سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا علی رضی…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 5

 ترجمہ: ضرار بن حمزہ جب سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا سیدنا علی المرتضیٰؓ کی شان میں کچھ کہو کہنے لگا کیا آپ مجھے معاف نہیں کر سکتے فرمایا نہیں کچھ نہ کچھ ضرور کہو اس پر ضرار بولا اللہ تعالیٰ سیدنا علیؓ پر رحم فرمائے وہ ہم میں ایسے تھے کہ جب بھی ہم میں سے کوئی ان کے پاس جاتا وہ اسے قریب بٹھاتے اور اگر کوئی سوال کرتا تو اس کا جواب عطا فرماتے بوقتِ زیارت قرب عطا فرماتے اور ان کے دروازے ہمارے لیے ہر وقت کھلے رہتے کوئی پہرے دار ہمارے اور ان کے درمیان آڑے نہ آتا اور خدا کی قسم ہم باوجود اس کے کہ ان سے بہت قریب ہوتے ہمیں پھر بھی ان کی ہیبت سے گفتگو کرنے کی ہمت نہ پڑتی اور ان کی عظمت کے پیشِ نظر ہمیں گفتگو میں ابتداء کرنے کی جرات نہ ہوتی وہ تبسم فرماتے تو یوں لگتا کہ موتیوں کا ہار نظر آتا ہے یہ سن کر سیدنا امیرِ معاویہؓ نے فرمایا ذرا اور فضائل بیان کرو پھر ضرار بولا اللہ ان پر رحم کرے وہ بہت زیادہ جاگنے والے اور بہت کم سونے والے تھے دن رات میں بکثرت قرآن کریم پڑھتے اللہ کی محبت میں وارفتہ تھے اور اگر بوقتِ شب کوئی انہیں دیکھ پاتا تو اسے اس حالت میں نظر آتے کہ اپنی ریش مبارک ہاتھ میں پکڑی ہوئی زار و قطار رو رہے ہیں اور وہ کہا کرتے تھے کہ اے دنیا! تو اگر میری طرف آئے یا مجھ سے منہ پھیر لے صد افسوس مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں ہے میں نے تجھے تین طلاقیں دے کر ہمیشہ کے لیے اپنے سے جدا کر دیا پھر فرماتے ہائے افسوس! سفر طویل ہے زادِ راہ قلیل ہے راستہ پُر خطر ہے یہ سن کر سیدنا امیرِ معاویہؓ رو پڑے اور فرمانے لگے اے ضرارا رک جاؤ خدا کی قسم! سیدنا علی المرتضیٰؓ ایسے ہی تھے اللہ تعالیٰ سیدنا ابو الحسنؓ پر رحم فرمائے۔

آنحضرتﷺ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی حکومت کی پیش گوئی فرمائی

 اس سلسلہ میں رسول اللہﷺ کے یہ دعائیہ جملے نا قابلِ فراموش ہیں:

 اللهم عليه الكتاب ومكن له فی البلاد وقه العذاب۔

ترجمہ: "اے اللہ سیدنا معاویہؓ کو کتاب کا علم دے اور شہروں میں حکومت عطا فرما اور اسے عذاب سے بچا"۔ 

(جامع ترمذی)۔

سیدنا امیرِ معاویہؓ آنحضرتﷺ کی پیشن گوئی کی وجہ سے جنتی ہیں

اسلام کی بحری لڑائیوں کے موجد اول کے لیے جنت کی خوشخبری کا شیعہ کتب میں ذکر

 پہلی بحری لڑائی میں سیدنا امیرِ معاویہؓ اپنے خاندان کے ہمراہ بطورِ سپہ سالار شریک ہوئے

شیعہ کی معتبر کتاب " ناسخ التواریخ سے طویل روایت کا انتخاب:

ناسخ التواريخ:

