سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور خاندان نبوت - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور خاندان نبوت

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 1 از 3

سیدنا عثمانؓ اور خاندانِ نبوت

سیدنا عثمانؓ آنحضرتﷺ اور سیدنا علیؓ کے قریبی رشتہ دار تھے آپؓ ددھیال ننھیال ازواج و اولاد میں ہر طرف سے خاندانِ نبوت کے قرابت دار تھے آپؓ کے بارے میں ایک طرف آنحضرتﷺ کی بے شمار احادیث ہیں تو دوسری طرف آپؓ سیدنا علیؓ سیدنا حسینؓ سیدنا حسنؓ کے والہانہ پیار و محبت کےبندھن میں بندھے ہوئے تھے سیدنا عثمانِ غنیؓ کی آنحضرتﷺ سے لے کر خاندانِ نبوت کے تمام افراد کے ساتھ علیحدہ علیحدہ رشتہ داری اور باہمی یگانگت و صلہ رحمی مسلمہ حقیقت کے طور پر تاریخ کے قرطاس پر زیب عنوان ہے جس طرح اس دور میں رشتوں کا لین دین باہمی محبت کی علامت ہے اس طرح عہد اولیٰ میں بھی ان رشتوں و حقیقی قربت کا درجہ حاصل تھا۔

آنحضرتﷺ اور سیدنا علیؓ کے ساتھ سیدنا عثمانؓ کی رشتہ داری

شیعہ مورخ شارح نہج البلاغہ ابنِ ابی الحدید نے بنی امیہ اور بنی عباس یعنی عبد شمس اور بنی ہاشم کے چھ عدد رشتے نقل کیے ہیں ـ

1ـ سیدنا عثمانِ غنیؓ کی والدہ ارویٰ بنتِ کریز ہیں جو آنحضرتﷺ کی حقیقی پھوپھی سیدہ ام حکیمؓ بنتِ عبدالمطلب کی صاحب زادی ہیں سیدنا عثمانؓ آنحضرتﷺ اور سیدنا علیؓ کی پھوپھی زاد بہن کے صاحبزادے ہیں۔

(طبقات بن سعد جلد 8 صفحہ 122 وانساب الاشراف جلد 5 صفحہ 1)

سیدنا عثمانؓ کی نانی سیدہ ام حکیمؓ آنحضرتﷺ اور سیدنا علیؓ کی پھوپھی ہیں یہ آنحضرتﷺ کے والد سیدنا عبداللہ یعنی سیدنا علیؓ کے چچا کے ساتھ جڑواں پیدا ہوئی تھیں۔

اس رشتے کو شیعہ عالم شیخ عباس قمی نے بھی "منتہی المال"جلداول میں نقل کیا ہے۔

2۔ سیدنا علیؓ کے والد سیدنا حسینؓ و سیدنا حسنؓ کے دادا ابو طالب سیدنا عثمانؓ کی والدہ کی ماں کے ماموں ہیں اور سیدنا عثمانؓ کی والدہ ان کی بھانجی ہیں ـ

3۔ سیدنا علیؓ سیدنا عثمانِ غنیؓ کی والدہ کے ماموں زاد بھائی ہیں اسی طرح سیدنا عقیلؓ سیدنا جعفر طیارؓ بھی سیدنا عثمانؓ کی والدہ کے ماموں زاد بھائی ہیں۔

4۔ سیدنا عثمانؓ سیدنا حمزہؓ اور سیدنا عباسؓ کی بھانجی کے بیٹے ہیں۔

5ـ حضورﷺ کی دو صاحب زادیاں سیدہ رقیہؓ اور سیدہ اُمّ کلثومؓ یکے بعد دیگر سیدنا عثمانؓ کے نکاح میں آئیں جس کی وجہ سے آپؓ کو ذوالنورین کہا جاتا ہے۔

6۔ سیدہ رقیہؓ سے سیدہ عثمانؓ کا لڑکا سیدنا عبداللہ پیدا ہوا چھ سال کی عمر میں فوت ہوا اصح قول یہ ہے اسی سے سیدنا عثمانؓ کی کنیت ابو عبداللہ مشہور ہوئی۔ (بحوالہ رحماءُ بینہم جلد 3)

سیدہ رقیہؓ سیدہ اُمّ کلثومؓ کے ساتھ سیدنا عثمانؓ کے فضائل

جب سیدنا عثمانؓ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو سیدہ رقیہؓ نے بھی ساتھ ہجرت کی جنگِ بدر کے موقع پر سیدہ رقیہؓ بیمار تھیں اس لیے آپﷺ نے سیدنا عثمانؓ کو ان کے پاس رہنے اور بیماری میں خبرگیری کی ہدایت فرمائی

آنحضرتﷺ بدر ہی میں تھے کہ سیدہ رقیہؓ فوت ہو گئیں آپﷺ جب مدینہ پہنچے تو لوگ سیدہ رقیہؓ کی قبر پرمٹی ڈال رہے تھےـ

