا سیدنا امیرِ معاویہؓ نے اسے قبول کر لیا شرط یہ قرار پائی که جزیره قبرص کا حاکم ہر سال ستر ہزار اور دو سو دینار دیا کرے گا۔

سیدنا امیرِ معاویہؓ نے ان شرائط کو تحریر میں لایا اور واپس لوٹ آئے جب دریا سے باہر کنارے پر اترے تو فرمایا تمام مالِ غنیمت کو اکٹھا کیا جائے سپاہیوں نے اکٹھا کیا اس وقت غلاموں اور لونڈیوں کی سرسری گنتی کی گئی تو دو ہزار سے بھی زائد نکلے ان تمام قیدیوں میں تقریباً سات سو ایسی لڑکیاں تھیں جو ابھی کنواری تھیں سیدنا امیرِ معاویہؓ نے مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ علیحدہ کر دیا اور فتح کی خوشخبری کا خط لکھ کر سیدنا عثمانِ غنیؓ کی خدمت میں ایک آدمی بھیج دیا پانچواں حصہ بھی ان کے ہمراہ سیدنا عثمانؓ کی خدمت میں بھیج دیا اور بقیہ کو مجاہدین میں تقسیم کر دیا۔

محقق عصر مولانا محمد علی کا تبصرہ:

اس طویل حوالہ سے ہم نہیں بلکہ ایک شیعہ مورخ کہہ رہا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ اس بحری لڑائی میں اپنے اہل و عیال سمیت شریک ہوئے تھے اور کشتیوں پر سوار ہو کر دریائے سفر طے کیا اور دشمنوں پر فتح حاصل کی چونکہ اس سفر میں سیدہ ام حرامؓ کا انتقال ہوتا ہے اب ان دونوں کڑیوں کو ملائیں تو بات یوں بنے گی کہ نبی کریمﷺ‎ نے اپنی امت کے ایک لشکر کو جنت کی بشارت دی جو کشتیوں پر سوار ہو کر دشمن سے لڑنے جائے گا اور اس جنتی لشکر میں سیدہ ام حرامؓ نے شریک ہونے کے لیے حضورﷺ‎ سے دعا کرائی جو منظور و قبول ہوئی سیدہ ام حرامؓ بموجب دعائے حضور اور یہ تمنائے جنت کشتی میں سوار ہوئیں اس لشکر میں سیدنا امیرِ معاویہؓ ایک سپہ سالار کی صورت میں موجود تھے لہٰذا نتیجہ یہ نکلا کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ حضورﷺ کی پیش گوئی کے مطابق جنتی ہوئے اس حقیقت کو مد نظر رکھ کر کوئی بد نصیب ہی ایسا ہو گا جو سیدنا امیرِ معاویہؓ کے جنتی ہونے کا اقرار نہ کرے اور پھر اگر اس ضمن میں یہ دیکھا جائے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو جنتی نہ ماننے والا دراصل حضورﷺ کی بات کو ٹھکرا رہا ہے تو ایسے کم بخت کا سرے سے ایمان ہی جاتا رہے گا۔

صفحہ 4 از 5