سی و یکم انس بن مالکؓ گوید ام حرام بنت ملحانؓ زوجه عباده بن ثابتؓ خاله رضاعی پیغمبر بود و آں حضرتﷺ در خانه او قیلوله میکرد یک روزانہ بهر مهمانی طعامی بساخت و رسول خدائےﷺ بخورد و بخفت چون بیدار شد نجندید ام حرامؓ سبب خنده پرسید فرمود مرا نمودند که جماعتی از امت من از بہر جنگ کفار در بحر و کشتی چنان باشند که پادشایان بر تخت خویش ام حرامؓ گفت دعا کن تا من از ایشان باشم فرمود تو از ایشانی و دیگر باره نجفت و از خواب انگیخته گشت و بم بخندید و با ام حرام پاسخ نخستین بداد عرض کرد دعا کن من از ایشاں باش فرمود تو از گروه نخستین خوابی بود در حکومت معاویهؓ چون لشکر بجنگ روم می شدام حرام بان لشکر بکشتی در رفت و چون از بحر بكفار آمد پر شتر خویش سوار شد و در راه از شتر بیفتاد و بمرد و هم در آں جا بخاکش سپردند۔

(ناسخ التواریخ جلد پنجم صفحہ 94 در سیرت رسول کریمﷺ مطبوعه تہران طبع جدید)۔

ترجمہ: اکتیسواں معجزہ سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ سیدہ ام حرامؓ حضورﷺ کی رضائی خالہ تھیں اور سیدنا عبادہ بن ثابتؓ کے عقد میں تھیں حضورﷺ سیدہ ام حرامؓ کے گھر میں قیلولہ فرمایا کرتے تھے ایک دن سیدہ ام حرامؓ نے آپﷺ کی مہمانی کے لیے کچھ پکایا حضورﷺ نے وہ تناول فرمایا اور سو گئے جب نیند سے اٹھے تو ہنس دیے سیدہ ام حرامؓ نے پوچھا حضورﷺ ہنسی کس وجہ سے آتی ہے؟ فرمایا مجھے دکھایا گیا کہ میری امت کی ایک جماعت کفار کے ساتھ جنگ کے لیے دریا و سمندر میں کشتیوں کے اندر ایسے بیٹھی ہوئی ہے جیسا کہ بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوئے ہوں سیدہ ام حرامؓ نے عرض کیا حضورﷺ دعا فرمائیے کہ میں بھی اس جماعت میں ہو جاؤں فرمایا ہاں تو بھی ان میں ہو گی دوبارہ آپ پھر سو گئے جب بیدار ہوئے تو اب بھی ہنس رہے تھے اور سیدہ ام حرامؓ کو پہلے والا جواب دیا انہوں نے عرض کی میرے لیے بھی دعا فرمائیں کہ میں بھی ان میں سے ہو جاؤں فرمایا تو پہلے گروہ کے اندر ہو گی پھر سیدنا امیر معاويهؓ کے دورِِ گورنری میں جب مسلمان لشکر جنگِ روم کے لیے جانے لگا تو سیدہ ام حرامؓ بھی ان کے ساتھ ہولیں اور کشتی میں سوار ہو گئیں جب پانی سے باہر نکلیں تو اپنے اونٹ پر سوار ہوئیں راستہ میں اونٹ سے گر کر انتقال کر گئیں اور وہیں لوگوں نے انہیں دفن کر دیا۔

واقعہ کی مزید تفصیل:

حضورﷺ نے سیدہ ام حرامؓ کے گھر قیلولہ کے دوران جو واقعہ ملاحظہ فرمایا اس میں بخاری شریف کی روایت کے مطابق یہ الفاظ ہیں اول جيش من امتى يغزون البحر قد اوجبوا میری امت کا سب سے پہلا لشکر جو دریائی لڑائی لڑے گا ان کے لیے جنت واجب ہو گئی ہے پھر قد أوجبوا کی تشریح کرتے ہوئے صاحب فتح الباری رقم طراز ہیں:

ای فعلوا فعلا وجبت لهم به الجنه۔

ترجمہ: یعنی ان لوگوں نے ایسا کام کر دکھایا جس کی وجہ سے وہ یقیناً جنت میں چلے گئے۔

صفحہ 2 از 5