(طبقات بن سعد صفحہ 26 جلد8)۔

سیدہ رقیہؓ کی وجہ سے سیدنا عثمانؓ جنگِ بدر میں شامل نہ ہو سکے تاہم آنحضرتﷺ نے بدر کے شرکاء میں آپؓ کو بھی شامل کیا آپﷺ نے غنائم میں بھی آپؓ کو حصہ عطا فرمایا سیدنا عثمانؓ نے عرض کیا: اجر و ثواب کا کیا ہوا؟ آپﷺ نے فرمایا: اجر و ثواب بھی شامل ہے۔

(رحماءُ بينہم جلد 4 صفحہ 40)

سیدنا عثمانؓ کا بدر میں پیچھے رہ جانا چونکہ آنحضرتﷺ کے فرمان کی وجہ سے تھا اس لیے اس سے اسلام کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں پائی گئی یہاں شیعہ کا اعتراض بے بنیاد ہے ورنہ جنگِ تبوک میں سیدنا علیؓ حضورﷺ کے حکم سے شریک نہ ہوئے تو اسے بھی اسلام کے خلاف ورزی قرار دیا جائے۔

(کنز الاعمال جلد 6 تاریخِ کبیر جلد 2)

آنحضرتﷺ نے فرمایا میں نے آسمانی وحی کی بنا پر ہی اپنی بیٹی سیدہ ام کلثومؓ عثمان بن عفانؓ کے نکاح میں دی۔

سیدہ ام کلثومؓ جب 9ھ میں فوت ہوئیں تو آپؓ کا جنازہ خود آنحضرتﷺ نے پڑھایا اور سیدنا علیؓ (اپنی سالی کے) دفن کے لیے قبر میں اترے سیدنا فضل بن عباسؓ اور سیدنا اسامہ بن زیدؓ بھی آپؓ کے ہمرا تھے انہوں نے پورے احترام کے ساتھ آخر میں آرام گاہ تک پہنچایا۔

سیدہ ام کلثومؓ کا نکاح سیدنا ابان بن عثمانؓ سے ہوا

سیدہ ام کلثومؓ بنتِ عبداللہ بن جعفر پہلے اپنے چچا زاد بھائی سیدنا قاسمؓ بن محمد بن جعفر کے نکاح میں تھی ان کا دوسرا نکاح سیدنا عثمانؓ کے صاحبزادے سے ہوا تھا۔

سیدنا عثمانؓ اور سیدنا حسینؓ کی رشتہ داری

سیدنا حسینؓ بن علی المرتضیؓ کی صاحبزادی سیدہ سکینہؓ بنت حسینؓ سیدنا عثمانؓ کے پوتے زید بن عمرو بن عثمانؓ کے نکاح میں تھیں۔

(طبقات ابن سعد جلد 6 صفحہ 349)۔

کتاب نسب قریش کے مطابق سیدہ سکینہؓ کی پہلی شادی سیدنا مصعب بن زبیرؓ بن عوام سے ہوئی سیدنا مصعبؓ سے انکے ہاں ایک بچی فاطمہ پیدا ہوئی سیدنا مصعبؓ کے انتقال کے بعد سیدہ سکینہؓ کا نکاح عبداللہؓ بن عثمانؓ بن عبداللہ بن حکیم بن حزام سے ہوا سیدنا عبداللہؓ کی وفات کے بعد یہ زید بن عمرو بن عثمانؓ کے نکاح میں آئیں۔

(بحوالہ رحماءُ بینہم صفحہ 55 جلد 3)۔

سیدنا عثمانؓ کے ساتھ سیدنا حسینؓ کی ایک اور رشتہ داری حسب ذیل ہے:

سیدہ فاطمہؓ بنتِ حسینؓ بن علیؓ کے ساتھ ان کے چچا زاد بھائی سیدنا حسنؓ بن حسنؓ مثنیٰ نے نکاح کیا اس سے عبداللہ ابراہیم اور زینب پیدا ہوئے پھر سیدنا حسنؓ بن حسنؒ فوت ہو گئے اسکے بعد انکا نکاح سیدنا عثمانؓ کے پوتے عبداللہ بن عمرو بن عثمانؓ سے ہوا۔

سیدہ فاطمہؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ کے ذریعے نکاح کی اجازت دی عبداللہ بن عمرو بن عثمانؓ سے ایک لڑکی رقیہ اور دو لڑکے قاسم اور محمد دیباج پیدا ہوئے (بڑے خوبصورت تھے) ملاحظہ ہو کے سیدہ فاطمہ بنت حسینؓ کی والدہ کا نام ام اسحاق بنتِ طلحہ بن عبداللہ تھا اس رشتہ کو بھی شیعہ مؤرخ ابو الخراج اصفہانی نے تسلیم کیا ہے۔

(طبقات ابنِِ سعد صفحہ347 جلد 6 معارف بن ابی قتیبہ صفحہ39 بحوالہ رحماء بینہم صفحہ 86 جلد 3)

سیدنا عثمانؓ اور سیدنا حسنؓ کے مابین قرابتداری

کتاب نسب قریش صفحہ 53 پر ہے:

سیدنا حسنؓ کی پوتی ام القاسم بنتِ الحسن کا نکاح سیدنا عثمانؓ کے پوتے مروان بن ابان بن عثمانؓ کے ساتھ ہوا ان سے ایک لڑکا محمد پیدا ہوا۔

صفحہ 1 از 3