سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور خاندان نبوت - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور خاندان نبوت

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 3

مروان کے بعد ام القاسم کا نکاح حسینؓ بن عبداللہ عبید اللہ بن العباس بن عبدالمطلب سے ہوا ان سے کوئی اولاد نہ ہوئی ام القاسم حسین بن عبداللہ کے یہاں فوت ہوئیں۔

(بحوالہ رحماء بینہم صفحہ 58 جلد 3)

آپ نے ملاحظہ کیا کہ سیدنا عثمانؓ کی آنحضرتﷺ سیدنا علیؓ سیدنا حسینؓ سیدنا حسنؓ میں ہر ایک کے ساتھ کس قدر گہری رشتہ داری ہے اس کے بعد یہ بات سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی کہ خلیفہ سوم خاندانی شرافت کے طور پر کس قدر اعلیٰ مقام پر فائز تھے خود سیدنا عثمانؓ خاندانِ بنو اُمیّہ سے تعلق رکھتے تھے لیکن آپ کی سب سے زیادہ رشتے داری بنی ہاشم کے ساتھ تھی خود اور بچوں بچیوں کے ساتھ اس قدر رشتوں کے لین دین کے بعد ناظرین واقف ہو گئے ہوں گے کہ اگر شیعہ نقطہ نظر کے مطابق سیدنا عثمانؓ کو کافر منافق بقول خمینی بدقماش (العياذ باللّٰہ) تسلیم کر لیا جائے تو خود خاندانِ نبوت سے محبت کے دعوؤں میں وہ کس کھاتے میں شمار ہونگے کیا کافر یا العیاذ باللہ منافق انسان کو اللہ کا رسولﷺ اپنی یکے بعد دیگرے دو بیٹیاں دے سکتا ہے جبکہ قرآن میں واضح طور پر کافروں کو لڑکیاں دینے کی ممانعت آ چکی تھی۔

ولا تنكحوا المشركين حتىٰ يؤمنوا۔

کافروں کے ساتھ نہ نکاح کرو جب تک وہ مومن نہ بن جائیں۔

سیدنا عثمانؓ کا خاندانِ نبوت میں نکاح ہی ان کے ایمان کی قوی دلیل ہے حالانکہ قرآن و حدیث کے بیشتر مقامات بھی اس پر شاہد عدل ہے۔

سیدنا عثمانؓ کے بارے میں سیدنا علیؓ اور ائمہ اہلِ بیتؓ کی تعلیمات

1۔ سیدنا علیؓ کی خلافت کا زمانہ تھا ان کی جماعت کے ایک شخص نے ان سے دریافت کیا کہ اگر لوگ مجھ سے سوال کریں کہ امیر المومنین سیدنا عثمانؓ کے بارے میں آپ کے کیا خیالات ہیں تو میں کیا جواب دوں؟

 سیدنا عثمانؓ کے بارے میں میرا خیال بہت اچھا ہے۔

اخبرهم ان قولى في عثمانؓ احسن القول ان عثمان كان من الدين امنوا وعملوا الصالحات ثم اتقوا وامنوا ثم اتقوا واحسنوا ولله يحب المحسنين۔

ان کو بتا دو کہ سیدنا عثمانؓ کے بارے میں میرا خیال بہت عمدہ ہے یقیناً سیدنا عثمانؓ ان لوگوں میں ہے جن کے حق میں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: 

وہ لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے پھر پرہیزگاری کی اور یقین کیا پھر تقویٰ اختیار کیا اور نیکو کاری کی اللہ نیکو کاری کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

(الاستیعاب جلد 3 صفحہ 76 کنز الاعمال جلد 6 صفحہ 389)۔

2۔ مشہور مفسر اور مؤرخ حافظ عماد الدین ابنِ کثیرؒ البدایہ میں رقم طراز ہیں:

سیدنا عثمانؓ ہم میں بہترین شخص تھے

سیدنا علیؓ نے فرمایا سیدنا عثمان بن عفانؓ ہم میں سے بہترین شخص تھے اور صلہ رحمی کرنے والے تھے اور زیادہ حیا دار اور پاکیزہ تھے اللہ سے بہت زیادہ خوف کرنے والے تھے۔

(البدایہ جلد 2 صفحہ 194)۔

3۔ الاستیعاب اور الاصابہ اور تاریخ الخلفاء میں علامہ سیوطیؒ کا قول ملاحظہ ہو: 

تزل بن سرہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خدمت میں عرض کیا کہ سیدنا عثمان بن عفانؓ کے مقام کے بارے میں بیان فرمائیں تو آپؓ نے فرمایا عثمانؓ وہ شخص ہیں جن کو ملاء اعلیٰ یعنی آسمانوں پر فرشتوں کی جماعت میں ذوالنورین کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے آپؓ آنحضرتﷺ کے داماد ہیں آپﷺ کی دو صاحبزادیاں یکے بعد دیگرے آپؓ کے نکاح میں آئیں۔

(کنز الاعمال جلد 2 صفحہ 379 پر ہے)۔

4۔ سیدنا عثمانؓ کے بارے میں سیدنا علی المرتضیٰؓ سے بعض آدمیوں نے سوال کیا تو آپؓ نے فرمایا وہ بہترین شخص تھے چوتھے آسمان پر آپ کا نام ذوالنورینؓ تحریر کیا گیا۔

ایک مرتبہ پھر رسولﷺ نے فرمایا جو شخص ایک مکان خرید کر مسجد میں اضافہ کر دے گاتو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دیں گے سیدنا عثمانؓ نے وہ مکان خرید کر وقف کر دیا۔

پھر حضورﷺ نے فرمایا جیش العروہ غزوہ تبوک میں لشکر کی تیاری کا سامان جو شخص پیش کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیں گے تو سیدنا عثمانؓ نے پالان کی رسی تک لشکر کا سامان تیار کیا۔

سیدنا علیؓ کا تاریخی اعلان

جو سیدنا عثمانؓ سے بری ہوگا وہ دین اسلام سے بری ہو گا:

 ابنِ عبد اللہؓ نے الاستیعاب میں نقل کیا ہے: 

قال علىؓ من تبرا من دين عثمانؓ فقد تبرا من الايمان

یعنی سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ جس شخص نے سیدنا عثمانؓ کے دین سے تبرا اور بیزاری اختیار کی وہ یقیناً ایمان و دین سے بری ہوگا۔ 

(ایضاً صفحہ 76 جلد 3)

خدا کی قسم میں سیدنا عثمانؓ کے نقشِ قدم پر چل رہا ہوں

 انساب الاشراف میں علامہ بلاذری نے سیدنا علیؓ کا یہ قول نقل کیا ہے:

اللہ کی قسم میں اس نقشِ قدم پر چل رہا ہوں جس پر سیدنا عثمانؓ آ رہے تھے اللہ کے دین کے معاملے میں خیرات و حسنات میں سبقتیں حاصل ہیں جن کے بعد اللہ ان کو کبھی عذاب نہیں دے گا۔

سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کی روایت میں سیدنا عثمانؓ کی فضیلت

عہدِ صدیقیؓ میں مدینہ منورہ میں قحط رونما ہوا بارش نہ ہوئی لوگ مجتمع ہو کر سیدنا ابوبکرؓ کی خدمت میں آئے اور بارش کی دعا چاہی آپ نے فرمایا شام تک خدا کوئی صورت پیدا کر دے گا تھوڑی دیر کے بعد ملک شام میں سے غلہ سے لدا ہوا 100 اونٹوں پر مشتمل قافلہ مدینہ منورہ پہنچا تحقیق پر معلوم ہوا یہ سارا قافلہ سیدنا عثمانؓ کا ہے آپؓ نے اگلے ہی روز سارا غلہ فقراء مسلمانوں پر صدقہ کر دیا۔ 

سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں میں اسی رات خواب میں رسول اللہﷺ کی زیارت سے مشرف ہوا آپﷺ ایک عمدہ ترکی گھوڑے پر سوار ہیں نورانی لباس زیب تن ہے جلدی تشریف لے جانے کی سعی فرما رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! مجھے آپ کے دیدار کا بہت شوق تھا گفتگو کرنے کی تمنا بھی کہاں عجلت فرما رہے ہیں آپ نے فرمایا اے سیدنا ابنِ عباسؓ! سیدنا عثمان بن عفانؓ نے خدا کے راستے میں اتنی بڑی خیرات کی ہے کہ اللہ نے اس کو قبولیت بخشی ہے اس سلسلے میں میں جنت اجتماع خوشنودی ہو رہا ہے مجھے شمولیت کے لیے بلایا گیا ہے۔

سیدنا عثمانؓ کے بارے میں سیدنا حسنؓ کا بیان

طوالت کی وجہ سے پورا واقعہ چھوڑ کر آخری پیرا گراف نقل کیا جاتا ہے سیدنا حسنؓ فرماتے ہیں: 

صفحہ 2 از 3